براہ راست نشریات

پورا سال عمرہ: سعودی عرب کا 90 روزہ ملٹی پل انٹری ویزا جاری

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ملٹی پل انٹری عمرہ ویزا
ویزا ہولڈر سعودی عرب میں متعدد مرتبہ داخل ہوسکے گا (فوٹو: @AlharamainSA)

سعودی عرب کا نیا ویزا معتمرین کو پورے سال متعدد دوروں کی سہولت دے گا، مگر 90 دن کی حد مجموعی ہوگی

سعودی وزارت حج و عمرہ نے 365 دن کی میعاد والا ملٹی پل انٹری عمرہ ویزا متعارف کرادیا ہے۔
ویزا ہولڈر سال کے دوران متعدد مرتبہ سعودی عرب آسکے گا، تاہم تمام دوروں کا مجموعی قیام 90 دن سے زیادہ نہیں ہوگا۔
ہر نئے سفر کے لیے ’نسک‘ کے منظور شدہ فراہم کنندہ سے سروس پیکیج خریدنا اور عمرہ پرمٹ حاصل کرنا ضروری ہوگا۔ ویزا حج سیزن میں یکم ذوالقعدہ سے 13 ذوالحجہ تک داخلے کے لیے فعال نہیں ہوگا۔

اب ہر عمرہ سفر کے لیے ویزے کی کارروائی نئے سرے سے شروع کرنا ضروری نہیں ہوگا۔ سعودی وزارت حج و عمرہ نے ملٹی پل انٹری عمرہ ویزا متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت زائرین ایک سال کے دوران متعدد مرتبہ سعودی عرب آسکیں گے۔

یہ اقدام عمرہ سفر کو ’ایک ویزا، ایک سفر‘ کے روایتی نظام سے نکال کر زیادہ لچک دار شکل دے رہا ہے۔ 

اب معتمرین اپنے مالی حالات، خاندانی ضروریات، تعطیلات اور سفری سہولت کے مطابق سال بھر میں مختلف اوقات پر اپنے دوروں کی منصوبہ بندی کرسکیں گے۔

نئے ویزے کی میعاد اجرا کی تاریخ سے 365 دن ہوگی، جبکہ اس پوری مدت میں مجموعی قیام کی حد 90 دن مقرر کی گئی ہے۔ 

مزید پڑھیں

ویزا ہولڈر یہ 90 دن ایک ہی سفر میں استعمال کرنے کے بجائے مختلف دوروں میں تقسیم کرسکتا ہے، بشرطیکہ ہر مرتبہ تمام مقررہ ضوابط پورے کیے جائیں۔

یہ فیصلہ محض ویزے کی مدت بڑھانے تک محدود نہیں، بلکہ عمرہ سفر کے انتظام میں ایک اہم تبدیلی ہے۔ 

نئے نظام میں بار بار سفر کی سہولت کے ساتھ سروس پیکیج، عمرہ پرمٹ

 اور داخلے و روانگی کے تمام مراحل کو ڈیجیٹل نظام سے منسلک کردیا گیا ہے۔

90 دن پورے سال کے لیے ہیں، ہر سفر کے لیے نہیں

نئے ویزے سے متعلق سب سے اہم بات یہ ہے کہ 90 دن کے قیام کی مدت مجموعی بنیاد پر شمار ہوگی۔ ہر مرتبہ سعودی عرب میں داخل ہونے پر نئے 90 دن نہیں ملیں گے۔

فیکٹ باکس: نیا عمرہ ویزا
ویزے کی میعاد اجرا سے 365 دن
داخلوں کی تعداد متعدد مرتبہ
زیادہ سے زیادہ قیام مجموعی طور پر 90 دن
ہر سفر کے لیے نیا نسک پیکیج اور عمرہ پرمٹ
قیام کا حساب ہر دورے کے دن منہا ہوں گے
حج سیزن میں داخلہ اجازت نہیں ہوگی
آسان مثال: اگر کوئی معتمر پہلے دورے میں 20 دن اور دوسرے دورے میں 15 دن سعودی عرب میں قیام کرتا ہے تو اس کے مجموعی 90 دن میں سے 35 دن استعمال ہوجائیں گے اور مزید 55 دن باقی رہیں گے۔

