ارجنٹائن کی حکومت نے ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے ’غیر انسانی کمپنیوں‘ کے قیام کے لیے قانونی ڈھانچے کی تجویز پیش کی ہے۔
مزید پڑھیں
اس اقدام کا مقصد ایسے کاروباری ادارے تشکیل دینا ہے جن کا انتظام روایتی انسانی انتظامیہ کے بجائے مصنوعی ذہانت کے خودکار نظام اور ڈیجیٹل ایجنٹس کے ذریعے چلایا جائے گا۔
خودکار نظام اور اے آئی ایجنٹس
اگر یہ منصوبہ منظور ہو جاتا ہے تو ارجنٹائن ایسی قانونی بنیاد رکھنے والا دنیا کا پہلا ملک بن جائے گا، تاہم ان کمپنیوں کی نگرانی اور حتمی
قانونی ذمہ داری بدستور انسانوں ہی کے پاس رہے گی۔
یہ نظام ’ایجنٹک اے آئی‘کے عالمی رجحان کی عکاسی کرتا ہے، جس میں اے آئی محض معلومات فراہم نہیں کرتا بلکہ فیصلے کرنے اور عملی اقدامات اٹھانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
کاروباری انتظام کا نیا ماڈل
روایتی کمپنیاں اب بھی ڈیٹا کے تجزیے اور فیصلہ سازی کے لیے انسانی عملے پر انحصار کرتی ہیں، لیکن اس نئے ماڈل میں اے آئی ایجنٹس بنیادی آپریٹنگ لیئر ہوں گے۔
یہ نظام لارج لینگویج ماڈلز (LLMs)، مشین لرننگ، اور ملٹی ایجنٹ سسٹمز کا امتزاج ہے، جو اکاؤنٹنگ اور انوینٹری جیسے اہم شعبوں کو براہ راست کنٹرول کرتے ہیں۔
فیصلہ سازی کا خودکار عمل
ایک اے آئی کمپنی کا نظام ’کلوزڈ لوپ ڈیسیژن میکنگ‘ کے اصول پر کام کرتا ہے۔
سب سے پہلے یہ مختلف ذرائع سے ڈیٹا اکٹھا کرتا ہے، پھر مشین لرننگ کے ذریعے نتائج کی پیش گوئی کرتا ہے اور آخر میں خودکار طریقے سے خریداری کے آرڈرز دینے یا قیمتوں میں ردوبدل جیسے اقدامات انجام دیتا ہے۔
ملٹی ایجنٹ سسٹمز: جدید ڈھانچہ
اس ماڈل کی کامیابی کا دارومدار ’ملٹی ایجنٹ سسٹمز‘ پر ہے، جہاں مختلف ایجنٹس کو الگ الگ ذمہ داریاں دی جاتی ہیں۔
مثال کے طور پر ایک ایجنٹ مارکیٹ کا تجزیہ کرتا ہے، دوسرا اسٹاک اور سپلائی چین کو دیکھتا ہے، جبکہ تیسرا مالیاتی انتظام سنبھالتا ہے۔ ایک مرکزی ایجنٹ ان سب کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔
ٹیکنالوجی اور عالمی اداروں کا تعاون
اس ماڈل کے لیے کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈیٹا پروسیسنگ ضروری ہے۔
مائیکروسافٹ، گوگل کلاؤڈ اور سیلز فورس جیسی کمپنیاں پہلے ہی ایسے پلیٹ فارمز تیار کر رہی ہیں جو اے آئی ایجنٹس کو کاروباری امور انجام دینے میں مدد دیتے ہیں۔
گارٹنر کی رپورٹس کے مطابق ادارے صرف تجاویز نہیں بلکہ عملی نتائج والے ایجنٹس کی جانب مائل ہو رہے ہیں۔
سائبر سیکیورٹی کے چیلنجز
اے آئی کو مالیاتی نظام تک رسائی دینے سے سیکیورٹی خدشات بھی بڑھتے ہیں۔ اس کے لیے کمپنیوں کو ’لیسٹ پریویلیج‘ (کم سے کم رسائی) کے اصول پر عمل کرنا ہوگا۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹینڈرڈز اینڈ ٹیکنالوجی (NIST) کے مطابق حساس فیصلوں، جیسے مالیاتی منتقلی کے لیے ’ہیومن ان دی لوپ‘ یعنی انسانی نگرانی کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔
اگرچہ یہ تصور انقلابی ہے، لیکن ماہرین کے مطابق مکمل خود مختار اے آئی کمپنی کا قیام فی الحال دُور ہے۔
موجودہ اے آئی ماڈلز میں غلط فہمی (ہلوسینیشن) اور غیر متوقع صورتحال سے نمٹنے کی محدود صلاحیت کے پیشِ نظر ارجنٹائن کا مجوزہ ماڈل اے آئی کو قانونی شخصیت دینے کے بجائے اسے صرف ایک خودکار انتظامی ٹول کے طور پر پیش کرتا ہے، جس کی حتمی جوابدہی ہمیشہ انسان ہی کے کندھوں پر ہوگی۔