امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کے قریب تازہ فوجی کشیدگی نے 17 جون کی مفاہمتی یادداشت کو پہلے ہی بڑے امتحان سے دوچار کر دیا ہے۔
ایران نے امریکی حملوں کو عالمی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا، جبکہ واشنگٹن نے اسے تجارتی جہاز پر ایرانی حملے کا جواب بتایا۔
ایران کی وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز جنوبی ایران میں امریکی فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں 17 جون کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی ’کھلی خلاف ورزی‘ اور اقوام متحدہ کے منشور و بین الاقوامی قانون کی پامالی قرار دیا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق امریکی حملوں میں ساحلی نگرانی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جو مفاہمتی یادداشت کی پہلی شق کی براہِ راست خلاف ورزی ہے۔
تہران نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ لبنان پر اسرائیلی حملہ، جو اس کے بقول واشنگٹن کے تعاون سے کیا گیا، بھی اسی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
مزید پڑھیں
ایران نے زور دے کر کہا کہ خطے میں امریکی مفادات سے منسلک اہداف پر اس کی کارروائیاں ’دفاع کے جائز حق‘ کے تحت کی گئیں، اور تہران اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا۔
تہران نے کشیدگی میں اضافے کی مکمل ذمہ داری امریکہ پر عائد کرتے ہوئے اسے ’وعدہ خلاف‘ قرار دیا اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ
بین الاقوامی قانون کی مبینہ خلاف ورزی پر خاموش تماشائی نہ بنے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ فضائی حملے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز Ever Lovely پر ایرانی ڈرون حملے کے جواب میں کیے گئے۔
https://t.co/CckXLJSpah pic.twitter.com/NoMQ7cNtN5
— U.S. Central Command (@CENTCOM) June 27, 2026
امریکی فوج کے مطابق کارروائی کا مقصد ایران کی جانب سے جنگ بندی اور مفاہمتی معاہدے کی خلاف ورزی کا مضبوط جواب دینا تھا۔
امریکی حکام کے مطابق تقریباً 90 منٹ تک جاری رہنے والے ان حملوں میں آبنائے ہرمز کے قریب 4 فوجی مقامات اور جزیرہ قشم میں موجود میزائل گوداموں، ڈرون مراکز، ساحلی ریڈار اور نگرانی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
واشنگٹن نے واضح کیا کہ یہ کارروائی صرف بحری حملے کے جواب میں تھی، نہ کہ وسیع پیمانے پر فوجی آپریشن کی بحالی۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکہ نے معاہدے کی مکمل پاسداری کی، تاہم خبردار کیا کہ تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا۔
Iran signed a ceasefire agreement. We have honored it. If they have disagreements about how the MOU is being applied, they can pick up the phone.
— JD Vance (@JDVance) June 26, 2026
But violence will be met with violence. https://t.co/VWnBS1PWaV
اسی دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے Ever Lovely پر حملے کو دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ مفاہمت کی احمقانہ خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا کہ تہران نے امریکی حملوں کے جواب میں خلیج میں امریکی فوجی مقامات کو نشانہ بنایا، تاہم امریکی فوج نے فوری طور پر اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔
اگر اس کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی براہِ راست فوجی جھڑپ ہوگی۔
ایرانی سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق جنوبی ساحلی شہر سیریک کے علاقے طہراوی میں زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی، جہاں ساحلی نگرانی، مواصلاتی نظام اور مختصر فاصلے تک مار کرنے والے ساحلی میزائلوں کی تنصیبات موجود ہیں۔
یہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب آبنائے ہرمز کے قریب عمانی پانیوں میں گزرنے والے تجارتی جہاز Ever Lovely پر حملہ کیا گیا، جو مفاہمتی معاہدے کے بعد کسی تجارتی جہاز پر پہلا معلوم حملہ تھا۔
اس واقعے نے معاہدے کے مستقبل اور دنیا کی اہم ترین تیل و گیس گزرگاہ میں بحری سلامتی پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
واقعے کے بعد اقوام متحدہ کے تحت کام کرنے والی بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن نے خلیج میں پھنسے جہازوں کی مدد کی اپنی کارروائیاں معطل کر دیں، جبکہ دو آئل ٹینکروں نے اپنا راستہ تبدیل کر لیا اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے عالمی شپنگ اور انشورنس کمپنیوں میں تشویش بڑھ گئی۔
ایران نے امریکی فضائی حملوں کو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دے دیا
تہران نے جنوبی ایران میں امریکی فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں 17 جون کی مفاہمتی یادداشت، اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔
🇮🇷 ایران کا مؤقف
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق امریکی حملے ساحلی نگرانی کی تنصیبات پر کیے گئے، جو مفاہمتی یادداشت کی پہلی شق کی براہِ راست خلاف ورزی ہیں۔
🇺🇸 امریکی جواب
سینٹکام کا کہنا ہے کہ کارروائی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز Ever Lovely پر ایرانی ڈرون حملے کے جواب میں کی گئی۔
⚓ ہرمز میں خطرہ
واقعے کے بعد جہاز رانی، انشورنس کمپنیوں اور عالمی توانائی منڈیوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
🔥 پہلی براہِ راست جھڑپ؟
اگر ایرانی جوابی کارروائی کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ مفاہمتی یادداشت کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی براہِ راست فوجی جھڑپ ہوگی۔
اہم نکتہ
حالیہ حملوں نے ظاہر کر دیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، اور آبنائے ہرمز کا کوئی بھی نیا واقعہ خطے کو دوبارہ بڑے تصادم کی طرف دھکیل سکتا ہے۔اگرچہ امریکہ اور ایران نے مفاہمتی یادداشت کے تحت آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے کھلا رکھنے پر اتفاق کیا تھا، تاہم اس پر عمل درآمد کا طریقہ کار واضح نہیں کیا گیا۔
ایران مسلسل یہ مؤقف دہرا رہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی نگرانی کا بنیادی اختیار اسی کے پاس ہے، اور اس نے خبردار کیا ہے کہ اس کی منظوری کے بغیر استعمال ہونے والے متبادل بحری راستے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ فوجی تبادلے نے ظاہر کر دیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، اور آبنائے ہرمز میں پیش آنے والا کوئی بھی سکیورٹی واقعہ خطے کو دوبارہ وسیع تصادم کی طرف دھکیل سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی بحری تجارت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