دوحہ میں امریکا اور ایران کے درمیان دو روزہ بالواسطہ تکنیکی مذاکرات مثبت ماحول میں ختم ہوئے، تاہم مذاکرات کے ساتھ ہی واشنگٹن نے تہران کو سخت پیغام دیا کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ حیثیت تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب ایران نے بھی خبردار کیا ہے کہ امریکی مداخلت کی صورت میں سخت ردعمل دیا جائے گا۔
دوحہ میں امریکا اور ایران کے درمیان دو روز تک جاری رہنے والے بالواسطہ تکنیکی مذاکرات کے اختتام پر واشنگٹن نے تہران کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی قابل قبول نہیں ہوگی۔
العربیہ کے مطابق باخبر ذرائع نے بتایا ہے امریکی حکام نے ایرانی وفد کو آگاہ کیا کہ جون میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کا پہلا اور سب سے اہم امتحان آبنائے ہرمز میں ایران کا عملی رویہ ہوگا۔
ذرائع نے بتایا کہ امریکا نے واضح کیا ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر کسی قسم کی نئی پابندی، فیس یا انتظامی تبدیلی نافذ کرنے کی کوشش کی تو اسے مفاہمتی یادداشت کی صریح خلاف ورزی تصور کیا جائے گا، جس کے نتائج براہِ راست جاری مذاکرات پر مرتب ہوں گے۔
مزید پڑھیں
واشنگٹن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے، اس لیے وہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا رکاوٹ ناقابل قبول ہوگی۔ امریکی حکام ایرانی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی اشتعال انگیز اقدام کی صورت میں فوری ردعمل کا امکان موجود ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکا نے تہران کو یہ بھی باور کرایا کہ بیرونِ
ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی اسی صورت ممکن ہوگی جب ایران مفاہمتی یادداشت کی تمام شقوں پر مکمل عمل کرے اور عملی طور پر بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
دوسری جانب ایران نے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی فضائی حدود میں امریکی فوجی موجودگی خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔
ایرانی مسلح افواج کی متحدہ کمان نے اعلان کیا کہ اگر امریکا نے آبنائے ہرمز میں کسی قسم کی مداخلت کی تو اسے فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
ایران نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام بحری جہاز تہران کی جانب سے مقرر کردہ محفوظ بحری راستوں پر چلنے کے پابند ہوں گے، جبکہ ایرانی حکام اب بھی اس مؤقف پر قائم ہیں کہ انہیں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے انتظام اور خدمات کے عوض فیس وصول کرنے کا حق حاصل ہے۔
خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے امریکا اور اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی غلط اندازے کی صورت میں ایران کی مسلح افواج بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوجی موجودگی پورے خطے کے استحکام کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔
⚠ امریکی مؤقف
واشنگٹن نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی نئی پابندی، فیس یا انتظامی تبدیلی کو معاہدے کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔
🚢 ہرمز کی اہمیت
امریکا کے مطابق عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے ہرمز ہر صورت کھلا رہنا ضروری ہے۔
💰 منجمد اثاثے
ایرانی فنڈز کی رہائی کو معاہدے پر مکمل عمل درآمد سے مشروط کر دیا گیا ہے۔
🇮🇷 ایران کا جواب
تہران نے امریکی فوجی موجودگی کو خطرہ قرار دیتے ہوئے کسی بھی مداخلت پر سخت ردعمل کی دھمکی دی۔
- امریکا نے آبنائے ہرمز میں کسی بھی تبدیلی کو مسترد کر دیا۔
- ایران نے امریکی موجودگی پر سخت ردعمل کی دھمکی دی۔
- منجمد اثاثوں کی رہائی معاہدے پر عمل درآمد سے مشروط رہے گی۔
- قطر اور پاکستان کی ثالثی سے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق ہوا۔
- امریکا ایران کے عملی اقدامات پر مسلسل نظر رکھے گا۔
- آبنائے ہرمز آئندہ مذاکرات کا مرکزی اور حساس موضوع رہے گی۔
- منجمد ایرانی اثاثوں پر فیصلہ تہران کے طرزِ عمل سے مشروط رہے گا۔
- کسی بھی نئی کشیدگی کی صورت میں مذاکراتی عمل متاثر ہو سکتا ہے۔
یہ سخت بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دوحہ میں قطر اور پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کو دونوں فریقوں نے مجموعی طور پر مثبت قرار دیا ہے۔
مذاکرات میں آبنائے ہرمز، منجمد ایرانی اثاثوں، پابندیوں اور دیگر حساس امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق فریقین نے مستقبل میں کسی بھی غیر متوقع کشیدگی سے بچنے کے لیے ایک مستقل رابطہ چینل قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے تاکہ غلط فہمیوں کو بروقت دور کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں اور جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزی کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی تھی۔
دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے، جس کے بعد امریکا نے جنوبی ایران میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے کویت اور بحرین میں امریکی مفادات سے منسلک تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ کیا۔
جون میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے مطابق آبنائے ہرمز کو 60 روز تک بغیر کسی رکاوٹ یا اضافی فیس کے بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھلا رکھنا ضروری ہے۔
تاہم ایران مستقبل میں سلطنتِ عمان کے ساتھ مل کر اس اہم بحری گزرگاہ کے انتظام اور خدمات کے عوض فیس وصول کرنے کے امکان پر زور دیتا رہا ہے، جبکہ امریکا اور عمان دونوں اس مؤقف کی مخالفت کر چکے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی متعدد مواقع پر واضح کر چکے ہیں کہ واشنگٹن کا بنیادی ہدف ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اور آبنائے ہرمز میں عالمی جہاز رانی کی مکمل آزادی کو یقینی بنانا ہے۔
دوسری جانب تہران اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار دکھائی نہیں دیتا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئندہ مذاکرات میں آبنائے ہرمز ہی سب سے بڑا اور حساس تنازعہ رہے گا۔