12 راتوں کی بمباری کے بعد امریکا اور ایران روزمرہ زندگی کی شہ رگیں نشانہ بنانے کے قریب ہیں
امریکا اور ایران کی جنگ فوجی تنصیبات سے آگے بڑھ کر پلوں، بجلی گھروں اور توانائی کے مراکز تک پہنچنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
واشنگٹن مسلسل حملوں کے ذریعے تہران کو معاہدے پر مجبور کرنا چاہتا ہے، جبکہ ایران آبنائے ہرمز اور علاقائی حملوں کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کررہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان جاری محاذ آرائی اب محض فوجی تنصیبات، میزائل اڈوں اور ساحلی دفاعی نظام کو نشانہ بنانے تک محدود نہیں رہی۔
مسلسل 12 راتوں تک امریکی حملوں کے بعد جنگ کے اصول ایک زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، جہاں شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے اور جواب میں اسی نوعیت کی کارروائی کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔
یہ صورت حال ایسی وسیع جنگ کا دروازہ کھول سکتی ہے جو ایرانی سرحدوں سے نکل کر خطے میں تیل، گیس، بجلی، پانی اور بحری آمدورفت کی تنصیبات تک پھیل جائے۔
حالیہ دھمکیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اور تہران ایک نئی جنگی مساوات اختیار کرچکے ہیں:
ہر حملے کا براہِ راست جواب دیا جائے گا اور ہر جوابی کارروائی پہلے سے بڑے حملے کو جنم دے گی۔
اس خطرناک چکر میں سفارت کاری اب فوجی کارروائیوں کے متوازی راستہ نہیں رہی، بلکہ دباؤ ڈالنے کی حکمتِ عملی کا حصہ بن چکی ہے۔
⚡ اہم نکات کھولیں + بند کریں −
- امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل بارہویں رات فوجی حملے کیے۔
- میزائل و ڈرون گودام، فضائی دفاع، ساحلی نگرانی اور بحری صلاحیتیں اہداف میں شامل رہیں۔
- صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہر ایرانی بحری حملے کے جواب میں ایک پل یا بجلی گھر تباہ کرنے کی دھمکی دی۔
- ایران نے بنیادی ڈھانچے پر حملے کی صورت میں طاقتور اور فیصلہ کن جواب دینے کا اعلان کیا۔
- واشنگٹن فوجی دباؤ کے ذریعے تہران کو نئے معاہدے پر آمادہ کرنا چاہتا ہے۔
- آبنائے ہرمز کے ساتھ باب المندب میں کشیدگی عالمی تجارت کے لیے دوہرا خطرہ بن سکتی ہے۔
- فریقین کے فوجی دعوؤں اور نقصانات کی مکمل آزادانہ تصدیق ابھی ممکن نہیں۔
امریکا فضائی حملوں اور بحری ناکہ بندی کے ذریعے ایران کو معاہدے پر مجبور کرنا چاہتا ہے، جبکہ تہران اپنی میزائل صلاحیت اور آبنائے ہرمز پر جغرافیائی برتری کو امریکی شرائط کی قیمت بڑھانے کے لیے استعمال کررہا ہے۔
مزید پڑھیں
بمباری کے سائے میں سفارت کاری
فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم ’آسیان‘ کے اجلاس کے موقع پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے لیے سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ تہران ابھی معاہدہ کرنے کے لیے تیار نہیں اور اپنا مؤقف تبدیل نہ کرنے کی صورت میں اسے ’بھاری قیمت‘ ادا کرنا پڑے گی۔
روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کو مسلسل فوجی اور اقتصادی نقصان کا سامنا ہے اور اس کے لیے محاذ آرائی کی قیمت ’ہر رات اس وقت تک بڑھتی رہے گی جب تک وہ ہوش کے ناخن نہیں لیتی‘۔
انہوں نے ایران پر سابقہ معاہدوں کی پاسداری نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ تہران یا تو سمجھوتا طے ہونے کے بعد اس سے پیچھے ہٹ جاتا ہے یا اس کی شرائط تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
تاہم یہ واشنگٹن کا سرکاری مؤقف ہے اور اسے سابقہ مفاہمتوں کی ناکامی کے بارے میں کسی غیر جانب دار تحقیق کا حتمی نتیجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
