خلیج میں جنگ کا سب سے بڑا خطرہ صرف تیل کی تنصیبات یا آبنائے ہرمز نہیں۔
کروڑوں لوگوں کو پینے کا پانی فراہم کرنے والے ڈی سیلینیشن پلانٹس بھی اب سکیورٹی بحران کے مرکز میں آگئے ہیں۔ جولائی میں کویت کی بجلی اور پانی صاف کرنے والی تنصیبات کو ایرانی حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ اگست میں تہران کی جانب سے خلیجی ممالک کو دیئے گئے انتباہ میں پانی کے نظام کو بھی ممکنہ جوابی اہداف میں شامل کیا گیا۔
خلیج میں جنگ کا ذکر ہو تو ذہن فوراً تیل کے کنوؤں، ریفائنریوں، بندرگاہوں اور آبنائے ہرمز کی طرف جاتا ہے۔
لیکن حالیہ کشیدگی نے خطے کی ایک ایسی کمزوری کو نمایاں کردیا ہے جو شاید تیل سے بھی زیادہ حساس ہے: پینے کا پانی۔
کویت میں جولائی کے دوران بجلی پیدا کرنے اور سمندری پانی صاف کرنے والے متعدد پلانٹس کو حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔
کویتی وزارتِ بجلی، پانی اور قابلِ تجدید توانائی کے اپنے سرکاری ریکارڈ کے مطابق 17، 18، 19 اور 21 جولائی کو پاور اور واٹر ڈی سیلینیشن تنصیبات پر حملوں سے متعلق الگ الگ بیانات جاری کیے گئے۔
◆OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTخلیج میں پانی کی سلامتی — اہم نکات⌄
- ✓کویت میں جولائی 2026 کے دوران بجلی اور پانی صاف کرنے والی تنصیبات حملوں کی زد میں آئیں۔
- ✓قطر، کویت، عمان اور امارات پینے کے پانی کے لیے ڈی سیلینیشن پر بہت زیادہ منحصر ہیں۔
- ✓6 اگست کے ایرانی انتباہ میں پانی، بجلی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو ممکنہ اہداف میں شامل کیا گیا۔
- !خطرہ صرف پلانٹ تک محدود نہیں؛ بجلی، پمپنگ اسٹیشن، پائپ لائنیں اور ذخائر بھی اسی سپلائی چین کا حصہ ہیں۔
- ؟قطر اور دبئی نے بڑے اسٹریٹجک آبی ذخائر تعمیر کیے ہیں تاکہ ہنگامی حالات میں سپلائی کی لچک بڑھے۔
یہ محض ایک جنگی واقعہ نہیں تھا۔
اس نے ایک بنیادی سوال پیدا کردیا:
اگر خلیج کے بڑے ڈی سیلینیشن پلانٹس میں سے چند ایک طویل عرصے کے لیے بند ہوگئے تو شہروں کو پانی کہاں سے ملے گا؟
مزید پڑھیں
خلیج کا پانی سمندر سے آتا ہے
خلیجی ممالک دنیا میں سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے والے سب سے بڑے مراکز میں شامل ہیں۔
رائٹرز کے مطابق قطر پینے کے پانی کے لیے عملی طور پر مکمل طور پر ڈی سیلینیشن پر منحصر ہے، کویت کی تقریباً 90 فیصد رہائشی پانی کی ضروریات صاف کیے گئے سمندری پانی سے پوری ہوتی ہیں، عمان میں
یہ تناسب تقریباً 86 فیصد ہے جبکہ متحدہ عرب امارات میں 80 فیصد سے زیادہ پینے کا پانی ڈی سیلینیشن سے حاصل ہوتا ہے۔
بحرین نے 2016 میں اپنی معمول کی پانی کی فراہمی کو مکمل طور پر ڈی سیلینیشن پر منتقل کردیا تھا جبکہ زیر زمین پانی کو ہنگامی حالات کے لیے محفوظ رکھا گیا۔
سعودی عرب کا معاملہ نسبتاً مختلف ہے کیونکہ مملکت کے پاس زیر زمین پانی کے ذخائر بھی موجود ہیں اور جغرافیائی رقبہ دوسرے خلیجی ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
