براہ راست نشریات

کروڑوں کے مجمع میں بھی مجتبیٰ کا کوئی نشان نہیں، دنیا حیران

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
مجتبیٰ خامنہ ای

تہران میں سابق ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے جنازے کا تاریخی جلوس تیسرے روز بھی جاری ہے، جہاں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں افراد کی شرکت کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
تاہم نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی مسلسل غیر حاضری عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جبکہ ایران اس عظیم الشان جنازے کو داخلی استحکام، عوامی حمایت اور عالمی سطح پر طاقت کے اظہار کے طور پر پیش کر رہا ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای کی مسلسل عدم موجودگی میں آج پیر کی صبح تہران میں ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے جنازے کا مرکزی جلوس تیسرے روز بھی جاری رہا، جہاں سخت سکیورٹی انتظامات اور لاکھوں سوگواروں کی شرکت دیکھنے میں آئی۔

منتظمین کے مطابق جنازے کا جلوس 10 سے 12 گھنٹے تک جاری رہے گا اور تہران کی اہم شاہراہوں اور چوراہوں، جن میں انقلاب اسٹریٹ اور آزادی اسکوائر شامل ہیں، سے گزرے گا۔ 

بعد ازاں علی خامنہ ای کے جسدِ خاکی کو مزید مذہبی رسومات کے لیے قم منتقل کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں

جنازے کی تقریبات یہیں ختم نہیں ہوں گی، بلکہ 8 جولائی کو جنوبی عراق میں نجف اور کربلا میں مزارات پر حاضری بھی پروگرام کا حصہ ہے، جس کے بعد میت دوبارہ ایران لائی جائے گی، جہاں 9 جولائی کو مشہد میں امام رضا کے روضے کے احاطے میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے IRIB نے بتایا کہ تہران میں جنازے کی تقریبات باضابطہ طور پر شروع ہو چکی ہیں۔

 علی خامنہ ای کے قومی پرچم میں لپٹے تابوت کے ساتھ ان کے خاندان کے ان افراد کے تابوت بھی جلوس میں شامل ہیں، جو 28 فروری کو ہونے والے فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔

56464564
مجتبیٰ خامنہ ای منظرِ عام پر نہیں آئے، جس سے ان کی غیر حاضری عالمی بحث کا موضوع بن گئی (فوٹو: فارس نیوز)

یہ تابوت ایک خصوصی گاڑی کے ذریعے تہران کی سڑکوں سے ہوتے ہوئے مہرآباد ایئرپورٹ منتقل کیے جا رہے ہیں۔

ایرانی حکومت نے اتوار اور پیر کو سرکاری تعطیل کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ صرف تہران میں جنازے میں ایک کروڑ 50 لاکھ سے دو کروڑ افراد شریک ہوں گے، جسے حکام عوامی حمایت کے اظہار کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

اتوار کو ادا کی گئی نمازِ جنازہ میں ایران کی سیاسی اور عسکری قیادت نے شرکت کی، جبکہ علی خامنہ ای کے 3 بیٹے مصطفیٰ، مسعود اور میثم بھی موجود تھے۔ 

تاہم نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ایک بار پھر منظرِ عام پر نہیں آئے، جس نے اندرون اور بیرون ملک کئی سوالات کو جنم دیا۔

ہم سے جڑے رہیں

ایرانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کی عدم موجودگی کی وجہ سکیورٹی خدشات اور احتیاطی اقدامات ہیں، کیونکہ جنگ بندی کے باوجود امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔

مجتبیٰ خامنہ ای کی مسلسل غیر حاضری نے عالمی میڈیا کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ 

فرانسیسی اخبار لیبراسیون نے انہیں ’پراسرار شخصیت‘ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ وہ منصب سنبھالنے کے بعد سے نہ عوام کے سامنے آئے ہیں اور نہ ہی ان کی کوئی عوامی تقریر سامنے آئی ہے، حالانکہ انہیں ملک کے اہم ترین فیصلوں کا اصل مرکز سمجھا جاتا ہے۔

دوسری جانب ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ جنازہ صرف ایک مذہبی تقریب نہیں بلکہ دنیا کے لیے ایک سیاسی پیغام بھی ہے۔ 

Untitled 3
ایران نے جنازے کو عوامی طاقت، سیاسی استحکام اور آئندہ سفارتی مذاکرات میں اپنی مضبوط پوزیشن کے اظہار کے طور پر پیش کیا (فوٹو: فارس نیوز)

ان کے مطابق لاکھوں افراد کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست مستحکم ہے، اقتدار کی منتقلی پُرامن انداز میں ہوئی ہے اور ایران آئندہ سفارتی مذاکرات میں بھی مضبوط پوزیشن رکھتا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے رکن ہاشم خنفری نے کہا کہ عوام کی بڑی تعداد میں شرکت ملک کے استحکام اور قومی یکجہتی کی علامت ہے۔ 