روبیو کے بیانات کی اہمیت صرف ان کے سخت لہجے میں نہیں، بلکہ اس امریکی حکمتِ عملی میں ہے جو ان سے سامنے آتی ہے:
ایران پر فوجی دباؤ اس وقت تک جاری رکھا جائے جب تک معاہدے سے انکار کی قیمت اسے معاہدہ قبول کرنے سے زیادہ محسوس نہ ہونے لگے۔
واشنگٹن بظاہر مذاکرات کا دروازہ بند نہیں کررہا، مگر روزانہ حملوں اور بحری ناکہ بندی کے درمیان سفارت کاری کی پیشکش بھی کررہا ہے۔
یوں ایران کو معمول کے حالات میں مذاکرات کی دعوت نہیں دی جارہی بلکہ آگ کے سائے میں دو راستے دیے جارہے ہیں: امریکی شرائط پر سمجھوتا یا مزید نقصان۔
امریکا کا اعلانیہ مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ کرنا ہے۔
یہاں یہ فرق ضروری ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کی بات کی جارہی ہے، نہ کہ اسے پہلے سے موجود جوہری ہتھیاروں سے محروم کرنے کی۔
اب تک کوئی علانیہ اور حتمی ثبوت سامنے نہیں آیا کہ ایران کے پاس جوہری بم موجود ہے، جبکہ تہران اپنے جوہری پروگرام کو پُرامن قرار دیتا ہے۔
تہران کی جوابی مساوات
دوسری جانب ایران فوجی دباؤ کے سامنے پسپائی اختیار کرنے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتا۔ ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے اعلان کیا ہے کہ جب تک امریکا ایرانی بنیادی ڈھانچے اور ساحلی علاقوں پر حملے جاری رکھے گا، ایران کی جوابی کارروائیاں بھی جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج دشمن کے اختیار کیے جانے والے ہر ممکن منظرنامے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اس موقف کا واضح مطلب یہ ہے کہ ایران نے امریکی حکمتِ عملی کے مقابل ایک متبادل مساوات قائم کردی ہے:
ایرانی علاقوں پر فضائی حملے رکے بغیر خطے میں ایرانی جوابی کارروائیاں ختم نہیں ہوں گی۔
📌 فیکٹ باکس کھولیں + بند کریں −
دونوں فریق یہ سمجھتے ہیں کہ مزید دباؤ ہی دوسرے فریق کو پیچھے ہٹانے کا مؤثر ترین طریقہ ہے۔
واشنگٹن کو توقع ہے کہ ایرانی فوجی اور اقتصادی صلاحیتوں کو مسلسل نقصان پہنچانے سے تہران کی مزاحمت کمزور ہوجائے گی۔
اس کے برعکس ایران کا اندازہ ہے کہ امریکی فوجی نقصانات، بحری تجارت میں رکاوٹ اور توانائی کی بڑھتی قیمتیں ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف داخلی اور عالمی دباؤ میں اضافہ کریں گی۔
یہ متضاد اندازے بحران کے حل کو مزید مشکل بنارہے ہیں، کیونکہ کسی باقاعدہ معاہدے کے بغیر ایک قدم پیچھے ہٹنا بھی شکست تصور کیا جاسکتا ہے۔
ہر جہاز کے بدلے ایک پل یا بجلی گھر
کشیدگی اس وقت خطرناک حد تک بڑھ گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی کہ آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے نشانہ بنائے جانے والے ہر جہاز کے جواب میں امریکا ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو بمباری کرکے تباہ کردے گا۔
🇵🇰 پاکستان کے لیے کیا مطلب ہے؟ کھولیں + بند کریں −
- تیل مہنگا ہونے سے پاکستان کا درآمدی بل اور بجلی کی پیداواری لاگت بڑھ سکتی ہے۔
- ایندھن اور نقل و حمل کے اخراجات میں اضافے سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہوسکتی ہے۔
- خلیجی ممالک میں کشیدگی پاکستانی کارکنوں کے روزگار اور ترسیلاتِ زر کو متاثر کرسکتی ہے۔
- فضائی راستوں کی تبدیلی سے خلیج اور پاکستان کے درمیان ٹکٹ مہنگے ہوسکتے ہیں۔
- اسلام آباد کے لیے امریکا، ایران اور خلیجی شراکت داروں کے درمیان سفارتی توازن مشکل ہوسکتا ہے۔
- پاکستان کی ثالثی جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی میں مزید اہمیت اختیار کرسکتی ہے۔
