براہ راست نشریات

جہازوں پر حملوں کا جواب، سینٹکام نے ایران پر فضائی وار کر دیا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
آبنائے ہرمز

آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر مبینہ ایرانی ڈرون حملوں کے بعد امریکہ نے ایران کے اندر فوجی اہداف پر فضائی حملے کیے، جبکہ تہران نے محفوظ جہاز رانی کو اپنی خودمختاری تسلیم کرنے سے مشروط کر دیا۔

آبنائے ہرمز میں ایک بار پھر کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں امریکہ نے ایک تجارتی جہاز پر حملے کے جواب میں ایران کے اندر فضائی کارروائیاں کیں، جبکہ تہران نے آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے مؤقف کو دوبارہ دہراتے ہوئے سخت انتباہ جاری کیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ ’سینٹکام‘ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی فضائیہ نے ایران کے اندر میزائل اور ڈرون ذخیرہ گاہوں کے علاوہ ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

 امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی 25 جون کو سنگاپور کے پرچم بردار تجارتی جہاز ’ایم وی ایور لاولی‘ پر مبینہ ایرانی ڈرون حملے کے جواب میں کی گئی۔

مزید پڑھیں

سینٹکام نے کہا کہ ایک شہری تجارتی جہاز کو نشانہ بنانا جنگ بندی کے معاہدے اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کی آزادی کی کھلی خلاف ورزی ہے، اور امریکی افواج آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے تحفظ اور ایران کے ساتھ طے شدہ معاہدوں پر عمل درآمد کی نگرانی جاری رکھیں گی۔

اس کارروائی سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف

 ممکنہ جواب کا اشارہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ آپ کو جلد معلوم ہو جائے گا۔ 

اس بیان کے کچھ ہی دیر بعد ایرانی ذرائع ابلاغ نے جنوبی ایران کے شہر سیریک میں زور دار دھماکے کی اطلاع دی، تاہم دھماکے کی وجہ فوری طور پر واضح نہیں کی گئی۔

ChatGPT Image 27 يونيو 2026، 01 56 55 ص

بعد ازاں صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر دعویٰ کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر 4 خودکش ڈرون حملے کیے، جن میں سے ایک ڈرون نے ایک بڑے تجارتی جہاز کو براہ راست نشانہ بنایا، جبکہ امریکی افواج نے دیگر تین ڈرون مار گرائے۔ 

انہوں نے اس کارروائی کو جنگ بندی کی ’سنگین خلاف ورزی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس اب بھی کچھ فوجی صلاحیت موجود ہے، مگر وہ پہلے جیسی نہیں رہی۔

دوسری جانب ایران نے ایک بار پھر واضح کیا کہ آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی صرف اسی صورت ممکن ہے جب ایران کی خودمختاری اور کردار کو تسلیم کیا جائے۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی بحری راستے کا تعین ایران کے ساتھ مکمل رابطے اور ہم آہنگی کے بغیر نہیں کیا جا سکتا، اور اگر متبادل راستے یا یکطرفہ فیصلے کیے گئے تو موجودہ بحری راستے معطل بھی کیے جا سکتے ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کا انتظام ایران اور عمان کے درمیان طے شدہ مفاہمتی فریم ورک کے مطابق ہونا چاہیے، اور خطے کی سلامتی بیرونی طاقتوں کی مداخلت کے بجائے علاقائی تعاون سے ہی یقینی بنائی جا سکتی ہے۔

آبنائے ہرمز پابندیاں

امریکی حکام کے مطابق حملہ عمانی ساحل کے قریب پیش آیا، جس کے نتیجے میں تجارتی جہاز کے پل ’بریج‘ کو نقصان پہنچا، تاہم عملے کا کوئی فرد زخمی نہیں ہوا۔ برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز UKMTO نے بھی اس نقصان کی تصدیق کی ہے۔

ان تازہ پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد میں کمی دیکھی گئی ہے، جس سے عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے خدشات ایک بار پھر بڑھ گئے ہیں۔