براہ راست نشریات

ہرمز کے گم شدہ لاکھوں بیرل، امریکی دعوے اور ٹینکر ڈیٹا آمنے سامنے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Strait of Hormuz oil exports

واشنگٹن روزانہ ڈیڑھ کروڑ بیرل خام تیل کی برآمد کا دعویٰ کر رہا ہے، مگر آزاد ڈیٹا میں 30 سے 50 لاکھ بیرل کا فرق ہے

امریکی وزیر توانائی کے مطابق مشرقِ وسطیٰ سے روزانہ تقریباً ڈیڑھ کروڑ بیرل خام تیل برآمد ہو رہا ہے۔
تاہم کیپلر اور ایل ایس ای جی کے ٹینکر ڈیٹا میں اس سے لاکھوں بیرل کم دکھائی دے رہے ہیں۔
یہ فرق بند ٹریکنگ سسٹم، دوہرے شمار یا سیاسی بیانیے کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔

OVERSEAS POST  |  PREMIUM LEAD STORY

واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ سے روزانہ تقریباً ڈیڑھ کروڑ بیرل خام تیل نکل رہا ہے، مگر جہازوں کی نگرانی کرنے والے اداروں کے اعداد اس سے 30 سے 50 لاکھ بیرل کم دکھا رہے ہیں۔ 

آخر یہ تیل کہاں گیا؟

آبنائے ہرمز میں ٹینکروں کی آمد و رفت کے ساتھ تیل کی اصل مقدار بھی معما بن گئی ہے۔ کرس رائٹ کے دعوے اور ٹینکر ڈیٹا میں روزانہ کئی ملین بیرل کا فرق واضح طور پر موجود ہے۔

کرس رائٹ نے 12 اگست کو کہا کہ امریکی فوج اور خلیجی اتحادیوں کی کوششوں سے آبنائے ہرمز سے نکلنے والے خام تیل کی سات روزہ اوسط تقریباً 90 لاکھ بیرل یومیہ ہو گئی ہے۔ 

ان کے مطابق نئی پائپ لائنوں اور متبادل برآمدی مراکز سے مزید 50 سے 70 لاکھ بیرل باہر جا رہا ہے۔ 

یوں خطے کی مجموعی برآمدات تقریباً ڈیڑھ کروڑ بیرل یومیہ بنتی ہیں۔

OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTگم شدہ تیل کے بیرل — اہم نکات
  • امریکی وزیر توانائی کے مطابق مشرقِ وسطیٰ سے تقریباً ڈیڑھ کروڑ بیرل یومیہ خام تیل نکل رہا ہے۔
  • !ایل ایس ای جی نے اگست کے پہلے 12 دنوں میں صرف 93 لاکھ 30 ہزار بیرل یومیہ برآمد ریکارڈ کی۔
  • امریکی دعوے اور تجارتی ڈیٹا کے درمیان 30 سے 50 لاکھ بیرل یومیہ کا خلا موجود ہے۔
  • ؟ممکنہ وجوہات میں بند اے آئی ایس سگنل، شپ ٹو شپ منتقلی کا دوہرا شمار اور سیاسی بیانیہ شامل ہیں۔
  • خریدار ممالک کے آئندہ چار سے چھ ہفتوں کے درآمدی اعداد اصل حقیقت واضح کرسکتے ہیں۔
overseaspost.net

اگر یہ دعویٰ درست ہے تو جنگ سے پہلے کی تقریباً 75 فیصد برآمدات بحال ہو چکی ہیں۔ 

لیکن بندرگاہوں، ٹینکروں اور خریدار ممالک کی نگرانی کرنے والے اداروں کو اتنی بڑی بحالی دکھائی نہیں دے رہی۔

مزید پڑھیں

ٹینکر ڈیٹا کیا بتاتا ہے؟

کموڈیٹی ڈیٹا کمپنی کیپلر کے مطابق 27 جولائی سے شروع ہونے والے ہفتے میں آبنائے ہرمز سے صرف 27 لاکھ 70 ہزار بیرل یومیہ خام تیل نکلا۔ 

