امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ کے اثرات اب وائٹ ہاؤس کے اندر تک پہنچ چکے ہیں۔
مزید پڑھیں
حالیہ دنوں میں نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کے متضاد بیانات نے ٹرمپ انتظامیہ کی ظاہری یکجہتی کے پیچھے چھپے گہرے پالیسی اختلافات کو بے نقاب کر دیا ہے۔
وینس اور روبیو کا متضاد بیانیہ
نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ ہونے والی ابتدائی مفاہمت پر تنقید کرنے والے اسرائیلی حکام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کے واحد حلیف ہیں، اس لیے تل ابیب کو اپنے دفاعی معاملات پر محتاط رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
دوسری جانب وزیر خارجہ مارکو روبیو نے لبنان میں اسرائیلی فوجی مہم کی حمایت کرتے ہوئے اسے حزب اللہ کے حملوں کا ’جائز ردعمل‘ قرار دیا ہے۔
انہوں نے جے ڈی وینس کے برعکس اسرائیل کے حقِ دفاع پر مسلسل زور دیا، جو ان کی پرانی سیاسی شناخت ہے۔
ایران کے ساتھ سفارتی مذاکرات میں رکاوٹ
بیانات کو دیکھا جائے تو ایران کے معاملے پر بھی دونوں رہنماؤں کے انداز بالکل مختلف ہیں۔
وینس سوئٹزرلینڈ میں ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات میں پُرامید نظر آئے اور انہوں نے ایران کی تعمیر نو میں علاقائی ممالک کے کردار اور مستقبل میں تعاون پر زور دیا۔
نائب صدر جے ڈی وینس کا واضح مؤقف تہران کے ساتھ تعلقات میں بہتری کا متقاضی ہے۔
اس کے برعکس مارکو روبیو نے متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین کے دوروں میں علاقائی ممالک کو یقین دلایا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کے مفادات کے خلاف نہیں ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ ایران کی تعمیر نو کے لیے خطے سے فنڈز کا مطالبہ نہیں کریں گے۔
انتظامیہ کی وضاحتیں
وائٹ ہاؤس کی ترجمان انا کیلی نے ان اختلافات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پوری انتظامیہ صدر ٹرمپ کے اس عزم کے ساتھ کھڑی ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
انہوں نے اپنے بیان میں اس بات پر اصرار کیا کہ ’ٹرمپ کیمپ‘ میں کسی قسم کی کوئی تقسیم نہیں ہے۔
اسی طرح امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان ٹومی بیگوٹ نے بھی ان خبروں کو بے بنیاد اور جعلی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ وینس اور روبیو دونوں صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کے ہر فیصلے، بشمول وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری اور ایران پر حملے کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔
اختلافات کی شدت اور سیاسی مستقبل
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اختلافات 2028 کے صدارتی انتخاب کی دوڑ کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں، جہاں وینس اور روبیو کو ممکنہ امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ دونوں رہنما ری پبلکن پارٹی کے 2 مختلف دھڑوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔
مائیکل روبن کے مطابق وینس جہاں جنگوں کو قومی وسائل کا ضیاع سمجھتے ہیں، وہیں روبیو ایک سخت گیر کے طور پر معروف ہیں اور یہ تضاد محض ذاتی نہیں بلکہ پارٹی کی خارجہ پالیسی کے دو الگ رجحانات کی عکاسی کرتا ہے، جس کا حتمی نتیجہ ابھی غیر واضح ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ میں وینس اور روبیو کے بیانات کا تضاد بظاہر ایک داخلی کشمکش کو ظاہر کررہا ہے۔
اگرچہ انتظامیہ اسے یکجہتی قرار دے رہی ہے، مگر ایران اور اسرائیل جیسے حساس معاملات پر متضاد اپروچ ہی اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی کے مستقبل میں تزویراتی ترجیحات پر اختلافات جنم لے رہے ہیں۔