جنازے میں شریک کئی افراد نے بھی اس خواہش کا اظہار کیا کہ دنیا ایران کو ایک مضبوط اور خودمختار ملک کے طور پر دیکھے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنازے میں شریک عوام کے جذبات پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تہران میں بہائے جانے والے آنسو شاید مصنوعی ہوں۔ 

انہوں نے کہا کہ انہیں حیرت ہوئی کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ایرانی عوام علی خامنہ ای کو پسند نہیں کرتے تھے۔

مجتبیٰ خامنہ ای کی عدم مجودگی،

سخت سکیورٹی، لاکھوں سوگوار اور اقتدار کی منتقلی پر بڑھتے سوالات

⚰️ مرکزی جلوس

تہران میں علی خامنہ ای کے جنازے کا مرکزی جلوس تیسرے روز بھی جاری رہا، جس میں سخت سکیورٹی انتظامات اور بڑے پیمانے پر سوگواروں کی شرکت دیکھی گئی۔

🛣️ طویل راستہ

منتظمین کے مطابق جلوس 10 سے 12 گھنٹے جاری رہے گا اور انقلاب اسٹریٹ، آزادی اسکوائر سمیت تہران کی اہم شاہراہوں سے گزرے گا۔

🕌 قم، نجف، کربلا

جسدِ خاکی کو قم منتقل کیا جائے گا، پھر 8 جولائی کو نجف اور کربلا میں مزارات پر حاضری کے بعد 9 جولائی کو مشہد میں تدفین ہوگی۔

❓ مجتبیٰ کہاں ہیں؟

نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی مسلسل عدم موجودگی نے اندرون اور بیرون ملک کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ ایرانی ذرائع اسے سکیورٹی خدشات سے جوڑ رہے ہیں۔

🏛️ سیاسی پیغام

ایرانی حکام جنازے کو ریاستی استحکام، پُرامن انتقالِ اقتدار اور عوامی حمایت کے اظہار کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

🌍 عالمی ردعمل

عالمی میڈیا مجتبیٰ خامنہ ای کی غیر حاضری پر توجہ دے رہا ہے، جبکہ امریکی صدر ٹرمپ نے جنازے میں عوامی جذبات پر شکوک کا اظہار کیا۔

مختصر خلاصہ
  • تہران میں علی خامنہ ای کے جنازے کا مرکزی جلوس تیسرے روز بھی جاری ہے۔
  • جنازے کا راستہ تہران سے قم، نجف، کربلا اور پھر مشہد تک پھیلا ہوا ہے۔
  • مجتبیٰ خامنہ ای کی مسلسل عدم موجودگی نے سیاسی سوالات بڑھا دیے ہیں۔
  • ایرانی حکام جنازے کو قومی یکجہتی اور ریاستی استحکام کا پیغام قرار دے رہے ہیں۔
  • واشنگٹن اور تہران نے تدفین مکمل ہونے تک مذاکرات میں ایک ہفتے کا وقفہ کیا ہے۔
🔮 آگے کیا ہوگا؟
  • تدفین کے بعد امریکا اور ایران کے مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے۔
  • مجتبیٰ خامنہ ای کی پہلی عوامی موجودگی یا خطاب پر عالمی نظریں رہیں گی۔
  • ایران جنازے کی عوامی شرکت کو مذاکرات میں سیاسی طاقت کے طور پر پیش کر سکتا ہے۔
  • سکیورٹی خدشات برقرار رہے تو نئی قیادت مزید محتاط انداز اختیار کر سکتی ہے۔
  • آئندہ 60 دن ایران، امریکا اور خطے کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
OP Premium Analysis Pro | overseaspost.net

ویب سائٹ ایکسیوس سے گفتگو میں ٹرمپ نے بتایا کہ واشنگٹن اور تہران نے علی خامنہ ای کی تدفین کی تقریبات مکمل ہونے تک ایک ہفتے کے لیے مذاکرات روکنے پر اتفاق کیا ہے اور اس دوران دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف کوئی فوجی کارروائی نہیں کریں گے، جس کے بعد مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے۔

علی خامنہ ای 28 فروری کو تہران میں اپنی رہائش گاہ پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے تھے، جو خطے میں جنگ کے آغاز کا پہلا بڑا حملہ تھا۔ 

ان کی تدفین اس وقت تک مؤخر کر دی گئی تھی جب تک پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان ایک ابتدائی مفاہمتی یادداشت طے نہیں پا گئی، جس کے تحت آئندہ 60 دنوں میں بنیادی تنازعات پر حتمی معاہدے کی کوشش کی جائے گی۔

Iran Flag
ایران۔امریکہ: تمام اپڈیٹس ایک جگہ پر، کلک کریں
USA Flag