اہم خبریں
13 June, 2026
--:--:--
براہ راست نشریات

ایران نے خاموشی توڑ دی، مجتبیٰ خامنہ ای کی سنگین چوٹ کی تصدیق

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
مجتبیٰ خامنہ ای زخمی

ایران کی مجلسِ خبرگانِ رہبری کے رکن احمد خاتمی نے پہلی بار اعتراف کیا ہے کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای امریکی، اسرائیلی جنگ کے آغاز میں شدید زخمی ہوئے تھے اور ایک مرحلے پر ان کی ٹانگ کاٹنے کا خطرہ بھی پیدا ہوگیا تھا۔
یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مجتبیٰ خامنہ ای اپنے انتخاب کے بعد سے عوامی سطح پر نظر نہیں آئے اور ان کی صحت و سیاسی کردار پر قیاس آرائیاں جاری ہیں۔

ایران کی مجلسِ خبرگانِ رہبری کے رکن احمد خاتمی نے انکشاف کیا ہے کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے پہلے روز سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی ٹانگ زخمی ہوگئی تھی۔

ہفتے کے روز شہر سیرجان کی انتظامی کونسل کے ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے احمد خاتمی نے بتایا کہ چوٹ اس قدر شدید تھی کہ ایک مرحلے پر ٹانگ کاٹنے کا امکان بھی زیرِ غور آیا، تاہم ڈاکٹروں نے بروقت طبی مداخلت کے ذریعے اسے بچا لیا۔ 

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ پہلا باضابطہ اعتراف ہے جس میں مجتبیٰ خامنہ ای کی جنگ کے دوران لگنے والی شدید چوٹ کی تصدیق کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں

یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مارچ میں اپنے والد علی خامنہ ای کے جانشین منتخب ہونے کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای عوامی سطح پر کسی تقریب میں نظر نہیں آئے۔ 

علی خامنہ ای 28 فروری کو ایران کے خلاف شروع ہونے والی امریکی، اسرائیلی جنگ کے پہلے ہی دن ہلاک ہوگئے تھے۔

مجتبیٰ خامنہ ای کی طویل عوامی غیرحاضری کے باعث ان کی صحت اور 

عملی اختیارات کے حوالے سے مختلف سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، تاہم متعدد اشارے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ حکومتی اور سیاسی امور میں کسی نہ کسی سطح پر کردار ادا کر رہے ہیں۔

جنیوا گریجویٹ انسٹی ٹیوٹ کے ایرانی امور کے ماہر فرزان ثابت کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای غالباً اپنے دفتر کی معاونت سے ملکی پالیسیوں کے عمومی رخ کی نگرانی کر رہے ہیں، جس میں امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے متعلق اہم فیصلے بھی شامل ہیں۔ 

تاہم ان کے بقول موجودہ سکیورٹی صورتحال اور صحت کے مسائل کے باعث ان کی عملی شمولیت اپنے والد کے مقابلے میں محدود دکھائی دیتی ہے۔

ChatGPT Image 7 يونيو 2026، 10 01 25 ص

دوسری جانب اوٹاوا یونیورسٹی کے پروفیسر توما جونو کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے حقیقی اختیارات اب بھی واضح نہیں، اور اس مرحلے پر ان کے اثر و رسوخ کا موازنہ علی خامنہ ای سے کرنا قبل از وقت ہوگا۔ 

البتہ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ مجتبیٰ خامنہ ای ملک کی طاقتور شخصیات، بالخصوص پاسدارانِ انقلاب کے اہم رہنماؤں، کے ساتھ قریبی روابط رکھتے ہیں۔

ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کو کہا تھا کہ سپریم لیڈر کے ساتھ رابطہ مسلسل برقرار ہے اور ان کی ہدایات بروقت حکومت تک پہنچتی رہتی ہیں۔ 

عراقچی کے مطابق امریکا کے ساتھ مذاکراتی عمل بھی مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کے مطابق جاری ہے، اگرچہ دونوں فریق اب تک کسی حتمی اتفاقِ رائے تک نہیں پہنچ سکے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی حال ہی میں کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں براہِ راست دلچسپی لے رہے ہیں، جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ان کے بڑھتے ہوئے کردار کی جانب اشارہ کیا تھا۔

یاد رہے کہ ایران میں سپریم لیڈر کا منصب ریاستی نظام کا سب سے طاقتور عہدہ سمجھا جاتا ہے، جو ملکی سیاسی، عسکری اور سکیورٹی پالیسیوں کے حتمی فیصلوں کا اختیار رکھتا ہے۔