براہ راست نشریات

واشنگٹن میں مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں دوبارہ جنگ پر غور

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ٹرمپ ایران مذاکرات

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے مختلف منصوبوں کا جائزہ لیا ہے، تاہم فی الحال سفارتی مذاکرات کو موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق اگر دوحہ میں جاری بالواسطہ مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو واشنگٹن ایران کے فوجی اہداف پر دوبارہ بڑے فضائی حملے کر سکتا ہے۔
ادھر امریکہ اور ایران نے کشیدگی کم رکھنے کے لیے براہِ راست فوجی رابطہ بھی قائم کیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز اور ایران کے جوہری پروگرام پر اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے حوالے سے اپنی حکمت عملی پر دوبارہ غور کر رہے ہیں، جبکہ ان کی انتظامیہ میں اس بات پر سنجیدہ مشاورت جاری ہے کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہو جائیں تو کیا دوبارہ فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کیا جائے۔ 

اس سلسلے میں ٹرمپ نے گزشتہ چند دنوں کے دوران وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین کے ساتھ کئی اہم اجلاس کیے، جن میں ایران کے خلاف مختلف فوجی آپشنز کا جائزہ لیا گیا۔

امریکی حکام کے مطابق ان ملاقاتوں میں ایران کے فوجی اور حساس اہداف پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے دوبارہ شروع کرنے کے امکانات پر بھی غور کیا گیا، تاہم صدر ٹرمپ نے فی الحال سفارتی راستہ برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

مزید پڑھیں

ان کا ماننا ہے کہ اس مرحلے پر نئی فوجی کارروائی ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدے کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ 

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ کی ترجیح اب بھی مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنا ہے۔

اگرچہ صدر کو پینٹاگون کی جانب سے اس نوعیت کی بریفنگز معمول کا حصہ ہوتی ہیں، لیکن امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ اجلاس اس بات

کا  ثبوت ہیں کہ وائٹ ہاؤس ایران کے ساتھ جاری تعطل سے نکلنے کے لیے نئے راستے تلاش کر رہا ہے۔ 

اس کے باوجود اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی کارروائی کا آپشن مکمل طور پر مسترد نہیں کیا گیا۔ 

آبنائے ہرمز میں امریکی اور ایرانی کشیدگی کا نقشہ اور منظر

بعض حکام کے مطابق یہ اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ واشنگٹن کو مجوزہ معاہدے کی کامیابی پر پہلے جیسا اعتماد نہیں رہا۔

العربیہ کے مطابق صدر ٹرمپ نے عوامی سطح پر کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اچھی پیش رفت کر رہے ہیں، لیکن ساتھ ہی واضح کیا کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام رہیں تو امریکہ ضروری اقدامات سے گریز نہیں کرے گا۔ 

وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بھی تصدیق کی کہ صدر ٹرمپ اب بھی سفارت کاری کو اولین ترجیح دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایران موجودہ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرے۔ 

دوسری جانب امریکی وزارت دفاع نے ممکنہ فوجی منصوبوں پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

ہم سے جڑے رہیں

نائب صدر جے ڈی وینس نے فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ صدر کی ہدایت ہے کہ مذاکرات کو مناسب وقت دیا جائے، تاہم اگر سفارتی عمل ناکام ہو جائے تو تمام دیگر آپشنز، بشمول فوجی کارروائی، بدستور دستیاب رہیں گے۔

ادھر امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچ چکے ہیں، جہاں قطر کی ثالثی میں ایران کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کا نیا دور جاری ہے۔ 

اس کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے ماہرین کے درمیان تکنیکی سطح پر بھی بات چیت جاری رکھی گئی ہے تاکہ اختلافی نکات پر پیش رفت ممکن بنائی جا سکے۔

امریکا ایران مذاکرات

کشیدگی میں کمی لانے کے لیے امریکہ نے امریکی سینٹرل کمان CENTCOM اور ایرانی پاسداران انقلاب کے درمیان براہ راست فوجی رابطے کا ایک چینل بھی قائم کیا ہے تاکہ کسی بھی غیر ارادی فوجی تصادم سے بچا جا سکے۔ 

وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ رابطہ فعال ہو چکا ہے، تاہم بعض حکام کا کہنا ہے کہ یہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات میں سست روی کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنے مشیروں سے متبادل حکمت عملیاں طلب کیں، جس کے بعد وزیر دفاع اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے ایران کے خلاف دوبارہ وسیع فضائی حملے شروع کرنے کے مختلف منصوبے پیش کیے، اگر مذاکرات مکمل طور پر ناکام ہو جائیں۔

فی الحال سب سے بڑا اختلاف آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ایران کی مجوزہ فیس، اور اس کے جوہری پروگرام پر سخت پابندیوں کے معاملے پر برقرار ہے۔ 

اگرچہ صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران بنیادی شرائط سے اتفاق کر چکا ہے، تاہم دونوں فریقوں کے درمیان کئی اہم نکات اب بھی حل طلب ہیں۔

آبنائے ہرمز

امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے کہا کہ ایران نے اب تک مطلوبہ تعاون نہیں کیا، تاہم امریکہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی توانائی کی ترسیل متاثر نہ ہو، خواہ ایران تعاون کرے یا نہ کرے۔ 

ان کے مطابق واشنگٹن کا بنیادی مقصد ایران کے جوہری پروگرام کا مکمل خاتمہ ہے۔

اس کے باوجود امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے حالیہ بحران کے خاتمے کے بعد متعدد مرتبہ ایران کے خلاف مکمل جنگ کی منظوری دینے سے انکار کیا ہے۔ 

اگرچہ وہ ماضی میں ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں اور جزیرہ خرج پر کنٹرول حاصل کرنے کی دھمکیاں دے چکے ہیں، تاہم بعد ازاں انہوں نے دوبارہ مذاکرات کو ترجیح دی۔ 

انہوں نے اپنے قریبی معاونین کو یہ بھی بتایا تھا کہ وہ صرف اسی صورت میں جنگ پر غور کریں گے جب ایران کسی امریکی فوجی کی ہلاکت کا باعث بنے۔

امریکا ایران مذاکرات

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے پاس جنگ کے علاوہ بھی کئی دباؤ کے ذرائع موجود ہیں، جن میں ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی مؤخر کرنا، اقتصادی پابندیوں میں اضافہ اور آبنائے ہرمز سے متعلق دباؤ برقرار رکھنا شامل ہے۔ 

ان کے مطابق فوجی دھمکی، معاشی دباؤ اور سفارت کاری کا مشترکہ استعمال اگرچہ پیچیدہ حکمت عملی ہے، تاہم اس سے ایران کو کسی ممکنہ معاہدے پر عمل درآمد کے لیے آمادہ کیا جا سکتا ہے۔ 

اسی لیے ٹرمپ بظاہر فوجی آپشن کو بطور دباؤ برقرار رکھنا چاہتے ہیں، مگر ایک نئی اور طویل جنگ میں الجھنے سے بھی گریز کر رہے ہیں۔

Iran Flag
ایران۔امریکہ: تمام اپڈیٹس ایک جگہ پر، کلک کریں
USA Flag