ایران نے امریکہ کو واضح پیغام دیا ہے کہ دھمکیوں کا سلسلہ جاری رہا تو حتمی معاہدے پر مذاکرات شروع نہیں ہوں گے۔
عباس عراقچی نے مفاہمتی یادداشت کی شق 13 کا حوالہ دیتے ہوئے واشنگٹن سے ’اپنے دستخط کا احترام‘ کرنے کا مطالبہ کیا، جبکہ جوہری پروگرام، پابندیوں اور آبنائے ہرمز پر اختلافات برقرار ہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے منگل کے روز امریکہ کو سخت پیغام دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر دھمکیوں کا سلسلہ جاری رہا تو تہران حتمی معاہدے سے متعلق مذاکرات کا آغاز نہیں کرے گا۔
انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی پاسداری پر زور دیتے ہوئے واشنگٹن سے کہا کہ اپنے دستخط کا احترام کریں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں عراقچی نے کہا کہ لاکھوں ایرانیوں نے رہبر انقلاب علی خامنہ ای اور ان کے ورثے کو خراج عقیدت پیش کیا ہے، نہ وہ اور نہ ہی ہماری مسلح افواج کسی دھمکی سے مرعوب ہوں گی۔
Millions of proud Iranians rallied in unity to honor Grand Ayatollah Khamenei and his legacy. Neither them nor our Brave Armed Forces are moved by any threats.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) July 7, 2026
Para 13 of the MoU is clear: Negotiations on final Deal will not commence if threats continue Honor your signature. pic.twitter.com/uQ7OoFyp8U
انہوں نے مزید کہا کہ مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر 13 بالکل واضح ہے، جس کے مطابق اگر دھمکیاں جاری رہیں تو حتمی معاہدے پر مذاکرات شروع نہیں کیے جائیں گے۔
مزید پڑھیں
مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کی تیاری
عراقچی کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران، علی خامنہ ای کی تدفین کی تقریبات کے باعث عارضی تعطل کے بعد دوبارہ سیاسی رابطے بحال کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
تاہم دونوں ممالک کے درمیان جوہری پروگرام، امریکی پابندیوں اور دیگر بنیادی معاملات پر اختلافات بدستور برقرار ہیں۔
ذرائع کے مطابق نئی مذاکراتی نشست 11 جولائی کو متوقع ہے، جس میں امریکی پابندیوں، ایران کے منجمد اثاثوں اور جوہری پروگرام پر بات چیت ہوگی، جبکہ ایرانی وفد کی سطح کا حتمی فیصلہ بعد از تدفین انتظامات مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔
ہرمز بھی بڑا تنازع بن گیا
دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اب صرف جوہری پروگرام تک محدود نہیں رہی بلکہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بھی ایک نیا متنازع مسئلہ بن چکی ہے۔
ایران نے حالیہ ہفتوں میں تجویز دی ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں سے خدمات کے عوض فیس وصول کی جائے، جسے امریکہ اور خلیجی ممالک نے مسترد کر دیا۔
عراقچی نے چند روز قبل بھی کہا تھا کہ خطے میں امن بیرونی فوجی مداخلت سے نہیں بلکہ علاقائی تعاون سے ممکن ہے، جبکہ انہوں نے امریکی فوجی موجودگی کو عدم استحکام کا سبب قرار دیا تھا۔
یہ بیان امریکی سینٹرل کمانڈ ’سینٹکام‘ کی بحرین میں 12 ممالک کے ساتھ ہونے والی اس میٹنگ کے بعد سامنے آیا تھا، جس میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی آزادی برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا تھا۔
ادھر تہران نے یہ بھی اصرار کیا ہے کہ تمام بحری جہاز ایرانی حکام کی مقرر کردہ گزرگاہوں سے ہی گزریں، بصورت دیگر خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف ’فیصلہ کن کارروائی‘ کی جائے گی، جس سے دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق عراقچی کا تازہ بیان اس بات کا اشارہ ہے کہ ایران حتمی معاہدے سے قبل اپنی شرائط پر کسی قسم کی نرمی دکھانے کے لیے تیار نہیں، جبکہ واشنگٹن بھی پابندیوں، سلامتی کی ضمانتوں، جوہری سرگرمیوں اور آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمدورفت کے معاملے پر اپنے مؤقف پر قائم ہے۔