2026 کے ورلڈ کپ سے ناروے کے ہاتھوں اخراج کے بعد برازیل کی 24 سالہ عالمی ٹائٹل سے محرومی مزید طویل ہوگئی۔ اسی دوران 2022 کے ورلڈ کپ میں بلی کو زمین پر پھینکنے کے متنازع واقعے کو ایک بار پھر سوشل میڈیا پر ’بلی کی لعنت‘ کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے۔
2026 کے ورلڈ کپ کے پری کوارٹر فائنل میں ناروے کے ہاتھوں حیران کن شکست کے بعد برازیل ایک بار پھر عالمی فٹبال کی چوٹی تک پہنچنے میں ناکام رہا۔
اس ناکامی کے ساتھ ہی برازیل کی ورلڈ کپ میں ٹرافی سے محرومی کا سلسلہ مسلسل چھٹے ایڈیشن تک جا پہنچا، جبکہ اسے آخری بار 2002 میں جنوبی کوریا اور جاپان میں عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔
اب برازیل کو اگلے موقع کے لیے 2030 کے ورلڈ کپ تک انتظار کرنا ہوگا، جس کی میزبانی اسپین، مراکش اور پرتگال کریں گے، جبکہ ٹورنامنٹ کے سو سال مکمل ہونے کے موقع پر جنوبی امریکا میں بھی چند میچز کھیلے جائیں گے۔
مزید پڑھیں
برازیل کی مسلسل ناکامیوں کو کئی شائقین 2022 کے ورلڈ کپ میں پیش آنے والے ایک متنازع واقعے سے جوڑتے ہیں، جسے بعض افراد ’بلی کی لعنت‘ کا آغاز قرار دیتے ہیں۔
یہ واقعہ کروشیا کے خلاف کوارٹر فائنل سے چند روز قبل پیش آیا، جب ونیسیئس جونیئر پریس کانفرنس کر رہے تھے۔ اسی دوران ایک بلی آ کر میز پر لیٹ گئی، جس پر برازیلی ٹیم کے میڈیا افسر نے اسے گردن کے
پیچھے سے سختی سے پکڑ کر زمین پر پھینک دیا۔
اس حرکت پر وہاں موجود صحافی حیران رہ گئے، جبکہ ونیسیئس مسکراتے دکھائی دیے۔
سوشل میڈیا پر اس واقعے پر شدید تنقید ہوئی اور برازیلی ٹیم کو سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔
بعد ازاں برازیلی ٹیم نے منفی تاثر کو کم کرنے کے لیے اسی بلی کو گود لینے کا فیصلہ کیا۔ ارجنٹائن کے اخبار TYC کے مطابق یہ فیصلہ کوچنگ اسٹاف اور کھلاڑیوں نے مشترکہ طور پر کیا، تاکہ ممکنہ ’بدشگونی‘ یا ’لعنت‘ سے بچا جا سکے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کھلاڑیوں نے اس بلی کا نام ’ہیکسا‘ رکھا، جو برازیل کے خوابیدہ چھٹے عالمی ٹائٹل کی علامت تھا۔
تاہم چند ہی روز بعد کروشیا نے پنالٹی شوٹ آؤٹ میں برازیل کو شکست دے کر اس کے چھٹی بار عالمی چیمپئن بننے کے خواب چکنا چور کر دیئے۔
اس کے بعد بھی برازیل کی مشکلات ختم نہ ہو سکیں۔
2022 کے اس واقعے کے بعد برازیل نے مجموعی طور پر 43 میچ کھیلے، جن میں کروشیا کے خلاف ورلڈ کپ مقابلہ، جنوبی امریکا کی ورلڈ کپ کوالیفائنگ مہم، دوستانہ میچز اور کوپا امریکا شامل ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق برازیل نے ان 43 مقابلوں میں 20 فتوحات حاصل کیں، 12 میچ برابر رہے جن میں سے دو میں پنالٹی شوٹ آؤٹ کے ذریعے اسے ٹورنامنٹ سے باہر ہونا پڑا، جبکہ اسے 11 شکستوں کا سامنا کرنا پڑا۔
اگرچہ یہ ریکارڈ مجموعی طور پر مثبت دکھائی دیتا ہے، لیکن برازیل جیسے عالمی معیار کے ملک کے لیے اسے غیر معمولی طور پر کمزور کارکردگی تصور کیا جا رہا ہے۔