براہ راست نشریات

سعودی سیاحت میں زبردست نمو، 31 ہزار نئے کمروں کی تیاری

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
فوکس کی ورڈ: سعودی سیاحت 2026

کاؤینڈش میکسویل کی تازہ رپورٹ کے مطابق 2026 کے پہلے 5 ماہ کے دوران سعودی عرب کا سیاحت اور مہمان نوازی کا شعبہ علاقائی جغرافیائی کشیدگی اور بین الاقوامی سفری رکاوٹوں کے باوجود مضبوط رہا۔
اگرچہ پہلی سہ ماہی میں غیرملکی سیاحوں کی تعداد اور ان کے اخراجات میں کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم مقامی سیاحت، حج و عمرہ اور جاری سرمایہ کاری نے شعبے کی نمو کو سہارا دیا۔
رپورٹ کے مطابق آئندہ برسوں میں مکہ مکرمہ، جدہ اور ریاض میں 31 ہزار سے زائد نئے ہوٹل کمروں کا اضافہ متوقع ہے۔

ریاض میں 22 سے 24 جون 2026 کے دوران منعقد ہونے والی ہاسپیٹیلٹی سمٹ کے موقع پر جاری کیے گئے کاؤینڈش میکسویل کے تازہ ترین جائزہ رپورٹ کے مطابق، جنوری سے مئی 2026 کے دوران سعودی عرب کا سیاحت اور مہمان نوازی کا شعبہ علاقائی جغرافیائی کشیدگی اور بین الاقوامی سفری رکاوٹوں کے باوجود اپنی مضبوطی برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔ 

اس استحکام کی بنیادی وجہ مقامی سیاحت کی مضبوط کارکردگی اور حج و عمرہ سے وابستہ مسلسل طلب رہی۔

رپورٹ کے مطابق 2026 کی پہلی سہ ماہی میں سعودی عرب آنے والے بین الاقوامی زائرین کی تعداد سالانہ بنیاد پر 13 فیصد کم ہو کر 83 لاکھ تک پہنچ گئی، جبکہ بیرون ملک سے آنے والے سیاحوں کے اخراجات 7 فیصد کمی کے ساتھ تقریباً 48 ارب سعودی ریال ریکارڈ کیے گئے۔

مزید پڑھیں

اس کمی کے باوجود بین الاقوامی سیاح بدستور سیاحتی اخراجات کا سب سے بڑا ذریعہ رہے اور مجموعی اخراجات میں ان کا حصہ تقریباً 58 فیصد رہا، جو سعودی سیاحتی صنعت میں عالمی منڈی کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس کمی کی ایک بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں گزشتہ چند ماہ کے دوران پیدا ہونے والی جغرافیائی کشیدگی تھی، جس کے 

باعث علاقائی فضائی سفر متاثر ہوا، بعض عالمی ایئرلائنز نے اپنی پروازیں معطل کیں اور بین الاقوامی مسافروں میں احتیاط کا رجحان بڑھ گیا۔

تاہم مقامی سیاحت نے اس کمی کے اثرات کو بڑی حد تک کم کیا۔ 

سعودی شہریوں اور مقیم افراد نے مملکت کے اندر سفر کا سلسلہ جاری رکھا، جس سے مختلف شہروں میں ہوٹلوں، ریزورٹس اور سیاحتی مقامات کو بھرپور سہارا ملا۔

ChatGPT Image 23 يونيو 2026، 02 24 17 م

حج و عمرہ شعبے کا مضبوط سہارا

رپورٹ میں زور دیا گیا کہ مذہبی سیاحت اب بھی سعودی عرب کے سیاحتی شعبے کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ 

حج و عمرہ مجموعی سیاحتی سرگرمیوں کا تقریباً 20 فیصد اور بین الاقوامی سیاحت کا قریب 40 فیصد حصہ تشکیل دیتے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں ہوٹلوں کی طلب ملک بھر میں سب سے زیادہ رہی، جس کی وجہ حجاج اور معتمرین کی بڑھتی ہوئی تعداد اور حرمین شریفین سے متعلق انفراسٹرکچر اور خدمات میں جاری حکومتی سرمایہ کاری ہے۔

