ویزا کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں ڈیجیٹل مالیاتی لین دین کے رجحان میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں
صارفین اب نقد رقم اور چیک جیسے روایتی طریقوں کے بجائے ایپس کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ویزا کی جانب سے ’ڈیجیٹل مالیاتی لین دین کا فروغ 2025‘ کے عنوان سے جاری رپورٹ میں دنیا کے 20 ممالک کا جائزہ لیا گیا ہے۔
اس سروے میں 44 ہزار ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز کے ڈیٹا کا تفصیلی تجزیہ کر کے نتائج مرتب کیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں 67 فیصد صارفین نے رقم کی وصولی کے لیے ڈیجیٹل ایپلی کیشنز کے استعمال کو ترجیح دی ہے۔
یہ شرح گزشتہ سال کے مقابلے میں واضح طور پر زیادہ ہے، جو مملکت میں بڑھتے ڈیجیٹل رجحان کا اظہار ہے۔
سعودی صارفین کی جانب سے ڈیجیٹل ایپس کے انتخاب کی بڑی وجوہات سہولت اور تحفظ بتائی گئی ہیں۔
سروے کے تقریباً 47 فیصد شرکا کا ماننا ہے کہ ڈیجیٹل ذرائع سے رقم کی منتقلی زیادہ محفوظ، نجی اور تیز رفتار ہوتی ہے جس سے وقت کی بچت ہوتی ہے۔
سروے میں شامل 45 فیصد سعودی شہریوں نے ایپس کے استعمال کو انتہائی آسان قرار دیا ہے جبکہ 43 فیصد کا کہنا ہے کہ ان ایپس پر بھروسہ کرنے سے انہیں ذہنی سکون ملتا ہے۔
اس بڑھتے ہوئے رجحان سے روایتی بینکنگ کے مقابلے میں صارفین کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ میں یہ دلچسپ نکتہ بھی سامنے آیا ہے کہ 59 فیصد صارفین اب بھی فزیکل برانچز پر جا کر ڈیجیٹل طریقے سے رقم بھیجنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
یہ طریقہ کار فی الحال سعودی عرب میں رقم کی منتقلی کا سب سے مقبول ذریعہ ہے۔
مشرق وسطیٰ میں مجموعی طور پر ترسیلات زر میں 6 فیصد کی معمولی کمی دیکھی گئی ہے، تاہم اس کے باوجود خطے میں سالانہ لین دین کی شرح دیگر عالمی خطوں کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر زیادہ برقرار رہی ہے جو ایک مثبت علامت ہے۔
سعودی عرب میں رقم بھیجنے یا وصول کرنے والے افراد کی تعداد 28 فیصد پر مستحکم رہی ہے، جو گزشتہ سال کے برابر ہے۔
اکثر صارفین سال میں کم از کم ایک بار ڈیجیٹل ذرائع سے رقم کی منتقلی کا عمل ضرور انجام دیتے ہیں۔
سعودی عرب سے بیرون ملک رقم بھیجنے کی سب سے بڑی وجہ انسانی ہمدردی اور ضرورت مندوں کی مدد بتائی گئی ہے۔
اس کے علاوہ باقاعدگی سے بھیجی جانے والی رقوم اور ہنگامی حالات میں مالی مدد بھی اہم وجوہات ہیں۔
مملکت میں رقم وصول کرنے کے حوالے سے رپورٹ بتاتی ہے کہ زیادہ تر افراد اپنے ذاتی بینک اکاؤنٹس میں رقم بڑھانے یا سرمایہ کاری کے مقاصد کے لیے رقوم منگواتے ہیں۔
یہ رجحان معاشی استحکام اور بچت کی ترغیب کو ظاہر کرتا ہے۔
سروے کے مطابق 38 فیصد سعودی صارفین کو ڈیجیٹل لین دین کے دوران کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
تاہم 27 فیصد نے زائد فیس کو ایک بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے جو اس عمل میں بہتری کی گنجائش ظاہر کرتی ہے۔
تقریباً 41 فیصد شرکا نے فزیکل برانچز تک جانے کو ایک مشکل کام قرار دیا ہے، جس کی وجہ سے وہ مکمل طور پر ڈیجیٹل ایپس کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔
33 فیصد صارفین فزیکل سے ڈیجیٹل منتقلی کو محفوظ ترین سمجھتے ہیں۔