اسرائیل میں 1949 کے بعد یمنی، تیونسی اور لیبیائی تارکین وطن کے ہزاروں بچوں کے اغوا کا معاملہ ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔
مزید پڑھیں
حالیہ رپورٹس کے مطابق سرکاری سطح پر قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹیوں کی ناکامی اور حقائق چھپانے کی کوششوں نے اس انسانی المیے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
اغوا کا ایک لرزہ خیز قصہ
یہ المیہ 1950 کی دہائی میں شروع ہوا، جب یمن سے ہجرت کرنے والے ’ایزار اور سارہ تساروم‘ کے ہاں حائفہ مہاجر کیمپ میں بچی پیدا ہوئی۔
اسپتال انتظامیہ نے چند دن بعد ہی والدین کو بچی کی موت کی خبر دے دی، تاہم برسوں بعد معلوم ہوا کہ وہ زندہ تھی اور اسے ایک بااثر خاندان کو گود دے دیا گیا تھا۔
منظم نظام اور ریاستی غفلت
یہ صرف ایک خاندان کا دکھ نہیں،عمرام ایسوسی ایشن کے مطابق ہزاروں خاندانوں کے ساتھ یہ سلوک کیا گیا۔
ان بچوں کو اغوا کرکے اثر و رسوخ رکھنے والے خاندانوں کے حوالے کرنے کا ایک منظم سلسلہ جاری رہا، جبکہ والدین کو جھوٹی موت کے سرٹیفکیٹ تھما کر مطمئن کر دیا جاتا تھا۔
حکومتی تحقیقات کا ڈراپ سین
مئی 2023 میں وزیر صحت موشے آربیل نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔
تاہم حال ہی میں بغیر کسی نتیجے کے اسے بند کر دیا گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام حقائق کو دفن کرنے اور طبی نظام کی بدنامی سے بچنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔
پردہ فاش کرنے والی اندرونی رپورٹ
2021 میں پروفیسر ایتامار غروتو اور ڈاکٹر شلومیت افنی نے ایک اندرونی رپورٹ تیار کی تھی، جس میں طبی نظام کے نسلی تعصب اور بچوں پر تجربات کا انکشاف کیا گیا تھا۔
اس رپورٹ کو شدید دباؤ کے بعد سرد خانے میں ڈال دیا گیا، کیونکہ اس میں والدین سے معافی مانگنے کی سفارش کی گئی تھی۔
عدالتی کارروائی اور رکاوٹیں
متاثرہ خاندانوں کے وکیل رامی تسبری کے مطابق قبریں کھولنے کا عمل شروع کیا گیا تھا، لیکن جنگی حالات اور سرکاری عدم تعاون کے باعث اسے معطل کر دیا گیا۔
10 سے زائد قبروں کے معاملے اب بھی عدالتوں میں التوا کا شکار ہیں، جس سے انصاف کی امید دم توڑ رہی ہے۔
معاوضہ یا خاموشی کی قیمت؟
فروری 2021 میں اسرائیلی حکومت نے 162 ملین شیکل (تقریباً 50 ملین ڈالر) کے معاوضے کا اعلان کیا تھا۔
تاہم اس کی شرط یہ تھی کہ متاثرہ خاندان مزید کوئی قانونی چارہ جوئی نہیں کریں گے۔ اسے ناقدین نے انصاف کی بجائے ’خاموشی خریدنے‘ کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔
تلاش کا سفر جاری رہے گا
’عمرام‘ کے چیف ایگزیکٹو ٹوم ماہاغر کا کہنا ہے کہ 75 سال گزرنے کے باوجود وہ اس معاملے کو منظر عام پر لاتے رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک ریاست اس جرم کا سرکاری اعتراف نہیں کرتی اور ذمہ داروں کا تعین نہیں ہوتا، یہ زخم کبھی نہیں بھریں گے۔
لامتناہی بے انصافی
یہ معاملہ محض طبی کوتاہی کا نہیں بلکہ ایک منظم ریاستی تعصب کا مظہر ہے۔
اسرائیلی حکام کی جانب سے تحقیقاتی کمیٹیوں کا بار بار بند ہونا اور معاوضے کے بدلے خاموشی کی شرط عائد کرنا، اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حقیقت تک پہنچنے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔
انصاف کا تقاضا ہے کہ متاثرین کو ان کے پیاروں کے بارے میں سچ بتایا جائے اور ذمہ داروں کا محاسبہ کیا جائے۔