ایران نے امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر عمل درآمد کے محض 5 دنوں میں 36 ملین بیرل خام تیل برآمد کر کے عالمی منڈیوں میں اپنی پوزیشن مستحکم کر لی ہے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کے مطابق یہ پیش رفت فروری سے جاری جنگ اور بحری محاصرے کے خاتمے کے بعد سامنے آئی ہے۔
مہر نیوز ایجنسی نے ٹینکر ٹریکرز کے حوالے سے بتایا کہ 18 جون سے معاہدے کے نفاذ کے بعد سے اب تک بڑی مقدار برآمد کی جا چکی ہے۔
مزید اتنی ہی مقدار اس وقت ایرانی پانیوں میں ٹینکرز پر ذخیرہ یا منتقلی کے مراحل میں ہے۔
یاد رہے کہ رواں برس فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ شروع ہونے والی جنگ کے دوران ایرانی تیل کی برآمدات یومیہ 10 لاکھ بیرل سے بھی کم رہ گئی تھیں۔
جبکہ جنگ سے قبل ایران روزانہ 33 لاکھ بیرل تیل پیدا اور 20 لاکھ بیرل برآمد کر رہا تھا۔
برآمدات میں یہ نمایاں اضافہ ’اسلام آباد مفاہمت‘ کے نتیجے میں ممکن ہوا ہے، جس پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 14 جون کو دستخط کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں ہونے والا یہ معاہدہ 18 جون سے باقاعدہ نافذ العمل ہوا۔
اس مفاہمت کے تسلسل میں گزشتہ اتوار کو سوئٹزرلینڈ کے تفریحی مقام بورگن اسٹاک میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور منعقد ہوا۔
ان مذاکرات کا مقصد جنگ کا مستقل خاتمہ اور فریقین کے درمیان تمام تصفیہ طلب مسائل کو بات چیت سے حل کرنا ہے۔
14 نکات پر مشتمل اس جامع معاہدے میں لبنان سمیت دیگر محاذوں پر جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے انتظامات شامل ہیں۔
اس کے علاوہ ایران پر عائد بحری محاصرہ ختم کر کے تیل کی آزادانہ ترسیل اور عالمی منڈی تک رسائی یقینی بنائی گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر یہ مفاہمت طے نہ پاتی تو عالمی تیل کے ذخائر محض 4 ہفتوں میں ختم ہو سکتے تھے۔
اس بیان سے توانائی کے عالمی بحران کی سنگین شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