رپورٹ کے مطابق مئی کے دوران حج سیزن کے اثرات مکہ مکرمہ کے ہوٹلوں کی کارکردگی میں واضح طور پر نظر آئے، جبکہ مدینہ منورہ میں اس سیزن کے مکمل اثرات جون کے اعداد و شمار میں مزید نمایاں ہونے کی توقع ہے۔ 

```html
⚡ سعودی سیاحت رپورٹ 2026

سعودی عرب کا سیاحتی و مہمان نوازی کا شعبہ جغرافیائی کشیدگی کے باوجود مستحکم

مقامی سیاحت، حج و عمرہ اور مسلسل حکومتی سرمایہ کاری نے 2026 کے دوران سعودی عرب کے سیاحتی شعبے کو مستحکم رکھا اور عالمی چیلنجز کے باوجود ترقی کی رفتار برقرار رکھی۔

🌍
8.3M

بین الاقوامی زائرین

2026 کی پہلی سہ ماہی میں 83 لاکھ سیاح۔

💰
48B

سعودی ریال

بین الاقوامی سیاحوں کے اخراجات۔

📊
58%

اخراجات میں حصہ

عالمی سیاح بدستور سب سے بڑا ذریعہ۔

🕋
40%

مذہبی سیاحت

بین الاقوامی سیاحت میں حج و عمرہ کا حصہ۔

🕋 حج و عمرہ کا مضبوط سہارا

مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ

حجاج اور معتمرین کی مسلسل آمد کے باعث دونوں مقدس شہروں میں ہوٹلوں کی طلب ملک بھر میں سب سے زیادہ رہی۔

مقامی سیاحت کی مضبوط کارکردگی

سعودی شہریوں اور مقیم افراد کے اندرونِ ملک سفر نے عالمی سیاحوں میں کمی کے اثرات کو کافی حد تک کم کیا۔

🏨 نئے ہوٹل منصوبے

🏙️

مکہ مکرمہ

83,500 سے زائد ہوٹل کمروں تک توسیع متوقع۔

🌊

جدہ

12 ہزار سے زائد نئے کمروں کا اضافہ متوقع۔

🏢

ریاض

کاروباری سیاحت کے باعث 32 ہزار سے زائد کمروں کی پیش گوئی۔

مزید ترقی کی توقع

رپورٹ کے مطابق علاقائی استحکام اور عالمی پروازوں کی بحالی کی صورت میں سال کے دوسرے نصف میں مزید مضبوط نمو متوقع ہے۔

```

31 ہزار سے زائد نئے ہوٹل کمرے

سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاسی کرتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا کہ مملکت میں ہوٹلنگ کے شعبے میں تیزی سے توسیع جاری ہے۔

مکہ مکرمہ اس حوالے سے سرفہرست ہے، جہاں ہوٹل کمروں کی تعداد موجودہ 64,300 سے بڑھ کر 83,500 سے زائد ہونے کی توقع ہے، یعنی 19 ہزار سے زیادہ نئے کمروں کا اضافہ ہوگا۔

اسی طرح جدہ میں 12 ہزار سے زائد نئے ہوٹل کمروں کا اضافہ متوقع ہے، جس کے بعد شہر کی مجموعی ہوٹل گنجائش 28 ہزار کمروں سے تجاوز کر جائے گی۔

ریاض میں بھی کاروباری سیاحت، کانفرنسوں اور عالمی تقریبات کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث ہوٹل کمروں کی تعداد 32 ہزار سے زیادہ ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

ChatGPT Image 23 يونيو 2026، 02 48 01 م

سال کے دوسرے نصف میں مزید بہتری کی توقع

کاؤینڈش میکسویل نے پیش گوئی کی ہے کہ 2026 کے دوسرے نصف حصے میں سعودی عرب کے سیاحت اور مہمان نوازی کے شعبے میں مزید بہتری دیکھنے میں آئے گی، خاص طور پر اگر علاقائی صورتحال مستحکم ہوتی ہے اور عالمی ایئرلائنز اپنی پروازیں دوبارہ بحال کرتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مقامی سیاحت کی مسلسل نمو، مذہبی سیاحت کی مضبوطی اور سیاحتی و ہوٹلنگ انفراسٹرکچر میں جاری سرمایہ کاری سعودی عرب کو تیز رفتار بحالی اور طویل المدتی ترقی کے لیے مضبوط پوزیشن میں رکھتی ہے۔

رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا کہ وژن 2030 اور بڑے ترقیاتی منصوبوں کی بدولت سعودی عرب دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی سیاحتی اور مہمان نوازی کی منڈیوں میں اپنی پوزیشن مزید مستحکم کر رہا ہے۔