براہ راست نشریات

مذاکرات ہاں، تصویر نہیں: ایرانی وفد کا دوٹوک موقف

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران امریکا مذاکرات
وینس بورگن شٹوک ریزورٹ میں ہونے والے اجلاس سے قبل، شہباز شریف سے مصافحہ کرتے ہوئے عباس عراقچی کی جانب دیکھ رہے ہیں، جبکہ جیرڈ کشنر بھی موجود ہیں (فوٹو: رائٹرز)

سوئٹزرلینڈ میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب ہونے والے براہِ راست ایران، امریکا مذاکرات سے چند گھنٹے قبل ایرانی چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی اپنے ایکس اکاؤنٹس کے ذریعے اشارتی پیغامات جاری کرتے رہے۔

قالیباف نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک تصویر شیئر کی جس کے پس منظر میں ایک طیارہ دکھائی دے رہا تھا، جس پر ’میناب 168‘ درج تھا۔ 

یہ ان 168 طلبہ کی طرف اشارہ تھا جو امریکی حملے میں میناب کے ایک اسکول میں جاں بحق ہوئے تھے۔ 

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے تصویر کے ساتھ لکھا:

میں سمجھتا ہوں کہ میناب کے معصوم بچے اور میرے عزیز ایران کے تمام شہداء ہر لمحہ میرے ہر عمل اور رویے کو دیکھ رہے ہیں۔ 

خدا نہ کرے کہ میں کبھی ایرانی عوام کے لیے شرمندگی یا رسوائی کا باعث بنوں۔

بعد ازاں انہوں نے میناب اسکول کے ایک طالب علم کی ویڈیو بھی شیئر کی۔

مزید پڑھیں

دوسری جانب عباس عراقچی نے ورلڈ کپ میں شریک ایرانی فٹبال ٹیم کی ایک تصویر پوسٹ کی، جس میں میناب کے بچوں کو ایسے دکھایا گیا تھا جیسے وہ فرشتوں کی طرح گیند کی حفاظت کر رہے ہوں۔

مذاکرات سے واپسی کے دوران طیارے میں گفتگو کرتے ہوئے عراقچی نے وضاحت کی کہ ایرانی وفد نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ مشترکہ تصویر کیوں نہیں بنوائی۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے اپنے اصول ہیں، اور ہم ہرگز یہ نہیں چاہتے تھے کہ کسی ایک تصویر یا کیمرے کے فریم میں امریکیوں کے ساتھ نظر آئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ثالثوں نے اصرار کیا تھا کہ یہ مذاکرات کا صرف آغاز ہے، لیکن ہم نے واضح کر دیا کہ ہم ان کے ساتھ ایک ہی تصویر میں نظر نہیں آئیں گے۔ 

ہم صرف مذاکرات کے لیے آئے تھے، تصاویر بنوانے یا ایک ہی منظر کا حصہ بننے کے لیے نہیں۔

العربیہ کے مطابق ایرانی امور کے ماہر مسعود فک کے مطابق عراقچی اور قالیباف کی میناب سے متعلق پوسٹس دراصل اندرونِ ملک اور مذاکرات کے ناقدین کے لیے ایک پیغام تھیں، تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ ایران اپنے ان افراد کو نہیں بھولا جنہیں وہ ’شہداء‘ قرار دیتا ہے۔

مشترکہ تصویر سے انکار کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ایرانی قیادت اس فریق کے ساتھ مصافحے یا دوستانہ منظر میں دکھائی نہیں دینا چاہتی جسے وہ اپنے رہنماؤں، فوجی کمانڈروں اور سیاسی شخصیات کے قتل کا ذمہ دار سمجھتی ہے۔ 

ان کے مطابق ایرانی قیادت اب بھی امریکا کو دشمن تصور کرتی ہے، جیسا کہ رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای اور پاسدارانِ انقلاب کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی حکام یہ تاثر نہیں دینا چاہتے کہ ان کے اور امریکا کے تعلقات معمول پر آ گئے ہیں۔

اسی دوران ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں عباس عراقچی سمیت ایرانی وفد کو ایک ہال سے نکلتے ہوئے دیکھا گیا، جبکہ اسی وقت امریکی وفد، جس کی قیادت جے ڈی وینس کر رہے تھے، اندر داخل ہو رہا تھا۔

اس منظر کے بعد ایرانی وفد کے مذاکرات چھوڑنے سے متعلق قیاس آرائیاں اور افواہیں پھیل گئیں، تاہم جے ڈی وینس نے بعد میں ان تمام خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ پھیلایا گیا وہ درست نہیں تھا۔