تاہم یہ معاہدہ کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو امید ہے کہ ایران کے ساتھ حتمی اور دیرپا معاہدہ طے پا جائے گا۔
امریکی وزیر خارجہ نے خلیجی ممالک کے ساتھ دیرینہ شراکت داری کو سراہتے ہوئے کہا کہ امریکا اور جی سی سی کئی دہائیوں سے قریبی تعاون کرتے آئے ہیں اور موجودہ اجلاس دونوں فریقوں کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
روبیو نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کے ساتھ ہونے والے کسی بھی مستقبل کے معاہدے میں امریکا اپنے خلیجی اتحادیوں کے مفادات اور سلامتی کو مکمل طور پر مدنظر رکھے گا۔
ان کے مطابق واشنگٹن ایسے مستقل امن کا خواہاں ہے جو نہ امریکا اور نہ ہی اس کے اتحادیوں کے امن و خوشحالی کو نقصان پہنچائے۔
منامہ میں ہونے والے اس اجلاس میں امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے بعد پیدا ہونے والی تازہ پیش رفت، خطے کی سلامتی، سمندری گزرگاہوں کے تحفظ اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
یہ اجلاس مارکو روبیو کے خلیجی دورے کا آخری مرحلہ ہے۔
وہ اس سے قبل متحدہ عرب امارات اور کویت کا دورہ کر چکے ہیں، جہاں انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا تھا کہ ایران سے متعلق ہر اہم فیصلہ اور مذاکراتی پیش رفت میں امریکا اپنے خلیجی اتحادیوں کو اعتماد میں لے گا۔