اس کے باوجود 2023 میں سعودی عرب میں تقسیم کیے جانے والے پانی کا تقریباً نصف ڈی سیلینیشن سے حاصل ہوا تھا۔
iOVERSEAS POST | FACT BOXخلیج کا پانی: فیکٹ باکس⌄
- موضوع
- Gulf Water Security & Desalination
- بنیادی نظام
- قومی واٹر، بجلی اور ڈی سیلینیشن ادارے
- قطر
- قطر: تقریباً مکمل انحصار
- کویت
- کویت: تقریباً 90٪ رہائشی پانی
- عمان
- عمان: تقریباً 86٪
- متحدہ عرب امارات
- امارات: 80٪ سے زیادہ پینے کا پانی
- سعودی عرب
- سعودی عرب: تقسیم شدہ پانی کا تقریباً نصف
سعودی واٹر اتھارٹی کے موجودہ اعداد و شمار اس نظام کے حجم کا اندازہ دیتے ہیں:
اس کے مطابق مملکت میں یومیہ 11.5 ملین مکعب میٹر سے زیادہ صاف پانی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
یعنی خلیج کے جدید شہروں کی زندگی صرف تیل سے نہیں، بڑے پیمانے پر سمندر سے نکالے جانے والے پانی سے بھی جڑی ہوئی ہے۔
کویت نے خطرے کو حقیقت بنتے دیکھا
کویت کی مثال اس لیے اہم ہے کیونکہ جو خطرہ برسوں تک سکیورٹی مطالعات کا حصہ تھا، وہ اب عملی شکل میں سامنے آچکا ہے۔
17 جولائی کو ایک پاور جنریشن اور واٹر ڈی سیلینیشن پلانٹ پر حملے کے بعد کویتی وزارت نے سرکاری بیان جاری کیا۔
اس کے اگلے دن ایک اور واقعہ رپورٹ ہوا، 19 جولائی کو پھر پلانٹ کو نشانہ بنانے کی اطلاع دی گئی اور 21 جولائی کو وزارت نے کہا کہ متعدد بجلی اور پانی صاف کرنے والی تنصیبات حملوں کی زد میں آئیں۔
یہی وجہ تھی کہ رائٹرز نے 21 جولائی کو اپنی تفصیلی رپورٹ میں سوال اٹھایا کہ خلیج کے ڈی سیلینیشن پلانٹس حملوں کے مقابلے میں کتنے محفوظ ہیں۔
خطرہ صرف اس لیے نہیں کہ پلانٹ ساحل کے قریب واقع ہوتے ہیں۔
اصل مسئلہ ان کا ارتکاز ہے۔
◎OVERSEAS POST | ANALYSISپانی کی سلامتی کیوں اہم ہے؟⌄
خلیج میں پانی کی فراہمی صرف ایک پلانٹ نہیں بلکہ کئی باہم جڑے نظاموں پر منحصر ہے:
خلیجی ممالک میں پانی کی بہت بڑی مقدار نسبتاً محدود تعداد میں بڑے پلانٹس سے پیدا ہوتی ہے۔
ان میں سے کئی ایسے مشترکہ کمپلیکس ہیں جو پانی کے ساتھ بجلی بھی پیدا کرتے ہیں۔
ایک ہی بڑی تنصیب کو شدید نقصان پہنچنے کی صورت میں پانی اور بجلی دونوں نظام متاثر ہوسکتے ہیں۔
6 اگست: خطرے نے نئی شکل اختیار کرلی
جولائی کے حملوں کے بعد شاید یہ تصور کیا جاسکتا تھا کہ خطرہ وقتی تھا۔
لیکن 6 اگست کو سامنے آنے والی معلومات نے صورتحال کو ایک نئی سطح پر پہنچادیا۔
خلیجی ممالک
پانی کے بڑے
ذخائر، متبادل
پلانٹس اور
ہنگامی سپلائی
سسٹم تیار
کررہے ہیں
رائٹرز نے ایرانی، خلیجی اور علاقائی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ تہران نے خلیجی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کے بنیادی ڈھانچے پر نئے حملے کیے تو جواب میں تیل کے مراکز، ریفائنریز، بجلی کے گرڈ، پانی کے نظام، ٹرانسپورٹ نیٹ ورک اور دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ پانی اب ممکنہ جنگی دباؤ کی فہرست میں واضح طور پر شامل ہے۔یہی اس رپورٹ کا سب سے اہم نیا پہلو ہے۔
