براہ راست نشریات

جنگ بندی ٹوٹنے کے دہانے پر، امریکہ اور ایران پھر آمنے سامنے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکہ ایران کشیدگی

امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کے قریب تازہ فوجی کشیدگی نے 17 جون کی مفاہمتی یادداشت کو پہلے ہی بڑے امتحان سے دوچار کر دیا ہے۔
ایران نے امریکی حملوں کو عالمی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا، جبکہ واشنگٹن نے اسے تجارتی جہاز پر ایرانی حملے کا جواب بتایا۔

ایران کی وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز جنوبی ایران میں امریکی فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں 17 جون کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی ’کھلی خلاف ورزی‘ اور اقوام متحدہ کے منشور و بین الاقوامی قانون کی پامالی قرار دیا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق امریکی حملوں میں ساحلی نگرانی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جو مفاہمتی یادداشت کی پہلی شق کی براہِ راست خلاف ورزی ہے۔ 

تہران نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ لبنان پر اسرائیلی حملہ، جو اس کے بقول واشنگٹن کے تعاون سے کیا گیا، بھی اسی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

مزید پڑھیں

ایران نے زور دے کر کہا کہ خطے میں امریکی مفادات سے منسلک اہداف پر اس کی کارروائیاں ’دفاع کے جائز حق‘ کے تحت کی گئیں، اور تہران اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا۔

تہران نے کشیدگی میں اضافے کی مکمل ذمہ داری امریکہ پر عائد کرتے ہوئے اسے ’وعدہ خلاف‘ قرار دیا اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ 

بین الاقوامی قانون کی مبینہ خلاف ورزی پر خاموش تماشائی نہ بنے۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ فضائی حملے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز Ever Lovely پر ایرانی ڈرون حملے کے جواب میں کیے گئے۔ 

امریکی فوج کے مطابق کارروائی کا مقصد ایران کی جانب سے جنگ بندی اور مفاہمتی معاہدے کی خلاف ورزی کا مضبوط جواب دینا تھا۔

امریکی حکام کے مطابق تقریباً 90 منٹ تک جاری رہنے والے ان حملوں میں آبنائے ہرمز کے قریب 4 فوجی مقامات اور جزیرہ قشم میں موجود میزائل گوداموں، ڈرون مراکز، ساحلی ریڈار اور نگرانی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ 

واشنگٹن نے واضح کیا کہ یہ کارروائی صرف بحری حملے کے جواب میں تھی، نہ کہ وسیع پیمانے پر فوجی آپریشن کی بحالی۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکہ نے معاہدے کی مکمل پاسداری کی، تاہم خبردار کیا کہ تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا۔ 

اسی دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے Ever Lovely پر حملے کو دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ مفاہمت کی احمقانہ خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا کہ تہران نے امریکی حملوں کے جواب میں خلیج میں امریکی فوجی مقامات کو نشانہ بنایا، تاہم امریکی فوج نے فوری طور پر اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔ 

اگر اس کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی براہِ راست فوجی جھڑپ ہوگی۔

ایرانی سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق جنوبی ساحلی شہر سیریک کے علاقے طہراوی میں زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی، جہاں ساحلی نگرانی، مواصلاتی نظام اور مختصر فاصلے تک مار کرنے والے ساحلی میزائلوں کی تنصیبات موجود ہیں۔

ChatGPT Image 11 يونيو 2026، 12 14 10 م

یہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب آبنائے ہرمز کے قریب عمانی پانیوں میں گزرنے والے تجارتی جہاز Ever Lovely پر حملہ کیا گیا، جو مفاہمتی معاہدے کے بعد کسی تجارتی جہاز پر پہلا معلوم حملہ تھا۔ 

اس واقعے نے معاہدے کے مستقبل اور دنیا کی اہم ترین تیل و گیس گزرگاہ میں بحری سلامتی پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

واقعے کے بعد اقوام متحدہ کے تحت کام کرنے والی بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن نے خلیج میں پھنسے جہازوں کی مدد کی اپنی کارروائیاں معطل کر دیں، جبکہ دو آئل ٹینکروں نے اپنا راستہ تبدیل کر لیا اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے عالمی شپنگ اور انشورنس کمپنیوں میں تشویش بڑھ گئی۔

🚨 BREAKING NEWS

ایران نے امریکی فضائی حملوں کو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دے دیا

تہران نے جنوبی ایران میں امریکی فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں 17 جون کی مفاہمتی یادداشت، اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔

آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھ گئی • امریکہ کا جوابی حملوں کا دعویٰ • ایران نے دفاع کا حق محفوظ قرار دے دیا

🇮🇷 ایران کا مؤقف

ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق امریکی حملے ساحلی نگرانی کی تنصیبات پر کیے گئے، جو مفاہمتی یادداشت کی پہلی شق کی براہِ راست خلاف ورزی ہیں۔

🇺🇸 امریکی جواب

سینٹکام کا کہنا ہے کہ کارروائی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز Ever Lovely پر ایرانی ڈرون حملے کے جواب میں کی گئی۔

⚓ ہرمز میں خطرہ

واقعے کے بعد جہاز رانی، انشورنس کمپنیوں اور عالمی توانائی منڈیوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔

🔥 پہلی براہِ راست جھڑپ؟

اگر ایرانی جوابی کارروائی کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ مفاہمتی یادداشت کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی براہِ راست فوجی جھڑپ ہوگی۔

اہم نکتہ

حالیہ حملوں نے ظاہر کر دیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، اور آبنائے ہرمز کا کوئی بھی نیا واقعہ خطے کو دوبارہ بڑے تصادم کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
📌 ایران نے امریکی حملوں کو مفاہمتی یادداشت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
⚔️ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ حملے Ever Lovely پر ڈرون حملے کے جواب میں کیے گئے۔
🛰️ قشم، سیریک اور ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔
🌍 آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور عالمی توانائی تجارت پر دباؤ بڑھ گیا۔

اگرچہ امریکہ اور ایران نے مفاہمتی یادداشت کے تحت آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے کھلا رکھنے پر اتفاق کیا تھا، تاہم اس پر عمل درآمد کا طریقہ کار واضح نہیں کیا گیا۔ 

ایران مسلسل یہ مؤقف دہرا رہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی نگرانی کا بنیادی اختیار اسی کے پاس ہے، اور اس نے خبردار کیا ہے کہ اس کی منظوری کے بغیر استعمال ہونے والے متبادل بحری راستے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ فوجی تبادلے نے ظاہر کر دیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، اور آبنائے ہرمز میں پیش آنے والا کوئی بھی سکیورٹی واقعہ خطے کو دوبارہ وسیع تصادم کی طرف دھکیل سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی بحری تجارت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