ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آخری رسومات دوسرے روز بھی تہران میں جاری رہیں، مگر ان کے جانشین مجتبیٰ خامنہ ای مسلسل عوامی منظر سے غائب ہیں۔
ان کی عدم موجودگی نے سیاسی حلقوں میں کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے، جبکہ ایران اس موقع کو قومی اتحاد اور طاقت کے مظاہرے کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آخری رسومات دوسرے روز بھی تہران میں جاری رہیں، تاہم ان کے جانشین اور بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای ایک بار پھر عوامی منظرنامے سے غائب رہے، جس سے ان کی عدم موجودگی پر قیاس آرائیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔
اتوار کو تہران کے مرکزی مصلیٰ میں علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جس کی امامت 97 سالہ آیت اللہ جعفر سبحانی نے کی۔
جنازے میں لاکھوں افراد کے علاوہ ایران کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت نے شرکت کی۔
جنازے کی پہلی صف میں صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ اسماعیل قاآنی موجود تھے، جبکہ سرکاری ٹیلی وژن کی نشریات کے مطابق متوفی رہنما کے 3 بیٹے مسعود، مصطفیٰ اور میثم بھی جنازے میں شریک ہوئے۔
مزید پڑھیں
اس کے برعکس، 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای، جنہیں نئے سپریم لیڈر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اب تک کسی بھی تقریب میں نظر نہیں آئے۔
وہ گزشتہ 28 فروری کو امریکی، اسرائیلی حملے کے بعد سے عوامی منظر سے غائب ہیں، جس میں علی خامنہ ای نشانہ اور مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہوئے تھے۔
ان کی جانب سے صرف تحریری بیانات جاری کیے گئے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق علی خامنہ ای کا جسدِ خاکی اتوار کی شام تک تہران میں رکھا جائے گا، جبکہ پیر کو دارالحکومت کی سڑکوں پر ایک بڑے جنازے کا جلوس نکالا جائے گا۔
حکومت نے اتوار اور پیر کو سرکاری تعطیل کا اعلان کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ صرف تہران میں ڈیڑھ سے دو کروڑ افراد شرکت کر سکتے ہیں۔
بعد ازاں جنازہ ایران اور عراق کے متعدد شہروں سے گزارا جائے گا، جبکہ تدفین جمعرات کو ان کے آبائی شہر مشہد میں ہوگی۔
سیاسی اور سفارتی پیغام
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ آخری رسومات صرف ایک مذہبی تقریب نہیں بلکہ ایران کی سیاسی طاقت، داخلی اتحاد اور عوامی حمایت کا مظاہرہ بھی ہیں۔
حکام کی کوشش ہے کہ حالیہ جنگوں، داخلی احتجاج اور علاقائی کشیدگی کے بعد دنیا کو یہ پیغام دیا جائے کہ ایرانی ریاست بدستور مضبوط اور متحد ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق ملک بھر سے آنے والے عزاداروں کی سہولت کے لیے تہران میں 400 سے زائد امدادی خیمے قائم کیے گئے ہیں، جبکہ مختلف ریاستی اداروں اور فوج نے بھی عوام سے بھرپور شرکت کی اپیل کی ہے۔
صدر مسعود پزشکیان نے اپنے پیغام میں کہا کہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات صرف جنازہ نہیں بلکہ ایران کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہیں، جہاں مرحوم رہنما کو مزاحمت اور استقامت کی علامت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
مذاکرات پر نظریں
دوسری جانب امریکی اور ایرانی حکام کی نظریں بھی انہی تقریبات پر مرکوز ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات کی بحالی کا امکان تدفین کی تقریبات مکمل ہونے کے بعد پیدا ہو سکتا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی رابطے ثالث ممالک کے ذریعے برقرار ہیں۔
اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کے خواہاں ہیں، تاہم ان کے بقول آئندہ مذاکرات امریکہ کی طاقت کی پوزیشن سے ہوں گے، جبکہ واشنگٹن کی اصل توجہ ایران کے عملی اقدامات پر ہے، نہ کہ علامتی تقریبات پر۔