براہ راست نشریات

بحرین میں امریکی، خلیجی اجتماع: ہرمز کسی کی جاگیر نہیں، روبیو

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
فوکس کی ورڈ: امریکا ایران مذاکرات
فوٹو: براہ راست نشریات

بحرین کے دارالحکومت منامہ میں ہونے والے امریکا، خلیجی ممالک وزارتی اجلاس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا کہ ایران کو کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دئے جائیں گے اور آبنائے ہرمز کسی ایک ملک کی ملکیت نہیں بن سکتی۔
انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ مضبوط معاہدہ چاہتا ہے، مگر ایسا معاہدہ نہیں جو خلیجی اتحادیوں کے مفادات یا علاقائی سلامتی کو نقصان پہنچائے۔

بحرین کے دار الحکومت منامہ میں جمعرات کے روز خلیجی تعاون کونسل ’جی سی سی‘ کے وزرائے خارجہ اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے درمیان اہم وزارتی اجلاس کا آغاز ہوا، جس میں امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت کے بعد خطے کی صورتحال، آبنائے ہرمز کی سلامتی اور مستقبل کے مذاکرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا کہ امریکا ہرگز ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ 

مزید پڑھیں

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور اسے کسی ایک ملک کی ملکیت نہیں بنایا جا سکتا۔

روبیو نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی فیس یا محصولات عائد کرنا ناقابل قبول ہوگا، کیونکہ اس سے پوری دنیا کی معیشت اور عالمی تجارت شدید انتشار کا شکار ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ مضبوط معاہدہ چاہتا ہے

 تاہم یہ معاہدہ کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کیا جائے گا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو امید ہے کہ ایران کے ساتھ حتمی اور دیرپا معاہدہ طے پا جائے گا۔

امریکی وزیر خارجہ نے خلیجی ممالک کے ساتھ دیرینہ شراکت داری کو سراہتے ہوئے کہا کہ امریکا اور جی سی سی کئی دہائیوں سے قریبی تعاون کرتے آئے ہیں اور موجودہ اجلاس دونوں فریقوں کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

روبیو نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کے ساتھ ہونے والے کسی بھی مستقبل کے معاہدے میں امریکا اپنے خلیجی اتحادیوں کے مفادات اور سلامتی کو مکمل طور پر مدنظر رکھے گا۔ 

ان کے مطابق واشنگٹن ایسے مستقل امن کا خواہاں ہے جو نہ امریکا اور نہ ہی اس کے اتحادیوں کے امن و خوشحالی کو نقصان پہنچائے۔

منامہ میں ہونے والے اس اجلاس میں امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے بعد پیدا ہونے والی تازہ پیش رفت، خطے کی سلامتی، سمندری گزرگاہوں کے تحفظ اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

یہ اجلاس مارکو روبیو کے خلیجی دورے کا آخری مرحلہ ہے۔ 

وہ اس سے قبل متحدہ عرب امارات اور کویت کا دورہ کر چکے ہیں، جہاں انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا تھا کہ ایران سے متعلق ہر اہم فیصلہ اور مذاکراتی پیش رفت میں امریکا اپنے خلیجی اتحادیوں کو اعتماد میں لے گا۔