براہ راست نشریات

ایران میں کار خریدنا خواب بن گیا، قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران میں کار مارکیٹ کا بحران اور قیمتوں میں اضافہ
مقامی آٹو مارکیٹ میں گاڑیوں کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہیں (فوٹو: اے آئی)

ایران میں مسلسل بڑھتی مہنگائی، گرتی ہوئی کرنسی اور معاشی غیر یقینی صورتحال نے عام شہری کے لیے کار خریدنا تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔

مزید پڑھیں

مقامی آٹو مارکیٹ میں گاڑیوں کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہیں۔ ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ پیداوار میں کمی، ڈالر کی قلت اور خطے میں جاری کشیدگی کے باعث مستقبل میں مزید اضافے کا خدشہ موجود ہے۔

دارالحکومت تہران کی معروف جمہوری اسٹریٹ پر واقع کار شورومز میں خریدار تو آتے ہیں، مگر بیشتر صرف قیمتیں دیکھ کر لوٹ جاتے ہیں۔ 

26 سالہ بہروز بھی انہی افراد میں شامل ہیں، جو کئی ماہ سے گاڑی خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ خواب مزید دُور ہوتا جا رہا ہے۔

🚗📈 اہم نکات
💸 ایران میں مہنگائی اور کرنسی کی گرتی قدر نے عام شہری کے لیے گاڑی خریدنا تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔
🚙 ایران میں سستی ترین مقامی گاڑی کی قیمت بھی تقریباً 10 ارب ریال تک پہنچ چکی ہے۔
🚀 گزشتہ چھ ماہ میں بعض مقامی اور درآمد شدہ گاڑیوں کی قیمتیں دگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہیں۔
📊 بعض کار ماڈلز کی قیمتوں میں 150 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
🏭 ڈالر کی قلت اور معاشی مشکلات کے باعث مقامی گاڑیوں کی پیداوار میں 20 سے 30 فیصد کمی آئی ہے۔
🔒 محدود درآمدات اور چند بڑی کمپنیوں کی اجارہ داری نے مقابلہ کم اور قیمتوں میں اضافے کی راہ ہموار کی ہے۔
📈 ایران کی بڑی آٹو کمپنیوں نے حالیہ عرصے میں قیمتوں میں 21 سے 50 فیصد تک اضافہ کیا ہے۔
🌊 خلیج اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کی کسی بھی خبر پر مارکیٹ فوراً ردعمل دیتی ہے، جس سے قیمتیں مزید بڑھنے لگتی ہیں۔
🏦 بہت سے ایرانی شہری اب گاڑی کو صرف سواری نہیں بلکہ اپنی بچت محفوظ رکھنے کا ذریعہ بھی سمجھتے ہیں۔
😔 مسلسل بڑھتی قیمتوں نے کار خریدنے کے خواب کو عام طبقے کے لیے ایک مہنگی عیاشی میں بدل دیا ہے۔

بہروز نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ موسم سرما میں کار خریدنے کے لیے رقم جمع کرنا شروع کی تھی، تاہم انہوں نے علاقائی کشیدگی کے دوران یہ سوچ کر خریداری مؤخر کردی کہ شاید قیمتیں کم ہو جائیں۔

لیکن جنگ بندی کے بعد صورتحال اس کے برعکس نکلی اور گاڑیوں کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔

انہوں نے کہا کہ ہر بار یہی کہا جاتا ہے کہ ڈالر مہنگا ہوگیا ہے، اسی لیے قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ رمضان سے پہلے جو رقم میں نے جمع کی تھی، آج اس کی قوتِ خرید تقریباً نصف رہ گئی ہے۔ اب میرے پاس اتنے پیسے بھی نہیں کہ سب سے سستی مقامی کار خرید سکوں۔

اس وقت ایران میں مقامی طور پر تیار ہونے والی سستی ترین گاڑی کی قیمت بھی تقریباً 10 ارب ریال (تقریباً 10 ہزار 500 امریکی ڈالر) تک پہنچ چکی ہے، جو عام متوسط طبقے کی پہنچ سے باہر سمجھی جا رہی ہے۔

معیشت، سرمایہ کاری اور مارکیٹ پر نظر رکھیں، کلک کریں

چھ ماہ میں قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ

بازار سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ گزشتہ 6 ماہ کے دوران بعض مقامی اور درآمد شدہ گاڑیوں کی قیمتیں دگنی سے بھی زیادہ ہو چکی ہیں، جبکہ کئی ماڈلز میں 150 فیصد تک اضافے کی اطلاعات ہیں۔

ایک کار شوروم کے سیلز مین داؤد کے مطابق مارکیٹ شدید جمود کا شکار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لوگ گاڑیاں خریدنے کی خواہش تو رکھتے ہیں، مگر ان کی مالی استطاعت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ 

اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️

دوسری جانب کمپنیاں مسلسل قیمتیں بڑھا رہی ہیں، جبکہ معیار اور بعد از فروخت سروس میں خاطر خواہ بہتری نظر نہیں آتی۔

ایران میں کار مارکیٹ کا بحران اور قیمتوں میں اضافہ
مقامی آٹو مارکیٹ میں گاڑیوں کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہیں (فوٹو: اے آئی)

محدود مقابلہ، بڑھتی قیمتیں

ماہرین کے مطابق ایرانی آٹو انڈسٹری کئی برسوں سے محدود مسابقتی ماحول میں کام کر رہی ہے۔

درآمدات پر پابندیوں اور مقامی کمپنیوں کی اجارہ داری کے باعث صارفین کے پاس متبادل بہت کم رہ گئے ہیں، جس کا نتیجہ مسلسل مہنگی اور نسبتاً کم معیار کی گاڑیوں کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔

حالیہ مہینوں میں بڑی مقامی کمپنیوں نے مختلف ماڈلز کی قیمتوں میں 21 سے 50 فیصد تک اضافہ کیا ہے، جس سے آزاد مارکیٹ میں بھی مزید مہنگائی کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

ایران میں آٹو مارکیٹ کا تاریخی بحران

بلند افراطِ زر اور گرتی کرنسی کے باعث گاڑی خریدنا اب ایک ناممکن خواب

ایران میں مسلسل مہنگائی، ڈالر کی قلت اور مقامی کمپنیوں کی اجارہ داری نے گاڑیوں کی قیمتوں کو عام اور متوسط طبقے کی پہنچ سے بالکل باہر کر دیا ہے۔

150%

قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ 📈

گزشتہ 6 ماہ کے دوران بعض مقامی اور درآمد شدہ گاڑیوں کی قیمتوں میں 150 فیصد تک کا غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

10

سستی ترین گاڑی کی قیمت 💰

ملک میں تیار ہونے والی سب سے سستی کار بھی 10 ارب ریال تک پہنچ چکی ہے، جو متوسط طبقے کے لیے ناقابلِ خرید ہے۔

30%

مقامی پیداوار میں شدید کمی 📉

ڈالر کی قلت اور معاشی بحران کی وجہ سے رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں گاڑیوں کی پیداوار 20 سے 30 فیصد تک گر گئی ہے۔

50%

کمپنیوں کی سرکاری سرپرستی ⚠️

درآمدات پر سخت پابندیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑی مقامی کمپنیوں نے مختلف ماڈلز کی قیمتیں 21 سے 50 فیصد تک بڑھا دی ہیں۔

صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے

آٹو انڈسٹری کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران میں بلند افراطِ زر، ڈالر کی کمی اور مقامی پیداوار میں کمی نے بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں مقامی گاڑیوں کی پیداوار میں 20 سے 30 فیصد تک کمی آئی، جبکہ خطے میں کسی بھی نئی کشیدگی یا آبنائے ہرمز سے متعلق پیش رفت کا اثر فوری طور پر گاڑیوں کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔

🚗📊 فیکٹ باکس
💰 سستی ترین مقامی کار تقریباً 10 ارب ریال
💵 ڈالر میں تخمینی قیمت تقریباً 10,526 ڈالر
🚀 بعض کاروں کی قیمت میں اضافہ 150 فیصد سے زائد
📈 بڑی کمپنیوں کا حالیہ اضافہ 21 سے 50 فیصد
🏭 مقامی پیداوار میں کمی 20 سے 30 فیصد
📉 جمع شدہ رقم کی قوتِ خرید تقریباً نصف رہ گئی
🏢 نمایاں ایرانی آٹو کمپنیاں سائپا، ایران خودرو
🔒 مارکیٹ کا بنیادی مسئلہ محدود مقابلہ اور اجارہ داری
💱 قیمتیں بڑھنے کی بڑی وجہ ڈالر کی قلت اور مہنگائی
🌊 مارکیٹ پر فوری اثرانداز عنصر خلیج اور آبنائے ہرمز کی کشیدگی

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران میں اب بہت سے لوگ گاڑی کو صرف سفری ضرورت نہیں بلکہ اپنی بچت کو مہنگائی سے محفوظ رکھنے کا ذریعہ بھی سمجھتے ہیں۔ 

تاہم مسلسل بڑھتی قیمتوں نے عام شہری کے لیے کار خریدنے کو ایک ایسے خواب میں بدل دیا ہے، جو اب صرف خوشحال طبقے کی دسترس میں رہ گیا ہے۔

ہم سے جڑے رہیں