مثال کے طور پر اگر کوئی معتمر پہلے سفر میں 20 دن سعودی عرب میں قیام کرتا ہے تو اس کے پاس مزید 70 دن باقی رہ جائیں گے۔ 

دوسرے سفر میں اگر وہ 15 دن گزارتا ہے تو اس کے ویزے میں قیام کا باقی ریکارڈ 55 دن رہ جائے گا۔

یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک معتمر اپنے تمام 90 دن استعمال نہ کرلے یا ویزے کی 365 روزہ میعاد ختم نہ ہوجائے۔

ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ ویزے کے 365 دن اجرا کی تاریخ سے شمار ہوں گے، پہلے داخلے کی تاریخ سے نہیں۔ 

اس لیے ویزا حاصل کرنے کے بعد سفر، ٹکٹ اور ہوٹل کی بکنگ کرتے وقت اس فرق کو پیش نظر رکھنا ضروری ہوگا۔

یہ نظام ان افراد کے لیے خاص طور پر مفید ثابت ہوسکتا ہے جو سال میں ایک سے زیادہ مرتبہ عمرہ کرنا چاہتے ہیں۔ 

وہ پہلے مختصر دورے میں عمرہ ادا کرسکتے ہیں اور بعد میں رمضان المبارک یا کسی اور موزوں وقت پر دوبارہ سعودی عرب آسکتے ہیں۔

65465464654
ویزے کی میعاد اجرا کی تاریخ سے 365 دن ہوگی (فوٹو: @AlharamainSA)

صرف ویزا کافی نہیں ہوگا

ملٹی پل انٹری کی سہولت کے باوجود ویزا ہولڈر جب چاہے کسی اضافی کارروائی کے بغیر سعودی عرب نہیں آسکے گا۔ 

ہر نئے سفر کے لیے ’نسک‘ کے نظام میں شامل کسی منظور شدہ سروس فراہم کنندہ سے نیا پیکیج خریدنا ضروری ہوگا۔

پیکیج کی مدت ویزا ہولڈر کے باقی ماندہ قیام سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔ 

مثال کے طور پر اگر کسی معتمر کے پاس صرف 10 دن باقی ہیں تو وہ 10 دن سے زیادہ کا عمرہ پیکیج نہیں خرید سکے گا۔

سعودی عرب آنے سے پہلے ’نسک‘ ایپ کے ذریعے عمرہ پرمٹ کا اجرا بھی لازم ہوگا۔ 

عمرہ پرمٹ کی تاریخیں منظور شدہ پیکیج کے دورانیے سے مطابقت رکھنا ضروری ہیں۔

اس کے علاوہ مسافر کو سفر اور سعودی عرب میں داخلے کی تمام متعلقہ شرائط بھی پوری کرنا ہوں گی۔

یوں نئے نظام کی بنیادی حکمت عملی واضح ہے: معتمر کو متعدد دوروں کی زیادہ آزادی ملے گی، لیکن ہر سفر مکمل طور پر منظم اور ڈیجیٹل نگرانی کے تحت ہوگا۔ 

یہ کیوں اہم ہے؟
نیا ویزا عمرہ سفر کو ایک مرتبہ استعمال ہونے والی سہولت سے نکال کر پورے سال کے لچک دار نظام میں تبدیل کرتا ہے۔ بار بار عمرہ کرنے والے افراد کو ہر دورے کے لیے نئی ویزا درخواست دینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
معتمرین رمضان، تعطیلات یا نسبتاً کم سفری اخراجات والے دنوں کے مطابق اپنے دورے تقسیم کرسکیں گے، تاہم ہر سفر منظور شدہ پیکیج اور عمرہ پرمٹ سے منسلک رہے گا۔

پہلے سفر کا طریقۂ کار کیا ہوگا؟

پہلا سفر ’نسک‘ کے نظام میں شامل کسی منظور شدہ سروس فراہم کنندہ سے عمرہ پیکیج خریدنے سے شروع ہوگا۔ 

اس کے بعد ویزے کی درخواست جمع کرائی جائے گی اور متعلقہ ادارے اس پر کارروائی مکمل کریں گے۔

معتمر کے طیارے میں سوار ہونے سے پہلے اس کی سفری اہلیت اور تمام ضروری شرائط کی جانچ کی جائے گی۔

سعودی عرب پہنچنے پر اس کے داخلے کا ریکارڈ درج ہوگا، جبکہ مملکت سے روانگی کے وقت معلومات دوبارہ اپ ڈیٹ کی جائیں گی۔ 

اسی بنیاد پر یہ طے ہوگا کہ معتمر نے 90 دن میں سے کتنے دن استعمال کیے اور کتنے باقی ہیں۔

اس طرح ہر ویزا ہولڈر کا ایک ڈیجیٹل ریکارڈ موجود ہوگا، جس میں سعودی عرب میں داخلے، روانگی، استعمال شدہ دنوں اور باقی ماندہ قیام کی مکمل تفصیل شامل ہوگی۔

دوسرے اور بعد کے دوروں میں کیا کرنا ہوگا؟

دوسرے اور اس کے بعد کے سفر میں ویزا ہولڈر کو نئی ویزا درخواست جمع کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی، تاہم ہر نئے سفر کی الگ شرائط پوری کرنا ہوں گی۔

ان شرائط میں شامل ہیں:

  • ’نسک‘ کے کسی منظور شدہ سروس فراہم کنندہ سے نیا پیکیج خریدنا۔
  • سعودی عرب آنے سے پہلے عمرہ پرمٹ حاصل کرنا۔
  • عمرہ پرمٹ کی تاریخوں کو پیکیج کے دورانیے سے ہم آہنگ رکھنا۔
  • سفر اور داخلے کی اہلیت سے متعلق تمام شرائط پوری کرنا۔
  • قیام کی مدت کو باقی ماندہ 90 دن کے ریکارڈ سے زیادہ نہ ہونے دینا۔
پاکستانیوں کے لیے کیا مطلب ہے؟
پاکستانی معتمرین ایک ہی ویزے پر سال کے دوران متعدد مرتبہ عمرہ ادا کرسکیں گے، جس سے ہر سفر پر نئی ویزا درخواست دینے کی ضرورت کم ہوجائے گی۔
  • دوروں کو رمضان، چھٹیوں اور ملازمت سے ملنے والی رخصت کے مطابق تقسیم کیا جاسکے گا۔
  • کم کرایوں والے دنوں میں مختصر سفر کی منصوبہ بندی ممکن ہوگی۔
  • خاندان ایک طویل دورے کے بجائے متعدد مختصر دورے کرسکیں گے۔
  • پاکستانی عمرہ آپریٹرز نئے مختصر اور متعدد دوروں والے پیکیج پیش کرسکیں گے۔
اہم وضاحت: ہر سفر کے لیے نیا سروس پیکیج، فضائی ٹکٹ، رہائش اور دیگر اخراجات ادا کرنا ہوں گے۔ اصل فائدہ زیادہ لچک اور ویزا کارروائی میں کمی ہے۔

ہر دورے کے اختتام پر معتمر کے داخلے اور روانگی کی معلومات اپ ڈیٹ ہوں گی اور سعودی عرب میں گزارے گئے دن مجموعی 90 دن سے منہا کردیے جائیں گے۔

روانگی کے بعد ویزا عارضی طور پر غیر فعال ہوگا

وزارت حج و عمرہ کے مطابق سعودی عرب سے ہر مرتبہ روانگی کے بعد ویزے کی حیثیت عارضی طور پر غیر فعال کردی جائے گی۔ 

