براہ راست نشریات

سچ دِکھانا جرم: اسرائیلی جیل میں فلسطینی صحافی پر تشدد کی کہانی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
اسرائیلی جیل میں بدترین تشدد کا شکار ہونے والے فلسطینی صحافی کا خاکہ
اس کی ایک ہولناک مثال صحافی مجاہد بنی مفلح کی ہے، جنہوں نے 15 برس صحافت میں گزارے (فوٹو: انٹرنیٹ)

فلسطینی صحافیوں کے لیے قلم اور کیمرہ کبھی محض پیشہ ورانہ ٹول نہیں رہے بلکہ یہ ان کے وجود کے دفاع کی پہلی لائن رہے ہیں۔

مزید پڑھیں

تاہم قابض ریاست کی جانب سے جاری فلسطینیوں کی نسل کشی کی جنگ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے ضابطے اسرائیلی استعماری نظام کے سامنے بے بس ہیں۔

اسرائیلی حکام نے منظم ریاستی تشدد، بھوک اور طبی سہولیات کی بندش کو فلسطینی بیانیے کو دبانے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ 

یہ عمل اب خفیہ نہیں بلکہ اعلیٰ ترین سیاسی اور سیکیورٹی سطح پر ایک باقاعدہ اور اعلانیہ ریاستی پالیسی کا حصہ بن چکا ہے۔

اس کی ایک ہولناک مثال صحافی مجاہد بنی مفلح کی ہے، جنہوں نے 15 برس صحافت میں گزارے۔ 

2025ء کے وسط میں گرفتاری کے بعد 6 ماہ تک انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں وہ شدید دماغی خون بہنے کے باعث مفلوج اور گویائی سے محروم ہو گئے۔

اسرائیلی جیل میں بدترین تشدد کا شکار ہونے والے فلسطینی صحافی کا خاکہ
2025ء کے وسط میں گرفتاری کے بعد 6 ماہ تک انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا (فوٹو: انٹرنیٹ)

ڈاکٹرز کو مجاہد بنی مفلح کی کھوپڑی کا ایک حصہ نکالنا پڑا، جو صرف ایک طبی رپورٹ نہیں بلکہ عالمی ضمیر کے لیے ایک شرمناک سیاسی دستاویز ہے۔

انہوں نے کاغذ پر لکھ کر تصدیق کی کہ قابض فوج نے جان بوجھ کر ان کی قوتِ ارادی کو توڑنے کی کوشش کی۔

اس المیے کا ایک تاریک پہلو ان کے اہل خانہ کی مشکلات بھی ہیں، جہاں  ہر خاموش کیے گئے صحافی کے پیچھے اسپتالوں کے چکر کاٹتے بچے اور بے گھر ہونے والی فیملیز ہیں، جنہیں اسرائیلی چیک پوسٹوں اور آباد کاروں کے تشدد کے باعث مسلسل نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔

اس صورت حال میں عالمی برادری کا کردار بھی انتہائی مایوس کن ہے، جو قرارداد نمبر 2222 کے تحت صحافیوں کے تحفظ کا دعویٰ تو کرتی ہے، لیکن عملی طور پر اسرائیلی جیلوں میں ہونے والے تشدد پر مکمل خاموش ہے۔ 

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دہرا معیار بین الاقوامی قوانین کی ساکھ پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

اسرائیلی جیل میں بدترین تشدد کا شکار ہونے والے فلسطینی صحافی کا خاکہ
وہ شدید دماغی خون بہنے کے باعث مفلوج اور گویائی سے محروم ہو چکے ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

فلسطینی صحافی اب یہ سمجھ چکے ہیں کہ مغربی ’غیر جانبداری‘ کا تصور ایک فریب ہے۔ سدیہ تیمان جیسے حراستی مراکز میں ہونے والا تشدد یہ ثابت کرتا ہے کہ صحافت اب محض ایک پیشہ نہیں بلکہ بقا کی جنگ اور ایک قومی فریضہ بن چکا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ان تمام تر مظالم کے باوجود فلسطینی صحافیوں کا عزم ٹوٹنے کا نام نہیں لے رہا۔ 

انٹرنیٹ اور بجلی کی عدم موجودگی میں بھی وہ حقائق دنیا تک پہنچا رہے ہیں۔ یہ جدوجہد ثابت کرتی ہے کہ جسمانی تشدد سے آوازوں کو دبایا جا سکتا ہے، لیکن سچائی کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

ہم سے جڑے رہیں