براہ راست نشریات

فرشتوں سے بہتر ہے انسان بننا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
اشرف المخلوقات

محمد کبیر بٹ

ریاض

یہ مضمون انسان کی عظمت، مقام اور ذمہ داری کو قرآن و سنت کی روشنی میں بیان کرتا ہے۔
اس میں واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا، علم، عقل اور اختیار سے نوازا اور زمین پر اپنی خلافت کی ذمہ داری سونپی۔
مضمون میں نبی کریمﷺ کی بشریت اور انسانیت کی معراج کو اجاگر کرتا ہے، ساتھ ہی اخلاقی زوال سے بچتے ہوئے اپنے مقصدِ حیات کو پہچاننے کی دعوت دیتا ہے۔

زمین و آسمان کی وسعتوں میں بے شمار مخلوقات آباد ہیں۔ 

کہیں نور سے بنے فرشتے ہیں جو ہر لمحہ اپنے رب کی تسبیح میں مشغول ہیں، کہیں جنات ہیں جنہیں اختیار دیا گیا، کہیں پہاڑ اپنی ہیبت کے ساتھ کھڑے ہیں، کہیں سمندر اپنی گہرائیوں میں قدرت کے راز سمیٹے ہوئے ہیں، کہیں ستارے اور سیارے اپنے مقررہ مدار میں گردش کر رہے ہیں، اور کہیں چرند، پرند، درندے اور بے شمار جاندار اپنے اپنے نظام کے تحت زندگی بسر کر رہے ہیں۔ 

ان تمام مخلوقات کے درمیان اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی مخلوق پیدا کی جسے عزت، شعور، عقل، ارادہ اور اختیار عطا کیا، اور وہ ہے انسان۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ

بے شک ہم نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا کیا۔

مزید پڑھیں

یہ صرف جسمانی حسن کی بات نہیں بلکہ انسان کی عقل، فہم، شعور، ارادہ، احساس، محبت، علم اور اخلاقی صلاحیتوں کی بھی گواہی ہے۔ 

اسی لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کو تمام مخلوقات میں ایک منفرد مقام عطا فرمایا اور اعلان کیا:

وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ
اور یقیناً ہم نے اولادِ آدم کو عزت و بزرگی عطا کی۔

یہ عزت محض پیدائش کا اعزاز نہیں بلکہ ایک عظیم ذمہ داری بھی ہے۔ 

انسان کو زمین پر اللہ کا خلیفہ بنایا گیا، اسے خیر و شر میں تمیز کی صلاحیت دی گئی، وحی کی روشنی عطا کی گئی، انبیائے کرام علیہم السلام اس کی رہنمائی کے لیے مبعوث کیے گئے اور کائنات کی بے شمار نعمتیں اس کے لیے مسخر کر دی گئیں تاکہ وہ اپنے رب کی معرفت حاصل کرے، اس کی بندگی اختیار کرے اور زمین پر عدل، خیر اور رحمت کا نظام قائم کرے۔

ChatGPT Image 6 يوليو 2026، 05 37 13 م

انسان کی عظمت کا ایک اور پہلو اس کی تخلیق کا انداز ہے۔ 

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:

لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ

جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے پیدا کیا۔

پھر اس بے جان پیکر میں اپنی روح پھونکی:

وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي

یہ روح کیا ہے؟ 

اس کی حقیقت اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ 

انسان کو اس کے بارے میں صرف اتنا ہی علم دیا گیا جتنا اس کی ضرورت تھی۔ 

یہی وجہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ سے روح کے بارے میں سوال کیا گیا تو قرآن نے فرمایا:

قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا

کہو اے نبیﷺ! روح میرے رب کا امر ہے اور جو علم تمہیں عطا کیا گیا (وہ روح کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے)نا کا فی ہے۔

انسان کی عظمت کا ایک اور بے مثال منظر اس وقت سامنے آیا جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو علم عطا فرمایا۔ 

فرشتوں کے سامنے اشیا کے نام پیش کیے گئے، مگر وہ جواب نہ دے سکے۔ 

آپ بھی لکھیں
آپ کی تحریر شائع کر کے ہمیں خوشی ہوگی
✍️
📄

حضرت آدم علیہ السلام نے اللہ کے عطا کردہ علم کی بنیاد پر تمام نام بتا دیئے۔ 

اس طرح واضح ہوگیا کہ علم انسان کی اصل قوت ہے اور اسی علم کی بنیاد پر اسے اشرف المخلوقات کا مقام عطا کیا گیا۔

اسی لیے اسلام کی پہلی وحی بھی علم سے شروع ہوتی ہے۔ 

قلم، تعلیم اور آگہی کو انسان کی ترقی کا ذریعہ قرار دیا گیا۔ 

علم ہی انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر معرفتِ الٰہی کی روشنی تک پہنچاتا ہے۔

