ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست رابطہ نظام قائم کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے تاکہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور ممکنہ تصادم سے بچا جا سکے۔
پاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکراتی عمل جاری ہے جبکہ ایران نے معاہدے کو اپنی سفارتی کامیابی قرار دیا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور سینئر مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے ایک بار پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ علاقائی سلامتی کی ذمہ داری صرف خطے کے ممالک پر عائد ہونی چاہیے اور بیرونی مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کو ’امریکا کی شکست کا اعلان‘ قرار دیا۔
آذربائیجان میں اسلامی تعاون تنظیم ’او آئی سی‘ کے رکن ممالک کی پارلیمانی یونین کے 20ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قالیباف نے کہا کہ علاقائی سلامتی کا ضامن صرف خطے کے ممالک کو ہونا چاہئے۔
انہوں نے زور دیا کہ ایران ہمسایہ ممالک کے ساتھ خودمختاری کے احترام اور داخلی معاملات میں عدم مداخلت کی بنیاد پر تعاون کے لیے تیار ہے۔
مزید پڑھیں
انہوں نے مزید کہا کہ لبنان میں جنگ بندی کا قیام ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے جتنا ہی اہم ہے، کیونکہ لبنان کا استحکام خطے کے امن و سلامتی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
قالیباف کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان نے، جو قطر کے ساتھ مل کر واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، اعلان کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی مذاکرات
آئندہ ہفتے دوبارہ شروع ہوں گے۔
امریکی اور ایرانی وفود نے گزشتہ دنوں سوئٹزرلینڈ میں تقریباً 18 گھنٹے طویل براہِ راست مذاکرات کیے تھے، جنہیں بعد ازاں مثبت قرار دیا گیا۔
ان مذاکرات میں متعدد اہم امور پر مشترکہ ورکنگ گروپس تشکیل دینے پر اتفاق ہوا، جن میں ایران پر عائد پابندیوں کا خاتمہ، بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی، آبنائے ہرمز، لبنان کی صورتحال اور ایرانی جوہری پروگرام شامل ہیں۔
18 جون کو طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے مطابق دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ آئندہ 60 روز کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے تکنیکی سطح پر مذاکرات جاری رکھے جائیں گے، جبکہ باہمی رضامندی سے اس مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔
قالیباف نے
مفاہمتی یادداشت
کو امریکا کی
شکست قرار دیا
دوسری جانب قطر کے وزیر اعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست رابطہ لائن کے قیام کو انتہائی ضروری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانے اور کسی بھی تخریبی کارروائی کو روکنے میں مدد ملے گی۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ یہ رابطہ نظام غلط معلومات کا مقابلہ کرنے اور بارودی سرنگوں کی صفائی کے دوران مؤثر رابطہ کاری کے لیے ناگزیر ہے۔
ان کے مطابق اگر کسی جہاز کو دھمکی موصول ہو تو فوری طور پر ایرانی حکام سے اس کی تصدیق کی جا سکے گی، جس سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت ممکن ہوگی۔
انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ہر تنازع میں ایسے عناصر موجود ہوتے ہیں جو معاہدوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ان چیلنجز کا سامنا کرنا ضروری ہے۔
قالیباف کا سخت پیغام: علاقائی سلامتی خطے کے ہاتھ میں، امریکا کی شکست کا اعلان
ایران۔امریکا مفاہمتی یادداشت، لبنان جنگ بندی، آبنائے ہرمز اور تکنیکی مذاکرات پر نئی سفارتی کشمکش
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ علاقائی سلامتی صرف خطے کے ممالک کی ذمہ داری ہونی چاہیے۔ انہوں نے ایران۔امریکا مفاہمتی یادداشت کو امریکا کی شکست قرار دیا، جبکہ قطر اور پاکستان کی ثالثی میں تکنیکی مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کی تیاری ہے۔
