چینی کمپنی اسپیس سیل نے ایلون مسک کی اسٹار لنک کا مقابلہ کرنے کے لیے فنڈز جمع کرنے کے نئے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد سیٹلائٹ نیٹ ورک کی توسیع کو تیز کرنا اور عالمی منڈیوں میں کمپنی کی موجودگی کو مزید مستحکم بنانا ہے۔
چینی میڈیا کے مطابق اس نئے مرحلے میں نئے سرمایہ کاروں کو کمپنی کے زیادہ سے زیادہ 20 فیصد حصص دیے جائیں گے۔
اس عمل میں صرف 3 نئے سرمایہ کاروں کو شامل کیا جائے گا جبکہ
کمپنی کے موجودہ شیئر ہولڈرز بھی اس نئے سرمایے کی فراہمی میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔
حاصل ہونے والی رقم کو سیٹلائٹ کونسٹیلیشن کی تعمیر، تحقیق و ترقی کے منصوبوں اور بین الاقوامی سطح پر کاروبار پھیلانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ کمپنی کے روزمرہ آپریشنل اخراجات اور انتظامی ضروریات بھی اسی فنڈ سے پوری کی جائیں گی۔
شنگھائی حکومت کے تعاون سے چلنے والا یہ منصوبہ انٹرنیٹ کی فراہمی کے لیے چین کی اہم ترین کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
اسپیس سیل کا ہدف ہے کہ وہ 2030 تک زمین کے نچلے مدار میں 15 ہزار سیٹلائٹس کا ایک وسیع نیٹ ورک مکمل طور پر فعال کر دے۔
کمپنی نے عالمی سطح پر اپنی موجودگی بڑھانے کے لیے برازیل جیسی بڑی منڈیوں کے ساتھ اہم معاہدے بھی کر لیے ہیں۔
حال ہی میں اسپیس سیل نے عام اسمارٹ فونز کے ذریعے براہ راست سیٹلائٹ کالز کا کامیاب تجربہ کر کے ایک بڑی تکنیکی کامیابی حاصل کی ہے۔
اس تجربے کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں کسی اضافی سافٹ ویئر یا ہارڈ ویئر کی ضرورت نہیں پڑی اور آواز کا معیار زمینی 5G نیٹ ورک کے برابر رہا۔
یہ چین میں اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ ہے جو سیٹلائٹ اور موبائل نیٹ ورک کے ملاپ کو ظاہر کرتا ہے۔
جون 2026 کے آغاز میں کمپنی نے اسپیس سیل ڈی ٹی سی 01 نامی سیٹلائٹ لانچ کیا جو 5G اور 6G ٹیکنالوجی کی جانچ کے لیے بنایا گیا ہے۔
5 جون 2026 تک کمپنی کے فعال سیٹلائٹس کی کل تعداد اب 200 تک پہنچ چکی ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسپیس ایکس نے نیویارک اسٹاک ایکسچینج میں لسٹنگ کے ذریعے 85.7 ارب ڈالر جمع کیے ہیں۔
چین اب تیزی سے سرمایہ کاری کر کے اسٹار لنک کے ساتھ موجود تکنیکی اور کاروباری فرق کو ختم کرنا چاہتا ہے۔