براہ راست نشریات

جتنی چینی، اتنا ٹیکس: قطر میں نئی ٹیکس پالیسی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
قطر میٹھے مشروبات ٹیکس

قطر نے آج سے میٹھے مشروبات پر نئی ٹیکس پالیسی نافذ کر دی ہے۔
اب ٹیکس کی شرح مشروبات میں موجود چینی کی مقدار کے مطابق ہوگی، جبکہ کاروباری اداروں کو 90 دن کے اندر اپنے ذخیرے کا گوشوارہ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

قطر نے عوامی صحت کے فروغ اور زیادہ شکر والے مشروبات کے استعمال میں کمی لانے کے لیے میٹھے مشروبات پر نئی انتخابی Excise ٹیکس پالیسی نافذ کر دی ہے، جس کا اطلاق آج منگل سے شروع ہوگیا۔

قطر کی جنرل ٹیکس اتھارٹی کے مطابق نئی ٹیکس پالیسی قانون نمبر 2 برائے 2026 کے تحت نافذ کی گئی ہے، جس کے مطابق اب ٹیکس کی شرح مشروبات میں موجود چینی یا شامل کیے گئے میٹھے مادوں Sweeteners کی مقدار کے مطابق مقرر ہوگی۔ 

یعنی جس مشروب میں چینی زیادہ ہوگی، اس پر ٹیکس بھی زیادہ عائد ہوگا۔

نئے نظام کے تحت کاربونیٹڈ ڈرنکس، اضافی چینی والے جوس، اور ایسے تمام مشروبات یا مصنوعات جو پانی میں ملا کر مشروب بنائی جا سکتی ہیں، جیسے کنسنٹریٹس، پاؤڈر، سیرپ اور ایکسٹریکٹس، ٹیکس کے دائرے میں شامل ہوں گی۔

جنرل ٹیکس اتھارٹی نے تمام متعلقہ کاروباری اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ’ضریبہ‘ پلیٹ فارم کے ذریعے اپنے ٹیکس کے دائرے میں آنے والے ذخیرے ’اسٹاک‘ کی تفصیلات جمع کرائیں۔

اتھارٹی کے مطابق اگر کسی کمپنی کے پاس ٹیکس کے دائرے میں آنے والے مشروبات کا ذخیرہ 200 ہزار لیٹر سے کم ہے تو صرف عبوری گوشوارہ جمع کرانا ہوگا اور کسی ٹیکس کی ادائیگی نہیں کرنا پڑے گی۔ 

تاہم اگر ذخیرہ 200 ہزار لیٹر یا اس سے زیادہ ہو تو آڈٹ شدہ رپورٹ جمع کرانے کے ساتھ واجب الادا ٹیکس بھی ادا کرنا ہوگا۔

ہم سے جڑے رہیں

حکام نے واضح کیا کہ ٹیکس کا انحصار صرف ذخیرے کی مقدار پر نہیں بلکہ مشروبات میں موجود چینی یا میٹھے مادوں کی مقدار پر ہوگا۔ 

اگر کسی کمپنی کی تمام مصنوعات ٹیکس سے مستثنیٰ زمروں میں آتی ہیں تو قابلِ ادائیگی ٹیکس صفر بھی ہو سکتا ہے۔

جنرل ٹیکس اتھارٹی نے مکلفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ 6 جولائی سے 90 دن کے اندر اپنا عبوری گوشوارہ جمع کرائیں، جبکہ واجب الادا ٹیکس گوشوارہ جمع کرانے کے 30 دن کے اندر ادا کرنا ہوگا۔

اتھارٹی کے مطابق یہ ٹیکس صرف سیل بند ’پیک شدہ‘ مشروبات پر لاگو ہوگا، جبکہ ریستورانوں، کیفے یا دیگر مراکز پر فوری استعمال کے لیے تیار کیے جانے والے غیر پیک شدہ مشروبات اس میں شامل نہیں ہوں گے۔

قطری حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد عوام میں زیادہ شکر والے مشروبات کے استعمال کی حوصلہ شکنی، خوراک کی صنعت کو کم شکر والی مصنوعات تیار کرنے کی ترغیب دینا اور مجموعی طور پر معاشرے کی صحت اور معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہے۔

قطر
مزید خبریں، تجزیے اور رپورٹس کے لیے کلک کریں