3 اگست سے شروع ہونے والے اگلے ہفتے میں یہ مقدار مزید کم ہو کر 17 لاکھ 40 ہزار بیرل رہ گئی۔

ینبع، عمان اور فجیرہ کو شامل کرنے کے بعد بھی فرق برقرار ہے۔ 

ایل ایس ای جی کے مطابق اگست کے پہلے 12 دنوں میں خطے سے 93 لاکھ 30 ہزار بیرل یومیہ خام تیل برآمد ہوا، جبکہ جنگ سے پہلے یہ مقدار ایک کروڑ 87 لاکھ بیرل تھی۔ 

یوں امریکی دعوے اور تجارتی ڈیٹا کے درمیان 30 سے 50 لاکھ بیرل یومیہ کا خلا ہے۔ 

کیا تیل واقعی غائب ہے؟

لاکھوں بیرل تیل حقیقی طور پر غائب نہیں ہوا۔ 

اصل سوال یہ ہے کہ مختلف نظام اس کی نقل و حرکت کو یکساں طور پر کیوں نہیں دیکھ پا رہے۔ اس کی تین ممکنہ وجوہ ہیں۔

iOVERSEAS POST | FACT BOXآبنائے ہرمز: فیکٹ باکس
ہرمز سے امریکی دعویٰ
90 لاکھ بیرل یومیہ
متبادل راستوں کا دعویٰ
50 سے 70 لاکھ بیرل یومیہ
امریکی دعوے کے مطابق مجموعی برآمد
تقریباً ڈیڑھ کروڑ بیرل یومیہ
ایل ایس ای جی کا تخمینہ
93 لاکھ 30 ہزار بیرل یومیہ
جنگ سے پہلے برآمد
ایک کروڑ 87 لاکھ بیرل یومیہ
اعداد میں بنیادی خلا
30 سے 50 لاکھ بیرل یومیہ
2025 میں ہرمز سے مجموعی تیل کا بہاؤ
دو کروڑ نو لاکھ بیرل یومیہ
overseaspost.net

پہلی وجہ ٹریکنگ سسٹم بند رکھنے والے ٹینکر ہیں۔ 

خطرناک علاقوں میں جہاز اپنا آٹومیٹک آئیڈینٹی فکیشن سسٹم، یعنی اے آئی ایس، بند کر دیتے ہیں اور تجارتی نگرانی کے نقشوں سے عارضی طور پر غائب ہو جاتے ہیں۔

حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں حملوں کی دھمکیوں کے بعد سعودی عرب کی ینبع بندرگاہ سے روانہ ہونے والے کئی ٹینکروں نے اپنے سگنل بند رکھے۔ 

وورٹیکسا کے مطابق ینبع کی حالیہ تمام لوڈنگ ٹریکنگ کے بغیر ہوئی، جبکہ کیپلر کا کہنا ہے کہ سعودی مغربی ساحل کی حالیہ لوڈنگ کا تقریباً 70 فیصد مسلسل اے آئی ایس ریکارڈ میں موجود نہیں۔

اسی لیے ینبع کی برآمدات کے اندازے ساڑھے آٹھ لاکھ سے 23 لاکھ 80 ہزار بیرل یومیہ تک رہے۔ 

ٹینکر ٹریکنگ بے خطا نہیں اور جنگ میں اس میں نمایاں خلا پیدا ہو سکتا ہے۔

دوسری ممکنہ وجہ دوہرا شمار ہے۔ 

سمندر میں ایک ٹینکر سے دوسرے ٹینکر کو تیل منتقل کیا جائے تو اصل اور منتقل شدہ کھیپ کو الگ الگ برآمد سمجھا جا سکتا ہے۔ 

رائٹرز کے توانائی کالم نگار کلائیڈ رسل کے مطابق امریکی حساب میں بعض شپ ٹو شپ منتقلیوں کا دو مرتبہ شامل ہونا موجودہ فرق کی سب سے ممکنہ وجہ ہے۔