لیکن انسان کا یہ بلند مقام ہمیشہ قائم نہیں رہتا۔ 

اگر وہ اپنی حقیقت کو بھول جائے، خواہشات کا غلام بن جائے، ظلم، تکبر، شہوت اور فساد کو اپنا شعار بنا لے تو وہ اپنی عظمت خود کھو دیتا ہے۔

جو انسان اپنے مقام سے گر جاتا ہے، وہ ایسی پستی میں جا پہنچتا ہے جہاں حیوان بھی نہیں پہنچتے۔ 

ظلم، قتل، معصوم بچوں پر تشدد، بے حیائی، دھوکہ، خیانت اور انسانیت کی تذلیل اسی سقوطِ انسانیت کی علامات ہیں۔ 

ChatGPT Image 6 يوليو 2026، 05 37 43 م

انسان اگر اپنی عقل کو خواہشات کا غلام بنا دے تو وہ جانوروں سے بھی زیادہ گمراہ ہو جاتا ہے، کیونکہ جانور اپنی فطرت کے مطابق زندگی گزارتا ہے، جبکہ انسان شعور رکھنے کے باوجود حق سے منہ موڑ لیتا ہے۔

انسان کی عظمت کی سب سے بلند مثال ہمارے آقا، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ اقدس ہے۔ 

آپﷺ تمام اولادِ آدم کے سردار، امام الانبیاء اور سید البشر ہیں۔ 

اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو وہ مقام عطا فرمایا جہاں تک کسی اور مخلوق کی رسائی ممکن نہ ہوئی۔

واقعۂ معراج اس حقیقت کا سب سے روشن ثبوت ہے۔ 

جب حضرت جبرئیل علیہ السلام ساتویں آسمان تک ساتھ رہے تو ایک مقام پر عرض کیا کہ اگر میں اس سے آگے بڑھوں تو میرے پر جل جائیں گے۔ 

وہاں سے آگے صرف رسول اللہﷺ تشریف لے گئے اور بارگاہِ الٰہی میں حاضری کا شرف حاصل کیا۔

خصوصی رپورٹ
صرف آپ کے لیے، کلک کریں

یہاں ایک نہایت اہم حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے۔ 

رسول اللہﷺ اس عظیم مقام تک بشر کی حیثیت سے پہنچے تھے، کسی نورانی مخلوق کی حیثیت سے نہیں۔ 

قرآن کریم نے خود آپ ﷺ کی زبان مبارک سے اعلان کروایا:

قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰ إِلَيَّ

کہہ دیجیے: میں تمہاری طرح ایک بشر ہوں، البتہ میری طرف وحی کی جاتی ہے۔

یہی انسان کی اصل عظمت ہے۔ 

فرشتہ گناہ نہیں کرتا کیونکہ اسے اختیار نہیں دیا گیا، لیکن انسان کو اختیار دے کر آزمائش میں ڈالا گیا۔ 

اگر وہ اللہ کی اطاعت اختیار کرے، اپنے نفس کو قابو میں رکھے، علم، تقویٰ، عدل، خدمت اور اخلاق کو اپنائے تو وہ فرشتوں سے بھی بلند مقام پا لیتا ہے۔ 

اور اگر وہ خواہشات کا غلام بن جائے تو اس کی گراوٹ بھی سب سے زیادہ ہوتی ہے۔

ChatGPT Image 6 يوليو 2026، 05 38 47 م

آج کا انسان سائنس، ٹیکنالوجی اور مادی ترقی کی بلندیوں کو چھو رہا ہے، لیکن اخلاقی اعتبار سے شدید بحران کا شکار ہے۔ 

علم بڑھ گیا ہے مگر حکمت کم ہوگئی، وسائل بڑھ گئے مگر سکون کم ہوگیا، طاقت میں اضافہ ہوا مگر انسانیت کمزور پڑ گئی۔ 

یہی وہ لمحہ ہے جب انسان کو دوبارہ اپنی اصل پہچان کی طرف لوٹنے کی ضرورت ہے۔

انسان ہونے کا مطلب صرف سانس لینا نہیں، بلکہ اللہ کی بندگی کرنا، عدل قائم کرنا، مظلوم کا سہارا بننا، علم حاصل کرنا، اخلاق کو سنوارنا اور اپنے رب کی رضا کے مطابق زندگی گزارنا ہے۔

 یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو زمین کی پستیوں سے اٹھا کر آسمانوں کی بلندیوں تک پہنچاتا ہے۔

آخرکار حقیقت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو فرشتوں سے مقابلہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ اپنے قرب کے لیے پیدا کیا ہے۔ 

اگر انسان اپنے رب کا وفادار بندہ بن جائے، اپنی ذمہ داری پہچان لے اور رسول اللہﷺ کے اسوۂ حسنہ کو اپنی زندگی کا نمونہ بنا لے تو وہی انسان معراجِ انسانیت تک پہنچ سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے شرفِ انسانیت کی قدر کرنے، اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے اور دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

فکر و نفس کی تربیت، دین و دنیا کی رہنمائی، کلک کریں

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے