عملی اختیارات کے حوالے سے مختلف سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، تاہم متعدد اشارے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ حکومتی اور سیاسی امور میں کسی نہ کسی سطح پر کردار ادا کر رہے ہیں۔
جنیوا گریجویٹ انسٹی ٹیوٹ کے ایرانی امور کے ماہر فرزان ثابت کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای غالباً اپنے دفتر کی معاونت سے ملکی پالیسیوں کے عمومی رخ کی نگرانی کر رہے ہیں، جس میں امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے متعلق اہم فیصلے بھی شامل ہیں۔
تاہم ان کے بقول موجودہ سکیورٹی صورتحال اور صحت کے مسائل کے باعث ان کی عملی شمولیت اپنے والد کے مقابلے میں محدود دکھائی دیتی ہے۔
دوسری جانب اوٹاوا یونیورسٹی کے پروفیسر توما جونو کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے حقیقی اختیارات اب بھی واضح نہیں، اور اس مرحلے پر ان کے اثر و رسوخ کا موازنہ علی خامنہ ای سے کرنا قبل از وقت ہوگا۔
البتہ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ مجتبیٰ خامنہ ای ملک کی طاقتور شخصیات، بالخصوص پاسدارانِ انقلاب کے اہم رہنماؤں، کے ساتھ قریبی روابط رکھتے ہیں۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کو کہا تھا کہ سپریم لیڈر کے ساتھ رابطہ مسلسل برقرار ہے اور ان کی ہدایات بروقت حکومت تک پہنچتی رہتی ہیں۔
عراقچی کے مطابق امریکا کے ساتھ مذاکراتی عمل بھی مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کے مطابق جاری ہے، اگرچہ دونوں فریق اب تک کسی حتمی اتفاقِ رائے تک نہیں پہنچ سکے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی حال ہی میں کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں براہِ راست دلچسپی لے رہے ہیں، جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ان کے بڑھتے ہوئے کردار کی جانب اشارہ کیا تھا۔
یاد رہے کہ ایران میں سپریم لیڈر کا منصب ریاستی نظام کا سب سے طاقتور عہدہ سمجھا جاتا ہے، جو ملکی سیاسی، عسکری اور سکیورٹی پالیسیوں کے حتمی فیصلوں کا اختیار رکھتا ہے۔