OVERSEAS POST | ANALYSISیہ ڈیٹا خلا کیوں اہم ہے؟

یہ صرف حساب کا اختلاف نہیں؛ اسی ڈیٹا پر قیمتوں، سپلائی، انشورنس اور درآمدی اخراجات کے فیصلے قائم ہوتے ہیں:

عالمی منڈیبرآمد کم ہونے کی صورت میں سپلائی تنگ، جنگی رسک پریمیم زیادہ اور خام تیل کی قیمتیں دباؤ میں رہ سکتی ہیں۔
سعودی برآمداتہرمز سے بچنے کے لیے ینبع کا راستہ موجود ہے، مگر بحیرہ احمر کے خطرات اور بند سگنل درست حساب مشکل بناتے ہیں۔
پاکستانی معیشتمہنگا تیل درآمدی بل، روپے، ٹرانسپورٹ اخراجات اور عمومی مہنگائی پر اضافی دباؤ ڈال سکتا ہے۔
بنیادی تجزیہ: لاکھوں بیرل شاید حقیقت میں غائب نہیں ہوئے؛ مسئلہ یہ ہے کہ جنگی حالات میں ان کا قابلِ اعتماد حساب غائب ہوگیا ہے۔
overseaspost.net

تیسرا اور زیادہ حساس امکان سیاسی بیانیے کا ہے۔ 

واشنگٹن زیادہ برآمدات دکھا کر یہ تاثر دینا چاہتا ہو کہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کی صورتحال قابو میں کر لی ہے اور توانائی منڈی معمول کی طرف لوٹ رہی ہے۔ 

اس امکان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی، لیکن امریکی محکمہ توانائی نے ان جہازوں، کھیپوں اور بندرگاہوں کی تفصیل بھی جاری نہیں کی جن پر ڈیڑھ کروڑ بیرل کا دعویٰ قائم ہے۔ 

متبادل پائپ لائنوں کی حقیقت

 کے مطابق 2025 کی پہلی ششماہی میں ہرمز سے دو کروڑ 9 لاکھ بیرل یومیہ تیل گزرتا تھا۔ سعودی عرب اور امارات کی متبادل پائپ لائنیں تقریباً 47 لاکھ بیرل یومیہ لے جا سکتی ہیں۔

لیکن گنجائش اور حقیقی برآمد ایک نہیں۔ 

اس کے لیے ذخیرہ، بندرگاہ، خالی ٹینکر اور محفوظ راستہ ضروری ہیں۔ 

اس لیے متبادل راستوں سے 50 سے 70 لاکھ بیرل نکلنے کا امریکی دعویٰ مزید شواہد مانگتا ہے۔

منڈی پر دباؤ برقرار

 جولائی کے آغاز میں مشرقِ وسطیٰ کی تیل لوڈنگ وقتی طور پر دو کروڑ بیرل یومیہ تک پہنچی، مگر مہینے کے آخر میں دوبارہ ایک کروڑ 20 لاکھ بیرل رہ گئی۔ 

جولائی میں خطے کی پیداوار جنگ سے پہلے کے مقابلے میں 83 لاکھ بیرل یومیہ کم تھی۔

13 اگست کو برینٹ تقریباً 87.32 ڈالر فی بیرل تھا۔ 

ہرمز سے محدود آمدورفت اب بھی قیمتوں کو سہارا دے رہی ہے۔

✓?OVERSEAS POST | VERIFIEDکیا مصدقہ ہے، کیا واضح نہیں؟

مصدقہ نکات

  • امریکی وزیر توانائی نے تقریباً ڈیڑھ کروڑ بیرل یومیہ کا دعویٰ کیا ہے۔
  • کیپلر اور ایل ایس ای جی کے اعداد امریکی دعوے سے نمایاں طور پر کم ہیں۔
  • ینبع کی متعدد حالیہ لوڈنگ بند اے آئی ایس سگنلز کے ساتھ ہوئی ہے۔
  • ہرمز سے بچنے والی سعودی اور اماراتی پائپ لائنوں کی گنجائش محدود ہے۔

