ایران نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تہران کی منظوری کے بغیر متبادل بحری راستوں سے گزرنے والے جہاز محفوظ تصور نہیں ہوں گے اور کسی بھی نقصان کی ذمہ داری جہاز مالکان، چارٹررز اور کپتانوں پر ہوگی۔
ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کے حوالے سے اپنا مؤقف مزید سخت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران کی منظوری اور اس کی خودمختاری کا احترام کیے بغیر کسی بھی جہاز کو محفوظ گزر کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
تہران نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی مقرر کردہ بحری گزرگاہوں سے ہٹ کر متبادل راستے اختیار کرنے والے جہاز اپنی ذمہ داری پر سفر کریں گے اور کسی بھی حادثے یا نقصان کی صورت میں ایران ذمہ دار نہیں ہوگا۔
مزید پڑھیں
ایران کے نائب وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کے لیے کسی بھی نئے فریم ورک یا بحری نظام کو ایران کے ساتھ مکمل رابطے اور ہم آہنگی کے تحت نافذ کرنا ہوگا، بصورت دیگر موجودہ بحری راستوں کی حیثیت معطل ہو سکتی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کا انتظام ایران اور
سلطنتِ عمان کے باہمی تعاون سے ہونا چاہیے، جیسا کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں درج ہے۔
وزارت کے مطابق خطے کا امن صرف علاقائی ممالک کے تعاون سے ہی یقینی بنایا جا سکتا ہے اور بیرونی طاقتوں کی مداخلت مسائل کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔
اسی بیان میں تہران نے گزشتہ روز جاری ہونے والے امریکا اور خلیجی ممالک کے مشترکہ بیان کو ’مداخلت پسند، غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
غیر منظور شدہ راستوں پر انشورنس بھی نہیں
دوسری جانب ایران کی جنرل آرگنائزیشن آف پورٹس اینڈ میری ٹائم سروسز، جو خلیج اور آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں کی نگران ہے، نے بھی سخت انتباہ جاری کیا۔
ادارے نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی جانب سے منظور شدہ بحری راستوں کے علاوہ کسی بھی متبادل گزرگاہ کو محفوظ راستہ تصور نہیں کیا جائے گا اور ان راستوں سے سفر کرنے والے جہازوں کو ایران کی جانب سے کسی قسم کی حفاظتی ضمانت حاصل نہیں ہوگی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر کوئی جہاز غیر مجاز راستہ اختیار کرتا ہے تو کسی بھی حادثے، تصادم یا نقصان کی صورت میں جہاز کے مالک، چارٹرر (کرایہ دار)، کپتان اور متعلقہ آپریٹرز مکمل طور پر ذمہ دار ہوں گے۔
ایرانی حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ ایسے جہازوں کو انشورنس کوریج یا میری ٹائم لائیبلٹی کلیمز سے متعلق تحفظ بھی حاصل نہیں ہوگا، جس کے باعث جہاز رانی کمپنیوں کے لیے مالی اور قانونی خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کی وارننگ
اس سے قبل جمعرات کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بھی خبردار کیا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہاز صرف اسی صورت محفوظ رہیں گے جب وہ ایران کی جانب سے مقرر کردہ بحری گزرگاہوں کی پابندی کریں۔
پاسداران نے اشارہ دیا تھا کہ غیر منظور شدہ راستوں پر سفر کرنے والے جہاز ممکنہ خطرات سے خود نمٹنے کے ذمہ دار ہوں گے۔
ایران کا دوٹوک اعلان: آبنائے ہرمز سے محفوظ گزر صرف تہران کی منظوری سے ممکن
تہران نے واضح کر دیا ہے کہ ایران کی منظوری، مقررہ بحری راستوں اور خودمختاری کے احترام کے بغیر کسی جہاز کو محفوظ گزر کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
بحری بحران کی بڑی تصویر
🚢 محفوظ گزر مشروط
ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو تہران کے ساتھ رابطے اور منظور شدہ راستوں کی پابندی کرنا ہوگی، ورنہ محفوظ گزر کی ضمانت نہیں دی جائے گی۔
⚠️ متبادل راستوں پر خطرہ
ایران نے خبردار کیا ہے کہ مقررہ بحری گزرگاہوں سے ہٹ کر سفر کرنے والے جہاز اپنی ذمہ داری پر جائیں گے، اور کسی حادثے کی صورت میں ایران ذمہ دار نہیں ہوگا۔
🤝 عمان کے ساتھ انتظام
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق آبنائے ہرمز کا انتظام ایران اور عمان کے تعاون سے ہونا چاہیے، جیسا کہ مفاہمتی یادداشت میں درج ہے۔
🛡️ انشورنس کا مسئلہ
ایرانی میری ٹائم ادارے نے کہا کہ غیر مجاز راستوں پر سفر کرنے والے جہازوں کو حفاظتی ضمانت، انشورنس تحفظ یا لائیبلٹی کلیمز میں سہولت حاصل نہیں ہوگی۔
🔥 فیصلہ کن نکتہ
ایران کا تازہ مؤقف صرف بحری راستوں کا تکنیکی معاملہ نہیں بلکہ آبنائے ہرمز پر تہران کے اسٹریٹجک کردار کا اعلان ہے، جس کے اثرات عالمی جہاز رانی، توانائی منڈیوں اور انشورنس کمپنیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔اہم نکات
عالمی تجارت پر ممکنہ اثرات
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے روزانہ عالمی تیل اور قدرتی گیس کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔
ایران کے حالیہ بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ تہران اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنے کردار کو مزید مضبوط انداز میں اجاگر کرنا چاہتا ہے، جبکہ اس مؤقف سے عالمی جہاز رانی، توانائی کی منڈیوں اور انشورنس کمپنیوں میں بھی تشویش بڑھنے کا امکان ہے۔