بحرین کے دارالحکومت منامہ میں خلیجی تعاون کونسل ’جی سی سی‘ کے وزرائے خارجہ اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے درمیان مشترکہ وزارتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایران سے متعلق حالیہ پیش رفت، علاقائی سلامتی اور امریکا و خلیجی ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیہ میں خلیجی تعاون کونسل نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی تمام سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ خلیجی ممالک کے لیے امن، استحکام اور اہم سمندری راستوں میں آزادانہ بحری آمدورفت کا تحفظ بنیادی ترجیح ہے۔
مزید پڑھیں
کونسل نے کہا کہ اجلاس میں ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے بعد پیدا ہونے والی علاقائی صورتحال، ثالثی کی کوششوں اور کشیدگی میں کمی کے امکانات کا جائزہ لیا گیا، جبکہ خطے میں امن و استحکام کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر بھی غور کیا گیا۔
جی سی سی نے اس بات پر زور دیا کہ مستقبل میں ہونے والا کوئی بھی
علاقائی معاہدہ یا مفاہمت خلیجی ممالک کے سلامتی کے مفادات کو مدنظر رکھے اور ایسا فریم ورک تشکیل دے جو خطے کے استحکام، اقتصادی ترقی اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
اجلاس میں امریکا اور خلیجی ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید وسعت دینے، موجودہ سکیورٹی اور سیاسی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ تعاون بڑھانے اور سفارتی ذرائع سے کشیدگی کم کرنے کے اقدامات پر بھی اتفاقِ رائے کا اظہار کیا گیا۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں، جبکہ خلیجی ممالک مسلسل اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ علاقائی تنازعات کا پائیدار حل صرف مذاکرات، سفارت کاری اور سیاسی مفاہمت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