خطرہ اب محض یہ نہیں کہ کوئی میزائل اتفاقاً کسی ڈی سیلینیشن پلانٹ کو نقصان پہنچا دے۔ پانی کا بنیادی ڈھانچہ خود علاقائی کشیدگی میں دباؤ کے ایک ممکنہ ہتھیار کے طور پر سامنے آرہا ہے۔
قطر شاید اس خطرے کو سب سے زیادہ سنجیدگی سے لینے والے ممالک میں شامل ہے کیونکہ اس کی پانی کی فراہمی کا تقریباً پورا نظام ڈی سیلینیشن سے وابستہ ہے۔
اسی لیے قطر نے بڑے اسٹریٹجک آبی ذخائر تعمیر کیے ہیں۔
قطر جنرل الیکٹرسٹی اینڈ واٹر کارپوریشن ’کهرماء‘ کے مطابق Water Strategic Mega Reservoirs منصوبے کی مجموعی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 1,500 ملین امپیریل گیلن تک رکھی گئی، تاکہ کسی ہنگامی صورتحال میں براہ راست پیداوار پر مکمل انحصار کم کیا جاسکے۔
✓?OVERSEAS POST | VERIFIEDکیا مصدقہ ہے، کیا ابھی واضح نہیں؟⌄
مصدقہ نکات
- کویت نے جولائی میں بجلی اور پانی کی تنصیبات پر حملوں سے متعلق سرکاری بیانات جاری کیے۔
- خلیجی ممالک میں ڈی سیلینیشن پینے کے پانی کا بنیادی ذریعہ ہے۔
- قطر کے بڑے اسٹریٹجک ذخائر کی منصوبہ بند صلاحیت 1,500 ملین امپیریل گیلن ہے۔
- دبئی نے زیرِ زمین اسٹریٹجک واٹر اسٹوریج کی بڑی صلاحیت تیار کی ہے۔
تاحال غیر واضح
- متعدد بڑے پلانٹس بیک وقت رکنے کی صورت میں ہر شہر کتنی دیر سپلائی برقرار رکھ سکے گا؟
- ہر ملک کے عملی ہنگامی ذخائر کتنے دن کے لیے کافی ہوں گے؟
- طویل حملوں میں پمپنگ اور ٹرانسمیشن نیٹ ورک کی لچک کتنی ہوگی؟
- علاقائی کشیدگی میں پانی کے نظام کو عملی طور پر کس سطح کا خطرہ لاحق ہوگا؟
اہم احتیاط: موجودہ شواہد پورے خلیج میں فوری پانی کے بحران کو ثابت نہیں کرتے؛ خطرہ اس وقت بڑھے گا جب متعدد اہم تنصیبات یا سپلائی نیٹ ورک طویل عرصے تک متاثر ہوں۔
یہ ایک اہم سبق ہے: اگر پانی پیدا کرنے والا پلانٹ بند ہوجائے تو اصل سوال یہ نہیں کہ متبادل پلانٹ کب چلے گا، بلکہ یہ ہے کہ شہر کے پاس پہلے سے کتنے دن کا پانی محفوظ ہے۔
دبئی: 90 دن کے ہنگامی ذخیرے کی حکمت عملی
متحدہ عرب امارات نے بھی اسی خطرے کے پیشِ نظر زیر زمین آبی ذخائر پر سرمایہ کاری کی ہے۔
دبئی الیکٹرسٹی اینڈ واٹر اتھارٹی کے مطابق اس کا Aquifer Storage and Recovery منصوبہ مکمل صلاحیت پر 6 ارب امپیریل گیلن پانی ذخیرہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا، جس سے ہنگامی حالات میں روزانہ 50 ملین امپیریل گیلن سے زیادہ پانی تقریباً 90 دن تک فراہم کیا جاسکتا ہے۔
دبئی کا جبل علی کمپلیکس اکیلا یومیہ تقریباً 490 ملین امپیریل گیلن، یعنی 2.23 ملین مکعب میٹر پانی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ اعداد ایک طرف خلیج کی تکنیکی طاقت ظاہر کرتے ہیں، لیکن دوسری طرف یہ بھی بتاتے ہیں کہ چند بہت بڑے مراکز کتنی بڑی آبادی کی زندگی سے جڑے ہوئے ہیں۔
بحرین بھی صلاحیت بڑھا رہا ہے
بحرین میں بھی نئی پیداواری صلاحیت شامل کرنے کی منصوبہ بندی جاری ہے۔
