انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (آئی اے ٹی اے) نے امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدہ جیو پولیٹیکل صورتحال کے دوران سعودی عرب کی جانب سے فضائی ٹریفک کی انتہائی موثر اور پیشہ ورانہ مینجمنٹ کی بھرپور تعریف کی ہے۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق عالمی ادارے نے سعودی ایوی ایشن سسٹم کی اعلیٰ آپریشنل تیاریوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ مملکت نے مشکل ترین حالات میں بھی پروازوں کی روانی کو متاثر نہیں ہونے دیا۔
تنظیم نے کہا کہ یہ تمام آپریشنز عالمی معیار کے مطابق حفاظت اور کارکردگی کے اعلیٰ ترین اصولوں پر مبنی رہے۔
سعودی عرب نے جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے فضائی تعطل کے
بعد مختلف علاقوں کے پھنسے ہوئے مسافروں کی سہولت کے لیے ہنگامی رسپانس پلان فعال کیا۔
اس دوران مملکت کے ہوائی اڈے خلیجی ایئرلائنز اور بین الاقوامی مسافروں کے لیے مکمل طور پر کھول دیے گئے۔
خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے دارالحکومتوں میں شہری تنصیبات اور ہوائی اڈوں پر ایرانی حملوں کے باوجود سعودی عرب نے متبادل سفری حل فراہم کیے۔
اس اقدام کا مقصد مسافروں کو ان کی منزلوں تک محفوظ طریقے سے پہنچانے کے عمل کو یقینی بنانا تھا۔
سعودی ایئر نیویگیشن سروسز (SANS) کو اس بحرانی دور میں غیر معمولی کارکردگی پر آئی اے ٹی اے کی جانب سے تعریفی خط اور اعزازی شیلڈ پیش کی گئی ہے۔
عالمی ادارے نے فضائی ٹریفک میں اضافے کے باوجود آپریشنز کو کامیابی سے سنبھالنے کا اعتراف کیا ہے۔
آئی اے ٹی اے کے مطابق سعودی کمپنی نے فضائی حدود کو منظم کرنے اور پروازوں کے بہاؤ کو دوبارہ ترتیب دینے میں غیر معمولی مہارت دکھائی۔
اس پیشہ ورانہ طرز عمل سے ایئر لائنز پر پڑنے والے آپریشنل اثرات کو کم کرنے میں بڑی مدد ملی۔
اعداد و شمار کے مطابق سعودی ایئر نیویگیشن سروسز نے یکم جنوری 2026 سے 15 جون تک مملکت کی فضائی حدود میں 4 لاکھ 60 ہزار سے زائد پروازوں کی نگرانی کی۔
یہ بھاری ٹریفک جدید ترین نیویگیشن، مواصلاتی اور مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے کنٹرول کی گئی۔
اس مشن کی تکمیل کے لیے 970 سے زائد ایئر ٹریفک کنٹرولرز اور 420 انجینئرز و ٹیکنیشنز 24 گھنٹے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
ان ماہرین کی انتھک محنت نے سعودی فضائی حدود میں پروازوں کی حفاظت اور روانی کو ممکن بنایا ہے۔