امریکا کو برطانیہ سے آزادی ملے ڈھائی سو سال مکمل ہو چکے ہیں۔ 1776ء میں قائم ہونے والی یہ ریاست آج جس مقام پر ہے، وہاں تک پہنچنے کے سفر میں 50 سالہ تاریخ کا بڑا ہاتھ ہے۔
مزید پڑھیں
اس سفر کا ایک اہم موڑ ڈک چینی کا دور ہے، جنہوں نے صدارتی اختیارات کو مستحکم کر کے نادانستہ طور پر ٹرمپ ازم جیسی تحریکوں کے لیے راستہ ہموار کیا۔
صدارتی اختیارات کی جنگ اور ڈک چینی
اکتوبر 1974ء میں واٹر گیٹ اسکینڈل کے بعد رچرڈ نکسن کے مستعفی ہونے پر جیرالڈ فورڈ صدر بنے۔
ڈک چینی، جو اس وقت 33 سال کے تھے، نے دیکھا کہ کیسے کانگریس صدارتی اختیارات کو محدود کر رہی ہے۔ چینی کا ماننا تھا کہ ایگزیکٹو پاور صرف صدر کی ملکیت ہے، جس کے تحفظ کے لیے انہوں نے اپنی پوری سیاسی زندگی وقف کر دی۔
امپیریل پریزیڈنسی اور کنٹرول کا خواب
1973ء میں آرتھر شلیسنگر نے ’امپیریل پریزیڈنسی‘ کے تصور کو اجاگر کیا۔
سرد جنگ کے دوران ہیری ٹرومین سے لے کر نکسن تک، امریکی صدور نے قومی سلامتی کے نام پر سی آئی اے اور این ایس اے جیسے ادارے قائم کیے۔
ڈک چینی کا خیال تھا کہ کانگریس کی جانب سے لگائی گئی پابندیاں ملکی مفاد میں نہیں، بلکہ یہ صدارتی وقار کے منافی ہیں۔
متحدہ ایگزیکٹو پاور کا نظریہ
1980ء کی دہائی میں ’فیڈرلسٹ سوسائٹی‘ جیسی تنظیموں نے ’یونیفائیڈ ایگزیکٹو تھیوری‘ پیش کی۔ اِن کا استدلال تھا کہ تمام سرکاری ادارے صدر کے ماتحت ہونے چاہییں۔
جارج ڈبلیو بش اور نائب صدر ڈک چینی کے دور میں نائن الیون کے بعد ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کو بنیاد بنا کر صدارتی اختیارات کو لامحدود بنا دیا گیا، جس سے کانگریس کی نگرانی کمزور پڑ گئی۔
ٹرمپ کے عروج میں ڈک چینی کا کردار
ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی اختیارات کے اسی ڈھانچے کو اپنایا جو ڈک چینی نے برسوں پہلے تعمیر کیا تھا، تاہم ٹرمپ نے ان اختیارات کا رُخ بیرونی دشمنوں کے بجائے داخلی اداروں کی جانب موڑ دیا۔
’پروجیکٹ 2025ء‘جیسی کوششیں اسی پرانے نظریے کا تسلسل ہیں، جہاں صدر کے اختیارات کو قانونی حدود سے ماورا قرار دیا جاتا ہے۔
کیپٹل ہل پر حملہ اور سابق فوجیوں کا کردار
6 جنوری 2021ء کو کیپٹل ہل پر حملے کے وقت ڈک چینی کو اپنی ہی تعمیر کردہ عمارت کے تقدس کو پامال ہوتے دیکھ کر صدمہ ہوا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس حملے میں شامل کئی لوگ ان ہی جنگوں (عراق اور افغانستان) کے تجربہ کار فوجی تھے، جنہیں ڈک چینی نے شروع کروایا تھا۔
یہ ایک طرح کا ’ریورس ایفیکٹ‘ تھا، جہاں جنگ کی تلخیوں نے فوجیوں کو ریاست کے خلاف کر دیا۔
ڈک چینی نے ایک مضبوط اور طاقتور ایگزیکٹو کا جو خواب دیکھا تھا، اس نے امریکی نظام کو بدل کر رکھ دیا۔
اگرچہ وہ خود ٹرمپ کے مخالف تھے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ نے انہی ٹولز کا استعمال کیا جو ڈک چینی نے برسوں کی محنت سے تیار کیے تھے۔
آج امریکی جمہوریت جن سوالات کا سامنا کر رہی ہے، ان کی جڑیں ڈک چینی کے اسی نظریے میں پیوست ہیں۔