بحیرہ عرب میں بین الاقوامی بحری بیڑوں کی ازسرنو تعیناتی کے ساتھ ہی امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن اور برطانوی تباہ کن بحری جہازوں کی آمد سے آبنائے ہرمز میں اہم فوجی نقل و حرکت شروع ہو گئی ہے۔
عسکری ماہر کرنل نضال ابو زید کے مطابق برطانیہ اور فرانس کی قیادت میں یہ بحری بیڑے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی کا پیچیدہ انسانی مشن انجام دیں گے۔
مزید پڑھیں
اس عمل کا مقصد یہ ہے کہ وہاں پھنسے ہوئے تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بارودی سرنگوں کی صفائی کا یہ عمل 3 مشکل مراحل پر مشتمل ہوگا:
- پہلے مرحلے پر سرنگوں کی نشاندہی۔
- دوسرے میں سمندری صفائی۔
- تیسرے مرحلے میں باقی رہ جانے والی سرنگوں کی باریک بینی سے تلاش شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق زیادہ تر بارودی سرنگیں عمانی بحری راستے کے قریب بچھائی گئی ہیں، جس کا مقصد ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے بین الاقوامی راستے کو متاثر کرنا اور ایرانی بحری راستے کو اپنی جہاز رانی کے لیے کھلا رکھنا بتایا جاتا ہے۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن نے عمان کے تعاون سے آبنائے ہرمز میں پھنسے گیارہ ہزار کی تعداد میں عملے کو نکالنے کے لیے ہنگامی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے جو گزشتہ کئی ماہ سے سیکڑوں بحری جہازوں پر محصور ہیں۔
یاد رہے کہ رواں سال 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے نتیجے میں تہران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا۔
اس بندش کے باعث اب تک تقریباً 2200 تجارتی بحری جہاز اس اہم ترین عالمی آبی گزرگاہ میں پھنسے ہوئے ہیں۔
سلطنت عمان نے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے تمام بحری جہازوں کے لیے ایک عارضی اور مفت بحری راہداری فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اس اعلان کا مقصد واشنگٹن اور تہران کے درمیان ہونے والے حالیہ معاہدے کے ثمرات کو یقینی بنانا ہے۔
عمان کے اس فیصلے کو خلیجی ممالک بالخصوص قطر کی بھرپور حمایت حاصل ہوئی ہے کیونکہ مسقط کا یہ مؤقف ایرانی نقطہ نظر سے مختلف ہے اور اس سے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر کسی بھی قسم کے ٹیکس کی مخالفت ہوتی ہے۔
میرین ٹریفک اور کبلر کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے بعد رواں ہفتے 36 جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور کی ہے جو یکم مارچ کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
ایرانی امور کے ماہر حسن احمدیان کا کہنا ہے کہ اگرچہ سفارتی پیشرفت اور 30 روزہ مہلت مثبت اشارے ہیں لیکن مہینوں سے پھنسے سیکڑوں جہازوں کی کلیئرنس اور بحالی میں اگلے سال تک کا وقت لگ سکتا ہے۔