براہ راست نشریات

سپلائی پلان جمع نہ کرانے پر 29 کار ساز کمپنیوں پر سعودی پابندی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
سعودی عرب گاڑیوں پر پابندی

سعودی اسٹینڈرڈز، میٹرولوجی اینڈ کوالٹی آرگنائزیشن ’ساسو‘ نے 29 کار ساز کمپنیوں کی نئی گاڑیوں کے سعودی عرب میں داخلے پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے۔
یہ فیصلہ ان کمپنیوں کی جانب سے 2026 کے لیے مطلوبہ سپلائی پلان مقررہ وقت میں جمع نہ کرانے کے باعث کیا گیا۔ پابندی صرف نئی ہلکی گاڑیوں پر لاگو ہوگی اور ضابطہ جاتی تقاضے مکمل ہونے پر ختم کی جا سکتی ہے۔

سعودی عرب کی سعودی اسٹینڈرڈز، میٹرولوجی اینڈ کوالٹی آرگنائزیشن ’ساسو‘ نے 29 کار ساز کمپنیوں کی نئی گاڑیوں کے ملک میں داخلے پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے۔ 

یہ فیصلہ ان کمپنیوں کی جانب سے 2026 کے لیے گاڑیوں کی سپلائی سے متعلق منصوبے مقررہ مدت کے اندر جمع نہ کرانے کے باعث کیا گیا ہے۔

ساسو نے ایک سرکلر میں واضح کیا کہ یہ اقدام ہلکی گاڑیوں کے لیے ایندھن کی بچت کے سعودی معیار ’سعودی سی اے ای ایف‘ Saudi CAEF کے نفاذ کے تحت اٹھایا گیا ہے۔ 

مزید پڑھیں

ادارے کے مطابق پابندی ان نئی ہلکی گاڑیوں پر لاگو ہوگی جن کا وزن 3.5 ٹن سے زیادہ نہیں اور جو مذکورہ کمپنیوں کی جانب سے سعودی عرب درآمد کی جائیں گی۔

ساسو کے مطابق پابندی عارضی نوعیت کی ہے اور اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک متعلقہ کمپنیاں مطلوبہ سپلائی پلان اور دیگر ضابطہ جاتی تقاضے مکمل نہیں کر لیتیں۔

تاہم ادارے نے واضح کیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ مدت رواں سال کے اختتام تک ہوگی۔

سپلائی پلان کیا ہوتا ہے؟

سپلائی پلان سالانہ دستاویز ہوتی ہے جس میں کار ساز کمپنیاں سعودی حکام کو آئندہ سال کے دوران سعودی مارکیٹ میں متوقع گاڑیوں کی تعداد، مختلف ماڈلز، ایندھن کی کھپت، انجن کی تفصیلات اور مجموعی ایندھن بچت کی اوسط سے متعلق معلومات فراہم کرتی ہیں۔

ChatGPT Image 17 يونيو 2026، 12 04 45 م

ان اعداد و شمار کی بنیاد پر ساسو اس بات کا جائزہ لیتی ہے کہ آیا متعلقہ کمپنی سعودی عرب کے ایندھن کی بچت اور ماحولیاتی معیارات پر پورا اتر رہی ہے یا نہیں۔ 

اس عمل کا مقصد ملک میں زیادہ مؤثر اور کم ایندھن استعمال کرنے والی گاڑیوں کو فروغ دینا اور کاربن اخراج میں کمی لانا ہے۔

پابندی کا سبب
سپلائی پلان
مقررہ وقت
میں جمع
نہ کرانا ہے

کن کمپنیوں کی گاڑیاں متاثر ہوں گی؟

جن کمپنیوں کی گاڑیوں کے داخلے پر عارضی پابندی عائد کی گئی ہے ان میں لکسجن موٹر، وولوو کارز، ہوزون نیو انرجی آٹوموبائل، ژینگ ژو نسان آٹوموبائل، ہاوٹال موٹر گروپ، گرین کار آٹو ٹیک، چونگ چنگ لیوان آٹوموبائل مینوفیکچرنگ، ٹی اے ایم یورپ، زوٹی انٹرنیشنل آٹوموبائل ٹریڈنگ، چائنا موٹر کارپوریشن، زیڈ ایکس آٹو، ہائیگر بس کمپنی، بیجنگ بورگ وارڈ آٹوموٹیو، کوروس آٹوموٹیو، لیفان انڈسٹری گروپ، شیامین گولڈن ڈریگن بس، شیامین کنگ لانگ یونائیٹڈ آٹوموٹیو انڈسٹری، برلینس آٹو انٹرنیشنل ٹریڈ کارپوریشن، ساؤتھ ایسٹ موٹر کارپوریشن، میک لارن، ٹاٹا موٹرز، فوٹون انٹرنیشنل ٹریڈ، ایس اے آئی سی میکسس آٹوموٹیو، سی ایچ ٹی سی موٹر، جیانگ شی ڈورسن آٹوموبائل، بی اے آئی سی ین شیانگ آٹوموبائل، باؤڈنگ چانگ آن بس مینوفیکچرنگ، ایس اے آئی سی جی ایم وولنگ آٹوموبائل اور ڈی ایف ایس کے موٹر شامل ہیں۔

کیا موجودہ گاڑی مالکان متاثر ہوں گے؟

فیصلے کا تعلق گاڑیوں کی حفاظت، معیار یا کسی تکنیکی خرابی سے نہیں ہے بلکہ صرف ضابطہ جاتی تقاضوں کی عدم تکمیل سے ہے۔ 

اس لیے سعودی عرب میں پہلے سے موجود ان کمپنیوں کی گاڑیوں کے مالکان معمول کے مطابق اپنی گاڑیاں استعمال کر سکیں گے، جبکہ سروس، وارنٹی اور اسپیئر پارٹس کی فراہمی بھی متاثر ہونے کا امکان نہیں ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ اقدام سعودی عرب کی اس وسیع پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت گاڑیوں کے شعبے میں ایندھن کی بچت، ماحولیاتی تحفظ اور درآمدی ضوابط پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے، تاکہ مقامی مارکیٹ میں فروخت ہونے والی گاڑیاں قومی معیار اور توانائی کی کارکردگی کے تقاضوں کے مطابق ہوں۔