امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کی راہ میں ایک اہم قانونی رکاوٹ سامنے آگئی ہے۔
11 سال پرانے امریکی قانون INARA کے تحت ایران کے ساتھ ہونے والے کسی بھی معاہدے کو کانگریس میں پیش کرنا اور اس کا جائزہ لینا لازمی ہوگا۔
اس دوران قانون ساز معاہدے کو مسترد کرنے کے لیے ووٹنگ بھی کر سکتے ہیں، جس سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے کسی حتمی ڈیل کو نافذ کرنا مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔
اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنا ابھی بھی مشکل مرحلہ دکھائی دیتا ہے، لیکن مذاکرات کاروں کی رضامندی بھی اس معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے کافی نہیں ہوگی۔
ایک 11 سال پرانا امریکی قانون صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ کسی بھی بڑے معاہدے کو نافذ کرنے کی راہ میں اہم رکاوٹ بن سکتا ہے۔
امریکی جریدے پولیٹیکو کے مطابق ’ایران نیوکلیئر ایگریمنٹ ریویو ایکٹ‘ INARA کے تحت امریکی صدر پر لازم ہے کہ وہ ایران کے ساتھ طے پانے والے کسی بھی معاہدے کو دستخط کے 5 دن کے اندر کانگریس کے سامنے پیش کریں اور حکومتی عہدیداروں کی جانب سے اس پر بریفنگ بھی فراہم کی جائے۔
مزید پڑھیں
یہ قانون صدر کو فوری طور پر معاہدہ نافذ کرنے سے بھی روکتا ہے، کیونکہ کانگریس کو اس کے جائزے کے لیے تقریباً دو ماہ تک کا وقت دیا جاتا ہے۔
اس دوران اراکینِ کانگریس معاہدے کو مسترد کرنے کے لیے ووٹنگ بھی
کر سکتے ہیں، اگرچہ صدر کے پاس ویٹو کا اختیار برقرار رہتا ہے۔
کانگریس میں بڑھتی دلچسپی
العربیہ کے مطابق حالیہ دنوں میں اس قانون کے حوالے سے کانگریس میں دلچسپی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس خواکین کاسترو نے ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کے اجلاس میں وزیر خارجہ مارکو روبیو سے کہا کہ اگر کوئی ایسا معاہدہ سامنے آتا ہے جس کا جائزہ قانون INARA کے تحت لیا جانا ہو تو وہ اس پر کھلے ذہن کے ساتھ غور کریں گے، اور امید کرتے ہیں کہ دیگر قانون ساز بھی ایسا ہی کریں گے۔
اسی سماعت کے دوران الینوائے سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکن بریڈ شنائیڈر نے جب روبیو سے پوچھا کہ آیا ٹرمپ انتظامیہ اس قانون کی پابندی کرے گی تو امریکی وزیر خارجہ نے واضح جواب دیا: ہم قانون INARA پر مکمل عمل کریں گے۔
معاہدہ ہو بھی جائے تو؟
کانگریس بن سکتی ہے سب سے بڑی رکاوٹ
11 سال پرانا امریکی قانون INARA ایران کے ساتھ کسی بھی بڑے معاہدے کو کانگریس کی جانچ پڑتال کے دائرے میں لے آ سکتا ہے۔
2015
قانون INARA کی منظوری
5 دن
معاہدہ کانگریس میں پیش کرنے کی مدت
60 دن
کانگریس کے جائزے کا ممکنہ دورانیہ
VETO
صدر کے پاس ویٹو کا اختیار برقرار
🏛️ INARA کیسے کام کرتا ہے؟
① معاہدہ طے پاتا ہے
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت یا معاہدے پر اتفاق ہوتا ہے۔
② پانچ دن کے اندر کانگریس کو پیش
صدر کو معاہدے کی تفصیلات اور حکومتی بریفنگ کے ساتھ کانگریس کو مطلع کرنا ہوتا ہے۔
③ کانگریس جائزہ لیتی ہے
اراکین معاہدے کا جائزہ لیتے ہیں اور اس پر بحث و مباحثہ کرتے ہیں۔
④ منظوری یا مخالفت
