امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنے ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹرتھ سوشل‘ کا بے دریغ استعمال اب ان کی اپنی انتظامیہ کے لیے دردِ سر بن چکا ہے۔
مزید پڑھیں
ٹرمپ کی جانب سے اچانک پالیسی بیانات، مثلاً ایران پر بحری محاصرہ ختم کرنے کا اعلان، عالمی سطح پر کنفیوژن پھیلاتے ہیں، جس سے نمٹنے کے لیے ان کے مشیروں کو مسلسل صفائیاں پیش کرنی پڑتی ہیں۔
ٹرمپ نے 2021 کے آخر میں ’ٹرتھ سوشل‘کا آغاز سیلیکون ویلی کے بڑے ٹیک اداروں کے خلاف ایک جنگ اور اپنے نظریات کے اظہار کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر کیا تھا۔
اس دوران اسے ایک ایسے ہتھیار کے طور پر دیکھا گیا جو انہیں سنسر شپ سے آزاد رکھتا تھا، تاہم اب یہ پلیٹ فارم خود ان کی انتظامیہ کے لیے ایک تزویراتی بوجھ میں تبدیل ہو چکا ہے۔
’ایکو چیمبر‘ میں قید ٹرمپ
ٹرمپ کا یہ پلیٹ فارم اب ایک ایسے ایکو چیمبر میں بدل چکا ہے جہاں صرف ان کے وفادار حامی موجود ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) جیسے عالمی سطح پر مؤثر پلیٹ فارمز کو چھوڑ کر محدود دائرے میں رہنے سے ٹرمپ غیر جانبدار ووٹرز اور عالمی رائے عامہ تک پہنچنے کا موقع گنوا رہے ہیں۔
انتظامیہ کے لیے تزویراتی بحران
واضح رہے کہ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسٹ سمیت دیگر حکام کو ٹرمپ کی پوسٹس کے بعد اکثر وضاحتیں دینی پڑتی ہیں کہ معاشی پالیسیوں میں تبدیلی فوری نہیں ہوگی۔
ویب سائٹ ’ایکسیس‘ کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے ذاتی جذبات پر مبنی فیصلوں اور ایران جیسی حساس صورتحال پر عجلت میں دیے گئے بیانات نے ان کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔
معاشی پالیسیوں سے متعلق غیر یقینی
میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے تجارتی محصولات کے اعلانات اور فیڈرل ریزرو پر دباؤ جیسے معاملات بھی اسی پلیٹ فارم سے سامنے آتے ہیں۔
ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اپنی ہی ایپ کی گرتی ہوئی مارکیٹ ویلیو بچانے کی کوشش میں ٹرمپ خود کو ایک متزلزل لیڈر کے طور پر پیش کر رہے ہیں، جو ان کی انتظامی صلاحیتوں پر سوال اٹھاتا ہے۔
تجارتی معاہدوں کی قید
’ٹرتھ سوشل‘ چلانے والی کمپنی کے ساتھ ٹرمپ کا معاہدہ انہیں اس بات کا پابند بناتا ہے کہ وہ اپنا مواد سب سے پہلے اسی پلیٹ فارم پر ڈالیں۔
سوشل میڈیا ماہرین کہتے ہیں کہ یہ اہم پابندی ٹرمپ کو دیگر عالمی پلیٹ فارمز پر فوری ردعمل دینے کی صلاحیت سے محروم کر دیتی ہے، جس سے وہ عالمی میڈیا ٹرینڈز میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔
صحت اور مستقبل کے امکانات
اس طرح کے تنازعات کے درمیان ٹرمپ کے طبی معائنے کے بعد ان کے ڈاکٹر نے 79 سالہ صدر کی صحت کو مکمل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کے دل، پھیپھڑوں اور اعصابی نظام کی کارکردگی بہترین ہے اور وہ ملک کی قیادت کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار اور فٹ ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ’ٹرتھ سوشل‘پر اصرار انہیں ایک ایسی تنہائی میں دھکیل رہا ہے جہاں ان کے الفاظ کا اثر صرف ان کے حامیوں تک محدود ہے۔