کویتی وزارتِ بجلی و پانی اور قابلِ تجدید توانائی کی ترجمان انجینئر فاطمہ عباس جوہر حیات نے کہا ہے کہ ایرانی جارحیت کے تحت دشمن ڈرون سے بجلی اور پانی کے پلانٹس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس کے نتیجے میں بھاری مادی نقصان ہوا اور بجلی پیدا کرنے والے دو یونٹ بند ہوگئے تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔
مزید پڑھیں
سبق ویب سائٹ کے مطابق انہوں نے بتایا کہ فنی ٹیموں اور ایمرجنسی ٹیموں نے فوری طور پر ہنگامی منصوبوں کے تحت کام شروع کر دیا اور متعلقہ حکام کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ یہ یقینی بنایا کہ بجلی اور پانی کے نظام کی حفاظت اور استحکام برقرار رہے جو کہ سب سے زیادہ ترجیحی امور ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام فنی ٹیمیں 24 گھنٹے خدمات کی تسلسل اور
نقصانات کے اثرات کو کم کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں اور پانی کی پیداوار کے نظام اور نیٹ ورک کی حالت کی مسلسل نگرانی جاری ہے۔
دوسری طرف کویتی وزارتِ مالیات نے کہا ہے کہ کویت شہر میں وزارتی کمپلیکس کی عمارت کو دشمن ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں عمارت کو بھاری نقصان پہنچا۔
وزارت نے کہا ہے کہ 5 اپریل 2026 کو وزارتی کمپلیکس کے ملازمین کے لیے کام آن لائن ہوگا۔
اسی طرح کویت پٹرولیم کارپوریشن نے اطلاع دی ہے کہ سویخ علاقے میں تیل کے سیکٹر کے کمپلیکس میں ڈرون حملے کے بعد آگ لگ گئی۔
کارپوریشن نے بتایا کہ ایمرجنسی اور فائر بریگیڈ کی ٹیموں نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پانے کے لیے کام شروع کر دیا اور تمام کارروائیاں منظور شدہ ہنگامی منصوبوں کے مطابق جاری ہیں۔