ٹرمپ کے مطابق یہ کارروائی ہر اس حملے کے جواب میں کی جاسکتی ہے جو میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی دوسرے ہتھیار سے کیا گیا ہو۔
انہوں نے یہ امکان بھی مسترد نہیں کیا کہ تہران کے قریب واقع تنصیبات کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
اس دھمکی نے جنگ کا دائرہ ساحلی فوجی اہداف سے نکال کر شہری بنیادی ڈھانچے تک پھیلادیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جواب میں کہا کہ ایران یا اس کی بنیادی تنصیبات پر کسی بھی حملے کا ’طاقتور اور فیصلہ کن‘ جواب دیا جائے گا۔
ایرانی فوجی قیادت نے خبردار کیا کہ امریکی دھمکی پر عمل کی صورت میں خطے میں تیل، گیس، بجلی اور اقتصادی تنصیبات ایرانی حملوں کی زد میں آسکتی ہیں۔
یہی اس جنگ کا سب سے خطرناک موڑ ہے۔
میزائل گودام یا فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنانا فوجی اعتبار سے اس بجلی گھر یا پل پر حملے سے مختلف ہے جس پر لاکھوں شہریوں کی روزمرہ زندگی کا انحصار ہوتا ہے۔
اقتصادی اور شہری تنصیبات کو اہداف میں شامل کرنے سے ایران ان خلیجی ممالک میں اسی نوعیت کی تنصیبات پر حملے کرسکتا ہے جہاں امریکی فوج یا اڈے موجود ہیں۔
یوں خلیجی ریاستوں کو دوہرے خطرے کا سامنا ہوگا:
ایرانی حملوں کا براہِ راست امکان اور توانائی، پانی، بندرگاہوں اور تجارت میں خلل کے وسیع اقتصادی اثرات۔
12 راتیں اور 50 ہزار امریکی فوجی
امریکی سینٹرل کمانڈ ’سینٹ کام‘ کے مطابق 22 جولائی کو امریکی مشرقی ساحلی وقت کے مطابق رات ساڑھے 10 بجے ایران کے خلاف حملوں کا بارہواں مرحلہ مکمل کیا گیا۔
یہ کارروائی تقریباً 5 گھنٹے جاری رہی۔
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ حملوں میں ایرانی بحری صلاحیتوں، میزائل اور ڈرون ذخیرہ گاہوں، ساحلی نگرانی کے مراکز اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی فوج کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی جانب سے شہری ملاحوں اور تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کمزور کرنا ہے۔
امریکی کمانڈ نے دعویٰ کیا کہ جولائی کے دوران درجنوں ایرانی فوجی مقامات کو نشانہ بنانے کے ساتھ بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کردی گئی۔
اس دوران ایران کی بندرگاہوں میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے سے روکنے کے لیے 9 تجارتی جہازوں کا رخ تبدیل کرایا گیا جبکہ ایک جہاز کو ’غیرفعال‘ کیا گیا۔
سینٹ کام کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں 50 ہزار سے زیادہ امریکی فوجی ہائی الرٹ اور مکمل جنگی تیاری کی حالت میں موجود ہیں۔
تاہم یہ تمام اعداد و شمار امریکی فوج کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں۔
واشنگٹن نے ان 9 جہازوں کی مکمل شناخت یا دسویں جہاز کو غیر فعال کرنے کی نوعیت کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
اسی طرح سینٹ کام کی جاری کردہ ویڈیوز سے حملوں کے تمام مقامات، اہداف کی نوعیت اور ہونے والے نقصانات کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں۔
آبنائے ہرمز، تنازع کا مرکز
اگرچہ جوہری پروگرام سیاسی تنازع کی بنیادی وجہ ہے، لیکن آبنائے ہرمز موجودہ فوجی کشیدگی کا فوری مرکز بن چکی ہے۔
واشنگٹن اپنے حملوں کو تجارتی جہازوں کے تحفظ کی کارروائی قرار دیتا ہے، جبکہ تہران جہازوں کی آمد و رفت پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت کو ایک ایسی تزویراتی طاقت سمجھتا ہے جسے مفادات، سلامتی اور تیل کی برآمدات کی ضمانت کے بغیر ترک نہیں کیا جاسکتا۔
❗ یہ کیوں اہم ہے؟ کھولیں + بند کریں −
