براہ راست نشریات

آبنائے ہرمز پر ایران کے دعوے، حقیقت یا محض دباؤ کی سیاست؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
آبنائے ہرمز

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے باوجود تہران آبنائے ہرمز پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے، لیکن بین الاقوامی قانون، تاریخی تجربات اور عملی حقائق اس کے دعووں کی قانونی اور عملی حیثیت پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔

امریکا اور ایران کے درمیان 17 جون 2026 کو پاکستان اور قطر کی ثالثی میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے باوجود، جس میں کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کو یقینی بنانے پر اتفاق کیا گیا تھا، تہران اب بھی آبنائے ہرمز کو بند کرنے، اس پر مکمل کنٹرول قائم کرنے اور جہازوں سے راہداری فیس وصول کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔

ایران کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ آبنائے ہرمز اس کے ہاتھ میں ایسا اسٹریٹجک ہتھیار ہے جو کسی بھی فوجی طاقت سے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

 تاہم بین الاقوامی قانون، تاریخی حقائق اور عملی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو یہ دعویٰ اتنا مضبوط دکھائی نہیں دیتا۔

مزید پڑھیں

آبنائے ہرمز کوئی ٹول پلازہ نہیں

عام لوگوں کے ذہن میں ’بندش‘ یا ’فیس‘ جیسے الفاظ سن کر یہ تصور بنتا ہے کہ آبنائے ہرمز کسی شاہراہ کی طرح ہے جس پر دروازہ بند کیا جا سکتا ہے یا ٹول پلازہ قائم کیا جا سکتا ہے، حالانکہ حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔

یہ ایک بین الاقوامی بحری گزرگاہ ہے جہاں نہ کوئی گیٹ موجود ہے 

اور نہ ہی ایسا نظام جس کے ذریعے ہر جہاز کو روک کر فیس وصول کی جا سکے۔

اگر ایران کسی جہاز کو ریڈیو پیغام دے کر مخصوص راستہ اختیار کرنے یا ڈیجیٹل کرنسی میں رقم ادا کرنے کا مطالبہ کرے اور انکار کی صورت میں ڈرون حملے یا جہاز قبضے میں لینے کی دھمکی دے، تو ایسی کارروائی کو بین الاقوامی قانون میں قانونی اختیار نہیں بلکہ جبر، بھتہ خوری یا بحری قزاقی کے قریب تصور کیا جا سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز کشیدگی

بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

اگرچہ ایران نے اقوام متحدہ کے سمندری قانون UNCLOS کی توثیق نہیں کی، لیکن بین الاقوامی عرفی قانون تمام ممالک کو بین الاقوامی آبناؤں میں آزادانہ اور بلا رکاوٹ آمدورفت کا پابند بناتا ہے۔

اسی اصول کی بنیاد پر دنیا کے بیشتر ممالک آبنائے ہرمز میں ’آزاد گزرگاہ‘ کو عالمی قانون کا حصہ تصور کرتے ہیں۔ 

یہی وجہ ہے کہ بڑی تعداد میں ممالک اقوام متحدہ میں اس اصول کی حمایت کر چکے ہیں، اگرچہ سلامتی کونسل میں سیاسی اختلافات کی وجہ سے سخت قرارداد منظور نہیں ہو سکی۔

فیس یا بھتہ؟

بین الاقوامی قانون کے مطابق کسی بھی بین الاقوامی آبی راستے سے گزرنے والے جہازوں سے یکطرفہ طور پر رقم وصول کرنا قانونی حیثیت نہیں رکھتا۔

جنگ بندی توسیع چین مشرق وسطیٰ کشیدگی بیان
آبنائے ہرمز بندش کی مصنوعی ذہانت سے بنی ہوئی ایک تصوراتی تصویر (فوٹو: العربیہ)

اگر دنیا اس طرز عمل کو قبول کر لے تو مستقبل میں آبنائے ملاکا، جبل طارق اور دیگر اہم سمندری راستوں پر بھی اسی قسم کے دعوے سامنے آسکتے ہیں، جس سے عالمی تجارت شدید متاثر ہوگی۔

تاریخ کیا بتاتی ہے؟

ایران ماضی میں مختلف ادوار میں آبنائے ہرمز پر اثرورسوخ رکھ چکا ہے، لیکن جدید دور میں اس نے پہلی مرتبہ اس راستے کو سیاسی اور اقتصادی دباؤ کے مستقل آلے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔

1980 کی دہائی کی ’ٹینکر جنگ‘ نے بھی ثابت کیا تھا کہ اگرچہ جہاز رانی کو وقتی طور پر متاثر کیا جا سکتا ہے، لیکن عالمی طاقتیں بالآخر بحری راستوں کو کھلا رکھنے کے لیے مشترکہ اقدامات کرتی ہیں۔

ایرانی آئل فیلڈز خطرہ امریکی ناکابندی تیل بحران
آبنائے ہرمز (فوٹو: اے ایف پی)

عالمی برادری کا امتحان

آج سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ ایران دھمکیاں دے سکتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ عالمی برادری ایسی دھمکیوں کا جواب کس حد تک مؤثر انداز میں دیتی ہے۔

امریکا، یورپ، خلیجی ممالک اور چین سب اس بحران پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ سفارتی کوششیں جاری ہیں تاکہ کسی بڑے فوجی تصادم سے بچتے ہوئے عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی محفوظ رکھی جا سکے۔

اگر سفارت کاری کامیاب ہوتی ہے تو آبنائے ہرمز ایک بار پھر مکمل طور پر آزاد بین الاقوامی بحری گزرگاہ کے طور پر کام کرے گا۔ 

تاہم اگر کشیدگی برقرار رہی تو یہ بحران نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت کے لیے بھی مسلسل خطرہ بنا رہے گا۔