بحرین کی Electricity and Water Authority نے نئے سترہ Independent Water and Power Production Plant کے لیے عالمی ٹینڈر جاری کیا، جس میں تقریباً 30 ملین امپیریل گیلن یومیہ پینے کا پانی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھی گئی ہے۔
یہ منصوبے صرف بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے نہیں، زیادہ متنوع پیداواری نظام کا مطلب یہ بھی ہے کہ کسی ایک مرکز کی بندش پورے نیٹ ورک کو فوری طور پر مفلوج نہ کرے۔
1′OVERSEAS POST | QUICK READایک منٹ میں پوری کہانی⌄
پاکستان نے غیر ملکی میڈیا کے لیے نئے قواعد جاری کیے ہیں جن کے تحت قطر: تقریباً مکمل انحصار سے باہر رپورٹنگ کے لیے پیشگی این او سی درکار ہوگا۔
کویت میں جولائی کے حملوں نے دکھایا کہ پانی اور بجلی کی اہم تنصیبات بھی علاقائی کشیدگی سے مکمل طور پر محفوظ نہیں۔
ایران کے اگست کے انتباہ کے بعد پانی کا بنیادی ڈھانچہ خلیجی سکیورٹی کی بحث کے مرکز میں آگیا؛ اصل سوال یہ ہے کہ کئی اہم پلانٹس ایک ساتھ رکیں تو شہر کتنی دیر پانی برقرار رکھ سکتے ہیں؟
سعودی عرب کے لیے سب سے بڑا سوال
سعودی عرب میں خطرہ صرف ساحلی ڈی سیلینیشن پلانٹس تک محدود نہیں۔
مکہ، مدینہ، ریاض اور دوسرے اندرونی علاقوں تک پانی پہنچانے کے لیے وسیع پائپ لائنیں، پمپنگ اسٹیشن، بجلی کے نظام اور ذخیرہ کرنے کے مراکز ضروری ہیں۔
اسی لیے کسی جدید واٹر سسٹم کی حفاظت صرف پلانٹ کی حفاظت نہیں ہوتی۔
سمندر → ڈی سیلینیشن پلانٹ → بجلی → پمپنگ اسٹیشن → پائپ لائن → ذخیرہ → شہری نیٹ ورک
اس پوری زنجیر میں کسی اہم مقام پر بڑی رکاوٹ پانی کی فراہمی کو متاثر کرسکتی ہے۔
رائٹرز نے بھی اپنی جولائی کی رپورٹ میں اسی نظامی خطرے کی نشاندہی کی تھی: پانی کی پیداوار چند بڑے مراکز میں مرکوز ہونے اور بجلی و پانی کی مشترکہ تنصیبات کی وجہ سے ایک حملے کے اثرات دوسرے بنیادی نظاموں تک پھیل سکتے ہیں۔
تو کیا خلیج واقعی پانی کے بحران کے دہانے پر ہے؟
فی الحال ایسا کہنا درست نہیں ہوگا۔
خلیجی ممالک نے بڑے ذخائر، متعدد پلانٹس، متبادل پیداواری ذرائع، زیر زمین پانی، نئے ریورس اوسموسس پلانٹس اور ہنگامی منصوبوں پر اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔
قطر اور دبئی کے بڑے اسٹریٹجک ذخائر اس تیاری کی واضح مثال ہیں۔
خلیج پانی کے لیے سمندر پر کتنا منحصر ہے؟
لیکن کویت کے واقعات نے ایک حقیقت ضرور ثابت کردی ہے:
جدید خلیجی شہر پانی کے لیے ایسی صنعتی تنصیبات پر منحصر ہیں جنہیں جنگ سے مکمل طور پر الگ نہیں رکھا جاسکتا۔
اور 6 اگست کے ایرانی انتباہ کے بعد یہ سوال مزید سنجیدہ ہوگیا ہے، کیونکہ پانی کی تنصیبات کو اب کھلے طور پر ان اہداف میں شمار کیا جارہا ہے جو مستقبل کی کسی نئی کشیدگی میں خطرے میں آسکتے ہیں۔
خلیج نے کئی دہائیوں میں سمندر کو میٹھے پانی کے عظیم ذخیرے میں تبدیل کردیا۔
اب اگلا امتحان شاید یہ ہے کہ اگر جنگ اس سمندر سے پانی نکالنے والی مشینوں تک پہنچ جائے تو شہروں کو کتنی دیر محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