دنیا بھر میں گوگل کے پکسل موبائل فونز اپنی منفرد پہچان اور خوبیاں رکھتے ہیں، تاہم اس بار کمپنی نے پکسل 11 لینے کی خواہش رکھنے والوں کے لیے بُری خبر سنائی ہے۔
مزید پڑھیں
اسمارٹ فون خریدتے وقت زیادہ ریم اور اسٹوریج کو اہمیت دینے والے صارفین کو آنے والے مہینوں میں اپنی جیب کچھ زیادہ ڈھیلی کرنا پڑسکتی ہے۔
عالمی سطح پر میموری کی بڑھتی قیمتوں نے اب گوگل کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور کمپنی نے تصدیق کردی ہے کہ اس کی نئی پکسل 11 سیریز سمیت پکسل فونز کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔
گوگل کی جانب سے وضاحت کی گئی ہے کہ اس نے بڑھتی لاگت کا بوجھ کافی عرصے تک خود برداشت کیا، مگر اب اسے صارفین تک منتقل کیے بغیر چارہ نہیں رہا۔
یاد رہے کہ نئے ماڈل کی قیمتوں کی مکمل تفصیلات 12 اگست کو کمپنی کے ایونٹ میں سامنے آئیں گی۔
📱 گوگل پکسل دوسروں سے منفرد کیوں ہے؟
میموری کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ
اس ممکنہ مہنگائی کے پیچھے اہم ترین وجہ ریم کی بڑھتی قیمت ہے۔ گوگل کے نائب صدر برائے ڈیوائسز اینڈ سروسز شکیل برکات کے مطابق میموری کی قیمتیں اس سطح پر پہنچ چکی ہیں جس کی ماضی میں مثال نہیں ہے۔
مورگن اسٹینلے کے اس حوالے سے اعداد و شمار صورتحال کی سنگینی کو مزید واضح کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2025 میں ایک گیگابائٹ ریم کی لاگت 2.80 ڈالر تھی، جو رواں سال بڑھ کر 12 ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ یعنی صرف ایک سال میں یہ لاگت 4 گنا سے بھی زیادہ ہوگئی۔
گوگل پکسل 11 صارفین کے لیے بُری خبر
عالمی میموری بحران کے باعث قیمتوں میں بڑا اضافہ طے
💸 قیمت میں متوقع اضافہ 📱
+$100پکسل 11، پرو، پرو ایکس ایل اور فولڈ ماڈلز کی ابتدائی قیمت گزشتہ جنریشن سے 100 ڈالر تک زیادہ ہو سکتی ہے۔
💾 دگنی بنیادی اسٹوریج 🚀
256GBاضافی قیمت کے عوض صارف کو بنیادی اسٹوریج 128 جی بی سے بڑھا کر 256 جی بی فراہم کیے جانے کا امکان ہے۔
📉 ریم میں ممکنہ کمی ⚠️
12GBاخراجات کنٹرول کرنے کے لیے پکسل 11 پرو میں 16 جی بی کے بجائے 12 جی بی ریم دیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
📅 اہم اعلان کی تاریخ 🗓️
12 Augگوگل کے 12 اگست کے خصوصی ایونٹ میں تمام نئے ماڈلز کی حتمی قیمتوں اور تفصیلات کا باقاعدہ اعلان ہو گا۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
پکسل 11 کتنا مہنگا ہوسکتا ہے؟
گوگل نے ابھی ہر ماڈل کی حتمی قیمت ظاہر نہیں کی، تاہم پہلے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق پکسل 11 اور پکسل 11 پرو کی ابتدائی قیمت گزشتہ جنریشن کے مقابلے میں تقریباً 100 ڈالر زیادہ ہوسکتی ہے۔
البتہ صارفین کے لیے ایک حد تک اچھی خبر یہ ہے کہ دونوں فونز کی بنیادی اسٹوریج 128 جی بی سے بڑھا کر 256 جی بی کیے جانے کا امکان ہے۔
اس طرح اضافی قیمت کے ساتھ صارف کو دگنی اسٹوریج ملے گی، جسے مہنگی قیمت کا جواز کہا جا سکتا ہے۔
حیران کن طور پر پکسل 11 پرو میں ریم بڑھنے کے بجائے کم ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔ لیکس کے مطابق اس ماڈل میں 16 جی بی کے بجائے 12 جی بی ریم دی جاسکتی ہے۔
📱 اہم نکات
پرو ایکس ایل اور فولڈ خریداروں کو بھی جھٹکا
مہنگائی صرف بنیادی ماڈلز تک محدود رہنے کا امکان نہیں ہے۔ پکسل 11 پرو ایکس ایل اور پکسل 11 پرو فولڈ کی قیمت بھی تقریباً 100 ڈالر بڑھنے کی اطلاعات ہیں۔
گوگل کی تصدیق اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ میموری بحران اب محض پرزہ ساز کمپنیوں کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ اس کا اثر براہ راست صارفین تک پہنچنے لگا ہے۔
اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے عرصے میں صرف گوگل پکسل ہی نہیں بلکہ دوسری کمپنیوں کے فلیگ شپ اینڈرائیڈ فونز بھی مہنگے ہوسکتے ہیں۔
پاکستانی صارفین کے لیے یہ اضافہ مزید نمایاں ہوسکتا ہے، کیونکہ عالمی قیمت کے ساتھ درآمدی اخراجات، ٹیکس اور مقامی مارکیٹ کے مارجن بھی حتمی قیمت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
اب صارفین کی اصل نظر 12 اگست کے ایونٹ پر ہوگی، جہاں معلوم ہوگا کہ گوگل میموری بحران کا کتنا بوجھ خود اٹھاتا ہے اور کتنا صارفین کی جیب پر ڈالتا ہے۔