تاحال غیر واضح

  • امریکی محکمہ توانائی نے ڈیڑھ کروڑ بیرل کا حساب کیسے لگایا؟
  • کیا بند سگنل پورے 30 سے 50 لاکھ بیرل کے خلا کی وضاحت کرتے ہیں؟
  • کیا شپ ٹو شپ منتقلیوں کو دو مرتبہ شمار کیا گیا؟
  • منزل پر پہنچنے والے ٹینکروں کا ڈیٹا امریکی دعوے کی تصدیق کرے گا؟

اہم احتیاط: سیاسی بیانیے کا امکان ایک تجزیاتی مفروضہ ہے؛ دستیاب شواہد ابھی جان بوجھ کر غلط اعداد دینے کو ثابت نہیں کرتے۔

overseaspost.net

سعودی عرب اور پاکستان کے لیے اہمیت

سعودی عرب مشرقی علاقوں کا تیل پائپ لائن سے ینبع پہنچا کر ہرمز کے خطرے کو کم کر سکتا ہے، لیکن باب المندب اور بحیرہ احمر کے خطرات نے اس راستے کو بھی مشکل بنا دیا ہے۔ ٹینکروں کے سگنل بند ہونے سے برآمدات جاری رہنے کے باوجود ان کی درست مقدار معلوم نہیں ہوتی۔

پاکستان کے لیے یہ فرق براہِ راست اہم ہے۔ 

اگر امریکی اعداد درست ہیں تو سپلائی کی بحالی قیمتوں پر دباؤ کم کر سکتی ہے۔ 

اگر ٹینکر ڈیٹا حقیقت کے قریب ہے تو محدود سپلائی، مہنگی انشورنس اور طویل راستے پاکستان کے درآمدی بل، روپے، ٹرانسپورٹ اخراجات اور مہنگائی پر دباؤ بڑھا سکتے ہیں۔

1′OVERSEAS POST | QUICK READایک منٹ میں پوری کہانی

امریکی وزیر توانائی کا کہنا ہے کہ ہرمز اور متبادل راستوں سے مشرقِ وسطیٰ کا تقریباً ڈیڑھ کروڑ بیرل یومیہ خام تیل عالمی منڈی تک پہنچ رہا ہے۔

مگر ٹینکر ٹریکنگ اداروں کے اعداد اس دعوے سے 30 سے 50 لاکھ بیرل کم ہیں۔ ممکنہ وجوہات بند ٹریکنگ سگنل، دوہرا شمار یا سیاسی طور پر بہتر تصویر پیش کرنا ہوسکتی ہیں۔

حقیقت خریدار ممالک کے درآمدی اعداد سے سامنے آئے گی۔ اگر دعویٰ درست ہے تو آئندہ چار سے چھ ہفتوں میں ایشیائی بندرگاہوں پر تیل کی آمد واضح طور پر بڑھنی چاہیے۔

overseaspost.net

حقیقت کیسے سامنے آئے گی؟

حتمی جواب ٹینکروں کی روانگی نہیں بلکہ ان کی منزلوں پر آمد دے گی۔ 

اگر واقعی روزانہ ڈیڑھ کروڑ بیرل نکل رہا ہے تو آئندہ 4 سے 6 ہفتوں میں چین، بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا کے درآمدی اعداد میں واضح اضافہ نظر آنا چاہئے۔

اگر ایسا نہ ہوا تو امریکی حساب میں دوہرے شمار یا سیاسی طور پر بہتر تصویر پیش کرنے کا امکان مضبوط ہوگا۔ 

فی الحال لاکھوں بیرل تیل شاید غائب نہیں ہوئے، لیکن ان کا قابلِ اعتماد حساب ضرور غائب ہے۔

OVERSEAS POST | SOURCESاصل اور معتبر ذرائع

امریکی دعوے، تجارتی ٹریکنگ ڈیٹا اور ادارہ جاتی تخمینوں کو الگ رکھتے ہوئے صرف قابلِ نسبت معلومات شامل کی گئی ہیں۔

SOURCES • overseaspost.net