معاہدے کے بڑے سفارتی پہلو
🛡️ علاقائی سلامتی
قالیباف کے مطابق خطے کی سلامتی کا ضامن صرف خطے کے ممالک کو ہونا چاہیے، جبکہ بیرونی مداخلت بحرانوں کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔
🇱🇧 لبنان فائل
ایران لبنان میں جنگ بندی کو ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے جتنا اہم سمجھتا ہے، کیونکہ لبنان کا استحکام پورے خطے کے امن سے جڑا ہے۔
🚢 آبنائے ہرمز
قطر نے امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست رابطہ لائن کو ضروری قرار دیا تاکہ جہاز رانی کے تحفظ اور ممکنہ تخریب کاری کو روکا جا سکے۔
☢️ تکنیکی مذاکرات
پابندیوں، منجمد اثاثوں، جوہری پروگرام، لبنان اور آبنائے ہرمز پر مشترکہ ورکنگ گروپس کے ذریعے مذاکرات آگے بڑھائے جا رہے ہیں۔
اہم سفارتی ٹائم لائن
📌 خلاصہ
قالیباف کے بیانات ایران کی اس پالیسی کو ظاہر کرتے ہیں جس میں تہران علاقائی سلامتی کو بیرونی طاقتوں سے آزاد دیکھنا چاہتا ہے۔ مفاہمتی یادداشت اگرچہ کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے، لیکن لبنان، آبنائے ہرمز، جوہری پروگرام اور پابندیوں جیسے معاملات اب بھی آئندہ مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کریں گے۔کیا یہ تجزیہ آپ کو پسند آیا؟
آبنائے ہرمز کی بحالی مفاہمتی یادداشت کا ایک اہم ترین جزو ہے، کیونکہ یہ عالمی توانائی اور تجارت کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے۔
ایران معاہدے کے بعد بتدریج آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول رہا ہے اور بحری راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے بارودی سرنگوں کی صفائی کا عمل بھی شروع کر چکا ہے۔
انشورنس کمپنی ایلیانز کے مطابق 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث 1,200 سے زائد تجارتی جہاز پھنس گئے تھے، جن پر تقریباً 125 ارب ڈالر مالیت کا سامان موجود تھا۔
جبکہ بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق جنگ کے دوران 40 سے زائد جہاز میزائل حملوں کی زد میں آئے اور 14 ملاح ہلاک ہوئے۔
پاکستانی وزارت خارجہ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکراتی عمل جاری ہے اور ماہرین کی سطح پر تکنیکی مذاکرات آئندہ ہفتے قطر اور پاکستان کی مشترکہ ثالثی میں دوبارہ شروع ہوں گے۔
🔴LIVE: Spokesperson's Weekly Press Briefing 26-06-2026 at Ministry of Foreign Affairs, Islamabad https://t.co/8iCRIClkno
— Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) June 24, 2026
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست رابطہ لائن قائم کرنے پر بھی اتفاق ہوا ہے تاکہ غلط فہمیوں اور ممکنہ بحرانوں سے بچا جا سکے۔
ادھر سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ایک دلچسپ موڑ اس وقت آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے متعلق سخت بیانات نے ماحول کو کشیدہ کر دیا۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق قالیباف نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو بتایا کہ ٹرمپ کے بیانات مفاہمتی یادداشت کی روح کے منافی ہیں، کیونکہ معاہدے میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کو دھمکیاں نہ دینے کا عہد کیا تھا۔
اس کے بعد ایرانی وفد نے براہِ راست مذاکرات روک دیے۔
تاہم امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ٹرمپ کا مقصد معاہدے کو سبوتاژ کرنا نہیں بلکہ ایران کو ممکنہ خلاف ورزیوں کے نتائج سے آگاہ کرنا تھا۔
اس کشیدگی کے باوجود قطری اور پاکستانی ثالثوں نے دونوں فریقوں کے درمیان رابطے برقرار رکھے اور مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے سخت بیانات کے باوجود اب تک ایران سے کوئی اضافی رعایت حاصل نہیں کی جا سکی، جبکہ دونوں ممالک مشترکہ تکنیکی کمیٹیوں کے ذریعے مذاکرات کو آگے بڑھا رہے ہیں تاکہ ایک جامع معاہدے تک پہنچا جا سکے جو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام لانے میں مددگار ثابت ہو۔