غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی جارحیت نے ہزاروں فلسطینی خاندانوں کو بے گھر اور بے سہارا کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں
اس ہولناک صورتحال میں غزہ کی خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں، جنہوں نے اپنے جیون ساتھی کھونے کے ساتھ ساتھ نقل مکانی اور شدید معاشی بحران کا سامنا کیا ہے۔
جنگ کی تباہ کاریاں اور بے کسی
اقوام متحدہ کی جانب سے 23 جون کو منائے جانے والے بیواؤں کے عالمی دن کے موقع پر غزہ میں المیے کی شدت عیاں ہے۔
فلسطینی وزارت برائے سماجی ترقی کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کے دوران 26 ہزار سے زائد خواتین بیوہ ہو چکی ہیں۔
خیموں میں زندگی اور معاشی جدوجہد
ہزاروں بیوائیں اپنے بچوں کے ساتھ خیموں اور پناہ گزین مراکز میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہی ہیں۔
تاہم ان خواتین نے مایوسی کو شکست دے کر چھوٹے پیمانے پر خود روزگار کے ذرائع اپنا لیے ہیں تاکہ اپنے بچوں کا پیٹ پال سکیں اور غیر ملکی امداد پر انحصار کم کریں۔
رشا ابو شاويش کی ہمت کی کہانی
42 سالہ رشا ابو شاویش نے اپنے شوہر اور بیٹے کو کھونے کے بعد ہمت نہیں ہاری۔
خان یونس کے برکت کیمپ میں قیام پذیر رشا نے اپنے خیمے کے ایک کونے میں چھوٹی سی دکان کھولی ہے، جہاں وہ بچوں کے لیے اشیائے خورونوش فروخت کرکے اپنے 5 بچوں کی کفالت کر رہی ہیں۔
خیوط الامل: ہنر سے اُمید کا سفر
نجوی الشمالی نے 50 دیگر بیواؤں کے ساتھ مل کر ’خیوط الامل‘ (امید کے دھاگے) کے نام سے ایک پروجیکٹ شروع کیا ہے۔
اس منصوبے کے تحت وہ کڑھائی، سلائی اور کروشیا کا کام کرکے دستکاری کے نمونے اور ملبوسات تیار کرتی ہیں تاکہ اپنے خاندانوں کے لیے باعزت روزگار کا انتظام کرسکیں۔
مشکل حالات میں ثابت قدمی
30 سالہ اخلاص نعنع اپنے شوہر کی شہادت کے بعد بیٹی کی تنہا کفالت کر رہی ہیں۔
وہ سارا دن مٹی کے تندور کے سامنے بیٹھ کر کام کرتی ہیں۔ اگرچہ ان کی روزانہ کی آمدنی 3 ڈالر سے بھی کم ہے، لیکن اپنے ہاتھوں سے کمانے کا احساس انہیں ایک نئی قوت دیتا ہے۔
کیمپوں میں خود انحصاری کا ماڈل
کیمپ کی منتظم عبیر الصوالحہ، جو خود بھی ایک بیوہ ہیں، بتاتی ہیں کہ برکت کیمپ نمبر 4 میں 200 بیوائیں اپنے بچوں کے ساتھ مقیم ہیں۔
یہاں پڑھی لکھی بیواؤں نے اپنی مدد آپ کے تحت بچوں کے لیے اسکول اور نرسری قائم کی ہے، جہاں وہ خود تدریس کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔
عالمی سطح پر معاونت کی ضرورت
وزارت برائے سماجی ترقی کی ڈاکٹر عزیزہ الکحلوت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے قبل غزہ میں بیواؤں کی تعداد 20 ہزار 649 تھی۔
جنگ کے بعد یہ تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ان خواتین کو ہنگامی امداد، نقد رقم، قانونی مشاورت اور نفسیاتی تعاون کی اشد ضرورت ہے۔
مستقبل کے چیلنجز اور اجتماعی ذمہ داری
فلسطینی شماریاتی بیورو کے مطابق غزہ میں 58 ہزار یتیم بچے ہیں۔
یہاں کیمپوں میں رہنے والی بیواؤں کی کامیابیوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ عزمِ صمیم کے ساتھ تباہی کے ملبے سے بھی زندگی کی راہیں نکالی جا سکتی ہیں۔
تاہم ان کے بہتر مستقبل کے لیے مسلسل بین الاقوامی حمایت اور مستقل فلاحی پروگرام ناگزیر ہیں۔