جنگ کا مرکز اب فوجی تنصیبات سے آگے بڑھ کر پلوں، بجلی گھروں اور اقتصادی مراکز تک پہنچنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام پر حملے صرف فوجی صلاحیت کو متاثر نہیں کرتے بلکہ اسپتالوں، کاروبار، ٹرانسپورٹ اور لاکھوں شہریوں کی روزمرہ زندگی بھی مفلوج کرسکتے ہیں۔
اگر ایران نے جواب میں خلیجی ممالک کی توانائی یا بنیادی تنصیبات کو نشانہ بنایا تو جنگ ایرانی حدود تک محدود نہیں رہے گی۔ اس سے تیل، فضائی سفر، سمندری تجارت اور ضروری اشیا کی قیمتیں متاثر ہوسکتی ہیں۔
اس لیے تنازع صرف جہازوں پر حملوں تک محدود نہیں، اصل جنگ اس سوال پر ہے کہ دنیا میں توانائی کی ترسیل کے اہم ترین راستوں میں شامل آبنائے ہرمز کے قواعد کون طے کرے گا۔
بحیرۂ احمر میں حوثیوں کی سرگرمیوں نے صورت حال کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔
روبیو نے ایران پر حوثیوں کو جنگ میں دھکیلنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان سے حملے روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اگر آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے ساتھ باب المندب میں بھی جہاز رانی متاثر ہوئی تو یہ دو ملکوں کی جنگ نہیں رہے گی، بلکہ عالمی تجارت اور تیل کی نقل و حمل کے دو انتہائی اہم بحری راستوں کا مشترکہ بحران بن جائے گی۔
بارہویں رات کے بعد کیا ہوگا؟
خطے کے سامنے اب 3 ممکنہ راستے ہیں۔
پہلا یہ کہ حملے موجودہ سطح پر جاری رہیں اور دونوں فریق مکمل جنگ کے بغیر ایک دوسرے کو تھکانے کی کوشش کریں۔
دوسرا اور خطرناک راستہ پلوں، بجلی گھروں اور توانائی کی تنصیبات کو اہداف میں شامل کرنا ہے، جس کے جواب میں ایران علاقائی بنیادی ڈھانچے پر وسیع حملے کرسکتا ہے۔
تیسرا امکان یہ ہے کہ ثالث ممالک فوجی دباؤ کو نئی سفارت کاری میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوجائیں اور پہلے مرحلے میں حملے روکنے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے انتظام پر اتفاق کرالیں۔
🌊 خلیجی ممالک کے لیے کیا مطلب ہے؟ کھولیں + بند کریں −
- امریکی اڈوں یا فوجی تنصیبات کی میزبانی کرنے والے ممالک ایرانی ردعمل کی زد میں آسکتے ہیں۔
- تیل، گیس، بجلی اور پانی صاف کرنے کے پلانٹس حساس اہداف بننے کا خدشہ ہے۔
- آبنائے ہرمز میں رکاوٹ خلیجی ممالک کی توانائی برآمدات کو متاثر کرسکتی ہے۔
- باب المندب میں کشیدگی متبادل بحری راستوں کے لیے بھی خطرہ پیدا کرے گی۔
- جہاز رانی، انشورنس اور تجارتی سامان کی نقل و حمل کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔
- علاقائی ممالک کو دفاعی تیاری، فضائی نگرانی اور اہم تنصیبات کی حفاظت مزید بڑھانا پڑسکتی ہے۔
لیکن بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ دونوں فریق اب بھی وقت کو اپنے حق میں سمجھ رہے ہیں۔ واشنگٹن کا خیال ہے کہ ہر رات کی بمباری ایران کی مزاحمتی صلاحیت کم کررہی ہے، جبکہ تہران سمجھتا ہے کہ جنگی اخراجات، بحری رکاوٹیں اور توانائی کی بڑھتی قیمتیں امریکا اور اس کے اتحادیوں پر دباؤ بڑھائیں گی۔
ان متضاد اندازوں کے درمیان جنگ ایک نہایت خطرناک سرحد کے قریب پہنچ رہی ہے:
ہتھیاروں سے آگے بڑھ کر روزمرہ زندگی کو نشانہ بنانے کی سرحد۔
اگر پلوں، بجلی گھروں اور توانائی کی تنصیبات کی جنگ شروع ہوگئی تو اسے ایرانی حدود تک محدود رکھنا اور اس کے اختتام کو قابو میں رکھنا آسان نہیں ہوگا۔
⚔️
اصل اور معتبر ذرائع
ایران پر مسلسل امریکی حملوں، آبنائے ہرمز، بنیادی ڈھانچے کو لاحق خطرات اور سفارتی مؤقف سے متعلق سرکاری و بین الاقوامی ذرائع
6 معتبر ذرائع
اصل اور معتبر ذرائع
ایران پر مسلسل امریکی حملوں، آبنائے ہرمز، بنیادی ڈھانچے کو لاحق خطرات اور سفارتی مؤقف سے متعلق سرکاری و بین الاقوامی ذرائع