ایران میں مسلسل بڑھتی مہنگائی، گرتی ہوئی کرنسی اور معاشی غیر یقینی صورتحال نے عام شہری کے لیے کار خریدنا تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔
مزید پڑھیں
مقامی آٹو مارکیٹ میں گاڑیوں کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہیں۔ ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ پیداوار میں کمی، ڈالر کی قلت اور خطے میں جاری کشیدگی کے باعث مستقبل میں مزید اضافے کا خدشہ موجود ہے۔
دارالحکومت تہران کی معروف جمہوری اسٹریٹ پر واقع کار شورومز میں خریدار تو آتے ہیں، مگر بیشتر صرف قیمتیں دیکھ کر لوٹ جاتے ہیں۔
26 سالہ بہروز بھی انہی افراد میں شامل ہیں، جو کئی ماہ سے گاڑی خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ خواب مزید دُور ہوتا جا رہا ہے۔
🚗📈 اہم نکات
بہروز نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ موسم سرما میں کار خریدنے کے لیے رقم جمع کرنا شروع کی تھی، تاہم انہوں نے علاقائی کشیدگی کے دوران یہ سوچ کر خریداری مؤخر کردی کہ شاید قیمتیں کم ہو جائیں۔
لیکن جنگ بندی کے بعد صورتحال اس کے برعکس نکلی اور گاڑیوں کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔
انہوں نے کہا کہ ہر بار یہی کہا جاتا ہے کہ ڈالر مہنگا ہوگیا ہے، اسی لیے قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ رمضان سے پہلے جو رقم میں نے جمع کی تھی، آج اس کی قوتِ خرید تقریباً نصف رہ گئی ہے۔ اب میرے پاس اتنے پیسے بھی نہیں کہ سب سے سستی مقامی کار خرید سکوں۔
اس وقت ایران میں مقامی طور پر تیار ہونے والی سستی ترین گاڑی کی قیمت بھی تقریباً 10 ارب ریال (تقریباً 10 ہزار 500 امریکی ڈالر) تک پہنچ چکی ہے، جو عام متوسط طبقے کی پہنچ سے باہر سمجھی جا رہی ہے۔
چھ ماہ میں قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ
بازار سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ گزشتہ 6 ماہ کے دوران بعض مقامی اور درآمد شدہ گاڑیوں کی قیمتیں دگنی سے بھی زیادہ ہو چکی ہیں، جبکہ کئی ماڈلز میں 150 فیصد تک اضافے کی اطلاعات ہیں۔
ایک کار شوروم کے سیلز مین داؤد کے مطابق مارکیٹ شدید جمود کا شکار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لوگ گاڑیاں خریدنے کی خواہش تو رکھتے ہیں، مگر ان کی مالی استطاعت ختم ہوتی جا رہی ہے۔
دوسری جانب کمپنیاں مسلسل قیمتیں بڑھا رہی ہیں، جبکہ معیار اور بعد از فروخت سروس میں خاطر خواہ بہتری نظر نہیں آتی۔
محدود مقابلہ، بڑھتی قیمتیں
ماہرین کے مطابق ایرانی آٹو انڈسٹری کئی برسوں سے محدود مسابقتی ماحول میں کام کر رہی ہے۔
درآمدات پر پابندیوں اور مقامی کمپنیوں کی اجارہ داری کے باعث صارفین کے پاس متبادل بہت کم رہ گئے ہیں، جس کا نتیجہ مسلسل مہنگی اور نسبتاً کم معیار کی گاڑیوں کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔
حالیہ مہینوں میں بڑی مقامی کمپنیوں نے مختلف ماڈلز کی قیمتوں میں 21 سے 50 فیصد تک اضافہ کیا ہے، جس سے آزاد مارکیٹ میں بھی مزید مہنگائی کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
ایران میں آٹو مارکیٹ کا تاریخی بحران
بلند افراطِ زر اور گرتی کرنسی کے باعث گاڑی خریدنا اب ایک ناممکن خواب
ایران میں مسلسل مہنگائی، ڈالر کی قلت اور مقامی کمپنیوں کی اجارہ داری نے گاڑیوں کی قیمتوں کو عام اور متوسط طبقے کی پہنچ سے بالکل باہر کر دیا ہے۔
قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ 📈
گزشتہ 6 ماہ کے دوران بعض مقامی اور درآمد شدہ گاڑیوں کی قیمتوں میں 150 فیصد تک کا غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
سستی ترین گاڑی کی قیمت 💰
ملک میں تیار ہونے والی سب سے سستی کار بھی 10 ارب ریال تک پہنچ چکی ہے، جو متوسط طبقے کے لیے ناقابلِ خرید ہے۔
مقامی پیداوار میں شدید کمی 📉
ڈالر کی قلت اور معاشی بحران کی وجہ سے رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں گاڑیوں کی پیداوار 20 سے 30 فیصد تک گر گئی ہے۔
کمپنیوں کی سرکاری سرپرستی ⚠️
درآمدات پر سخت پابندیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑی مقامی کمپنیوں نے مختلف ماڈلز کی قیمتیں 21 سے 50 فیصد تک بڑھا دی ہیں۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے
آٹو انڈسٹری کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران میں بلند افراطِ زر، ڈالر کی کمی اور مقامی پیداوار میں کمی نے بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں مقامی گاڑیوں کی پیداوار میں 20 سے 30 فیصد تک کمی آئی، جبکہ خطے میں کسی بھی نئی کشیدگی یا آبنائے ہرمز سے متعلق پیش رفت کا اثر فوری طور پر گاڑیوں کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔
🚗📊 فیکٹ باکس
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران میں اب بہت سے لوگ گاڑی کو صرف سفری ضرورت نہیں بلکہ اپنی بچت کو مہنگائی سے محفوظ رکھنے کا ذریعہ بھی سمجھتے ہیں۔
تاہم مسلسل بڑھتی قیمتوں نے عام شہری کے لیے کار خریدنے کو ایک ایسے خواب میں بدل دیا ہے، جو اب صرف خوشحال طبقے کی دسترس میں رہ گیا ہے۔