کانگریس مخالفت میں ووٹ دے سکتی ہے، تاہم صدر کے پاس ویٹو استعمال کرنے کا اختیار موجود رہتا ہے۔
👥 سیاسی مؤقف
🟢 ڈیموکریٹس
معاہدے کا جائزہ لینے پر آمادگی ظاہر کر رہے ہیں، لیکن مکمل کانگریسی نگرانی پر زور دے رہے ہیں۔
🔴 ریپبلکنز
متعدد ریپبلکن ارکان ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر تحفظات اور خدشات رکھتے ہیں۔
🔍 کانگریس کن نکات پر توجہ دے گی؟
📌 اہم نتیجہ
اگر امریکا اور ایران کسی معاہدے تک پہنچ بھی جاتے ہیں تو اس کا راستہ کانگریس سے ہو کر گزرے گا، جہاں قانون INARA کے تحت سخت سیاسی جانچ پڑتال اور ووٹنگ ناگزیر ہوگی۔
ریپبلکن حلقوں کے تحفظات
دوسری جانب متعدد ریپبلکن قانون ساز ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے بارے میں شکوک و شبہات رکھتے ہیں۔
سینیٹ کی مسلح افواج کمیٹی کے چیئرمین راجر ویکر نے خبردار کیا کہ تہران کے ساتھ معاہدے کی کوشش امریکا کی کمزوری کا تاثر پیدا کر سکتی ہے۔
ادھر سینیٹر لنڈسی گراہم نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایسا معاہدہ مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو نمایاں طور پر تبدیل کر سکتا ہے، تاہم انہوں نے اس اعتماد کا اظہار بھی کیا کہ صدر ٹرمپ بالآخر ایران کے ساتھ کوئی ’خراب معاہدہ‘ قبول نہیں کریں گے۔
جوہری پروگرام شامل ہوا تو قانون خودکار طور پر لاگو ہوگا
ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سابق عہدیدار، جو ایرانی امور پر کام کر چکے ہیں، نے کہا کہ اگر کسی بھی معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام یا افزودہ یورینیم کا ذکر شامل ہوا تو قانون INARA خود بخود لاگو ہو جائے گا۔
انہوں نے صدر ٹرمپ کے ایک سابق بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو یہ ضمانت دینا ہوگی کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار یا ایٹم بم حاصل نہیں کرے گا، اور ایسی شقیں معاہدے کو لازمی طور پر کانگریس کی جانچ پڑتال کے دائرے میں لے آئیں گی۔
پابندیاں اور منجمد اثاثے بھی زیرِ غور
سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی میں سرکردہ ڈیموکریٹ رکن جین شاہین نے زور دیا کہ ایران کے ساتھ ہونے والا کوئی بھی معاہدہ یا مفاہمت کانگریس کے مقرر کردہ تمام جائزہ مراحل سے گزرنا چاہیے۔
اسی طرح ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کی مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ ذیلی کمیٹی کے سربراہ مائیک لولر نے واضح کیا کہ ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی یا منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی جیسے معاملات کانگریس کی خصوصی توجہ کا مرکز ہوں گے۔
سیاسی جانچ پڑتال ناگزیر
اگرچہ صدر ٹرمپ کسی بھی مسترد شدہ معاہدے کے خلاف صدارتی ویٹو استعمال کر سکتے ہیں، تاہم قانون INARA اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ کانگریس کے دونوں ایوانوں میں معاہدے پر باضابطہ بحث اور ووٹنگ ہو۔
اسی لیے ماہرین کا خیال ہے کہ اگر امریکا اور ایران کسی مفاہمت تک پہنچ بھی جاتے ہیں تو اس کے باوجود معاہدے کو نافذ ہونے سے پہلے واشنگٹن میں سخت سیاسی جانچ پڑتال اور کانگریسی نگرانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