بحرین نے آج ہفتہ کی صبح اپنے علاقوں کو ایرانی ڈرونز سے نشانہ بنانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے قومی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی، شہریوں کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
اسی دوران متحدہ عرب امارات نے بھی ایران پر زور دیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی تمام شقوں پر مکمل عملدرآمد کرے تاکہ خطے میں کشیدگی کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
بحرینی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب خطے اور عالمی سطح پر کشیدگی کم کرنے اور امن کی راہ ہموار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
مزید پڑھیں
وزارت کے مطابق ایران کی جانب سے ایسے حملے امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے اور پورے خطے کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہیں۔
بحرین نے حملے کو ’مجرمانہ جارحیت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات خطے میں عدم استحکام اور بدامنی کو فروغ دیتے ہیں۔
وزارتِ خارجہ نے واضح کیا کہ بحرین کی سلامتی اور خودمختاری ناقابلِ
سمجھوتہ ہے اور ملک اپنی سرزمین کے دفاع کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے۔
بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کا حوالہ بھی دیا گیا، جسے بحرین نے خلیجی تعاون کونسل اور اردن کی جانب سے پیش کیا تھا اور جسے 136 ممالک کی حمایت حاصل ہوئی۔
بحرین کا مؤقف ہے کہ حالیہ حملہ اس قرارداد اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی عالمی کوششوں کے منافی ہے۔
وزارت نے مزید کہا کہ یہ کارروائی 17 جون 2026 کو اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی بھی خلاف ورزی ہے، جس میں فوجی کارروائیاں روکنے اور علاقائی ممالک کی خودمختاری کا احترام کرنے کا عہد کیا گیا تھا۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے رابطہ کرکے زور دیا کہ ایران مفاہمتی معاہدے کی تمام شرائط پر مکمل عمل کرے۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے پر مکمل عملدرآمد سے خطے میں فوری جنگ بندی، ریاستوں کی خودمختاری کا احترام، بین الاقوامی قوانین کی پابندی، سمندری گزرگاہوں کا تحفظ اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی یقینی بنائی جا سکتی ہے۔