فوڈ ڈلیوری ایپس اب محض وقت بچانے کا ذریعہ نہیں رہیں، بلکہ یہ ایک نئے طرزِ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔
مزید پڑھیں
فون پر چند منٹ میں کھانا منگوانا بظاہر آسان، لیکن اس کی اصل قیمت اکثر کھانے کی قیمت سے کہیں زیادہ ہوتی ہے، جس میں ڈلیوری فیس، سروس چارجز اور ریستورانوں کے بدلتے ہوئے نرخ شامل ہوتے ہیں۔
خفیہ اخراجات کا جال
ماہرینِ معاشیات اسے سہولت کی آڑ میں ’خاموش مالیاتی بوجھ‘قرار دیتے ہیں۔
اگرچہ ہر آرڈر پر لی جانے والی فیس معمولی محسوس ہوتی ہے، لیکن سال بھر میں یہ چھوٹی رقوم مل کر ایک بڑی رقم بن جاتی ہیں، جو صارف کو محسوس ہوئے بغیر خاندانی بجٹ کا ایک بڑا حصہ ہڑپ کر جاتی ہیں۔
عالمی سطح پر بڑھتا ہوا رجحان
یہ رجحان صرف مغرب تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر پھیل چکا ہے۔
’گرینڈ ویو ریسرچ‘ کے مطابق 2024 میں فوڈ ڈلیوری مارکیٹ کی مالیت 288.8 ارب ڈالر تھی، جو 2030 تک 9.4 فیصد کی شرح سے بڑھ کر 505.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔
قیمتوں میں اضافے کا تناسب
امریکی نیشنل ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن کے مطابق ایپس کے ذریعے آرڈر کرنے پر قیمت براہ راست ریستوران سے خریدنے کے مقابلے میں 20 سے 40 فیصد زیادہ ہوتی ہے۔
اس میں ڈلیوری فیس (2 تا 5 ڈالر)، سروس (10 تا 15 فیصد) اور مینو کی قیمت میں فرق (1 تا 3 ڈالر) شامل ہے۔
سالانہ نقصان کا حساب
ایک اوسط خاندان جو ہفتے میں 3 بار آن لائن کھانا آرڈر کرتا ہے، وہ سالانہ تقریباً 780 ڈالر اضافی خرچ کرتا ہے۔
اگر آرڈر کی تعداد 5 تک پہنچ جائے تو یہ بوجھ 1300 ڈالر سالانہ تک جا سکتا ہے، جس کا عام صارف کو فوری طور پر ادراک نہیں ہوتا۔
غیر محسوس اخراجات کا نفسیاتی پہلو
ماہرینِ نفسیات کے مطابق ڈیجیٹل ادائیگی کے طریقے ’خرچ کرنے کے احساس‘ کو کم کر دیتے ہیں۔
چونکہ صارف کو نقد رقم ہاتھ سے نہیں دینی پڑتی، اس لیے وہ بار بار آرڈر کرنے کی ترغیب پاتا ہے اور اسے مجموعی اخراجات کا اندازہ نہیں ہو پاتا، جسے ’پین آف پئینگ (Pain of Paying) کہا جاتا ہے۔
عرب خطے میں صورتحال اور ریگولیشن
سعودی عرب میں آن لائن فوڈ ڈلیوری مارکیٹ 2.8 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ اسی طرح دبئی میں بھی ایپس 1.5 سے 3 ڈالر تک فیس وصول کرتی ہیں۔
اس کے برعکس کویت کی وزارتِ تجارت نے ایپس کی ڈلیوری فیس پر قانونی حد مقرر کر دی ہے۔
چھوٹے ریستورانوں کا بحران
ایپ کمپنیاں ریستورانوں سے 15 سے 35 فیصد تک کمیشن وصول کرتی ہیں، جس کی تلافی کے لیے ریستوران ایپس پر کھانے کی قیمتوں میں 15 سے 30 فیصد تک اضافہ کر دیتے ہیں۔
یہ ’دہرا قیمت کا نظام‘ بالآخر صارف کی جیب سے ادا ہوتا ہے، جس سے چھوٹے کاروباری اداروں کا منافع بھی متاثر ہوتا ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق فوڈ ڈلیوری ایپس کا مستقبل مصنوعی ذہانت اور پرسنلائزڈ آفرز کے ساتھ جڑا ہے، جو طلب میں مزید اضافے کا باعث بنے گا۔
لہٰذا معاشی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ صارفین آرڈر کی سہولت کے بجائے سالانہ مالی نتائج کو مدنظر رکھیں، تاکہ یہ سہولت ایک غیر ضروری مالی بوجھ میں نہ بدل جائے۔