سوئٹزرلینڈ میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب ہونے والے براہِ راست ایران، امریکا مذاکرات سے چند گھنٹے قبل ایرانی چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی اپنے ایکس اکاؤنٹس کے ذریعے اشارتی پیغامات جاری کرتے رہے۔
قالیباف نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک تصویر شیئر کی جس کے پس منظر میں ایک طیارہ دکھائی دے رہا تھا، جس پر ’میناب 168‘ درج تھا۔
یہ ان 168 طلبہ کی طرف اشارہ تھا جو امریکی حملے میں میناب کے ایک اسکول میں جاں بحق ہوئے تھے۔
کودکان مظلوم میناب و تمام شهدای ایران عزیز را هر لحظه ناظر اعمال و رفتار خود میدانم. آنها ما را میبینند و از ما انتظار دارند.
— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) June 20, 2026
خدا کند که شرمندهٔ شهدای مظلوم و ملت ایران نباشم و روسفید به یارانم بپیوندم که برای دیدنشان لحظهشماری میکنم.
#Minab168
به یاد بچههای مدرسهٔ میناب pic.twitter.com/UDvZJOyJo2
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے تصویر کے ساتھ لکھا:
میں سمجھتا ہوں کہ میناب کے معصوم بچے اور میرے عزیز ایران کے تمام شہداء ہر لمحہ میرے ہر عمل اور رویے کو دیکھ رہے ہیں۔
خدا نہ کرے کہ میں کبھی ایرانی عوام کے لیے شرمندگی یا رسوائی کا باعث بنوں۔
بعد ازاں انہوں نے میناب اسکول کے ایک طالب علم کی ویڈیو بھی شیئر کی۔
مزید پڑھیں
دوسری جانب عباس عراقچی نے ورلڈ کپ میں شریک ایرانی فٹبال ٹیم کی ایک تصویر پوسٹ کی، جس میں میناب کے بچوں کو ایسے دکھایا گیا تھا جیسے وہ فرشتوں کی طرح گیند کی حفاظت کر رہے ہوں۔
مذاکرات سے واپسی کے دوران طیارے میں گفتگو کرتے ہوئے عراقچی نے وضاحت کی کہ ایرانی وفد نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ مشترکہ تصویر کیوں نہیں بنوائی۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے اپنے اصول ہیں، اور ہم ہرگز یہ نہیں چاہتے تھے کہ کسی ایک تصویر یا کیمرے کے فریم میں امریکیوں کے ساتھ نظر آئیں۔
From the football pitch to the negotiating table to the battlefield, every step we take as Iranians is part of a larger struggle: defending the honor and dignity of our dear people.#Minab168 pic.twitter.com/CFZ6EbYo49
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) June 22, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ ثالثوں نے اصرار کیا تھا کہ یہ مذاکرات کا صرف آغاز ہے، لیکن ہم نے واضح کر دیا کہ ہم ان کے ساتھ ایک ہی تصویر میں نظر نہیں آئیں گے۔
ہم صرف مذاکرات کے لیے آئے تھے، تصاویر بنوانے یا ایک ہی منظر کا حصہ بننے کے لیے نہیں۔
العربیہ کے مطابق ایرانی امور کے ماہر مسعود فک کے مطابق عراقچی اور قالیباف کی میناب سے متعلق پوسٹس دراصل اندرونِ ملک اور مذاکرات کے ناقدین کے لیے ایک پیغام تھیں، تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ ایران اپنے ان افراد کو نہیں بھولا جنہیں وہ ’شہداء‘ قرار دیتا ہے۔
⭕️ Iran’s chief negotiator Mohammad Bagher Ghalibaf described why Tehran abruptly walked out of talks with the U.S. delegation in Switzerland:
— Drop Site (@DropSiteNews) June 23, 2026
“Naturally, we entered the meeting room and began our discussions. The talks were going well. There was no dispute. We were almost at… pic.twitter.com/JZOQWgyQSi
مشترکہ تصویر سے انکار کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ایرانی قیادت اس فریق کے ساتھ مصافحے یا دوستانہ منظر میں دکھائی نہیں دینا چاہتی جسے وہ اپنے رہنماؤں، فوجی کمانڈروں اور سیاسی شخصیات کے قتل کا ذمہ دار سمجھتی ہے۔
ان کے مطابق ایرانی قیادت اب بھی امریکا کو دشمن تصور کرتی ہے، جیسا کہ رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای اور پاسدارانِ انقلاب کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی حکام یہ تاثر نہیں دینا چاہتے کہ ان کے اور امریکا کے تعلقات معمول پر آ گئے ہیں۔
اسی دوران ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں عباس عراقچی سمیت ایرانی وفد کو ایک ہال سے نکلتے ہوئے دیکھا گیا، جبکہ اسی وقت امریکی وفد، جس کی قیادت جے ڈی وینس کر رہے تھے، اندر داخل ہو رہا تھا۔
🚨🚨🚨🚨🚨
— حوت العملات الرقمية official (@Mkmaly_) June 21, 2026
مشهد فوضوي خلال مفاوضات سويسرا
بسبب خطأ من الرئيس دونالد ترامب الاحمق
بينما كانت المحادثات جارية، خرج ترامب بتصريحات وتهديدات جديدة ضد إيران عبر منصة X، ما أدى بحسب تقارير متداولة إلى استياء وانسحاب الوفد الإيراني بشكل فوري من قاعة المفاوضات
اللقطات أظهرت نائب… pic.twitter.com/EDP75KIOZz
اس منظر کے بعد ایرانی وفد کے مذاکرات چھوڑنے سے متعلق قیاس آرائیاں اور افواہیں پھیل گئیں، تاہم جے ڈی وینس نے بعد میں ان تمام خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ پھیلایا گیا وہ درست نہیں تھا۔