اگلے سفر کے لیے ضروری ضوابط پورے ہونے کے بعد اسے دوبارہ فعال کیا جائے گا۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ویزا منسوخ ہوگیا یا اس کی میعاد ختم ہوگئی، بلکہ اگلے داخلے کے لیے اسے اس وقت تک استعمال نہیں کیا جاسکے گا جب تک نیا پیکیج، عمرہ پرمٹ اور دیگر سفری تقاضے مکمل نہ کرلیے جائیں۔

اس طریقۂ کار کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ہر داخلہ واضح اور منظور شدہ سفری پروگرام کے تحت ہو اور ویزا اس مقصد کے علاوہ استعمال نہ کیا جائے جس کے لیے اسے جاری کیا گیا ہے۔

حج سیزن کے دوران ویزا فعال نہیں ہوگا

وزارت حج و عمرہ نے نئے ویزے کے استعمال کے لیے ایک اہم وقتی پابندی بھی عائد کی ہے۔

ملٹی پل انٹری عمرہ ویزا ہر سال یکم ذوالقعدہ سے 13 ذوالحجہ تک حج سیزن کے دوران سعودی عرب میں داخلے کے لیے فعال نہیں ہوگا۔

مسافروں کے لیے ضروری احتیاط
1 ویزے کی 365 روزہ میعاد پہلے داخلے سے نہیں بلکہ اجرا کی تاریخ سے شروع ہوگی۔
2 ہر نئے سفر سے پہلے باقی ماندہ 90 دن کا ریکارڈ ضرور دیکھیں۔
3 صرف ’’نسک‘‘ سے منسلک منظور شدہ سروس فراہم کنندہ سے پیکیج خریدیں۔
4 ٹکٹ خریدنے سے پہلے پیکیج اور عمرہ پرمٹ کی تاریخوں میں مطابقت یقینی بنائیں۔
5 ہر نئے داخلے پر 90 دن دوبارہ نہیں ملیں گے؛ استعمال شدہ دن مجموعی مدت سے منہا ہوں گے۔
6 یکم ذوالقعدہ سے 13 ذوالحجہ تک حج سیزن کے لیے اس ویزے پر سفر بک نہ کریں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ویزا بدستور کارآمد ہو اور ویزا ہولڈر کے 90 دن میں سے کچھ دن باقی بھی ہوں، تب بھی وہ اس مدت کے دوران عمرہ ویزے پر سعودی عرب میں داخل نہیں ہوسکے گا۔

اس پابندی کے ذریعے حج اور عمرہ سیزن کے انتظامات کو الگ رکھا جائے گا اور حج کے دوران آنے والے زائرین کی تعداد کو حج کے مخصوص ویزوں اور اجازت ناموں کے تحت منظم کیا جاسکے گا۔

پاکستانی معتمرین کے لیے کیا مطلب ہے؟

پاکستان عمرہ زائرین کی بڑی منڈیوں میں شامل ہے، اس لیے نیا ویزا ان پاکستانی خاندانوں اور افراد کے لیے اہم تبدیلی ثابت ہوسکتا ہے جو سال میں ایک سے زیادہ مرتبہ حرمین شریفین کی زیارت کرنا چاہتے ہیں۔

اب ایک سے زیادہ مرتبہ عمرہ کرنے والے پاکستانیوں کو ہر سفر کے لیے الگ ویزا حاصل نہیں کرنا پڑے گا۔ 

اس سے ویزا کارروائی کی تکرار کم ہوگی اور انہیں ٹکٹوں اور ہوٹلوں کے نسبتاً کم نرخ والے اوقات میں سفر کی منصوبہ بندی کا موقع ملے گا۔

564564646465
مملکت آنے سے پہلے عمرہ پرمٹ حاصل کرنا ضروری ہوگا (فوٹو: @AlharamainSA)

پاکستانی خاندان اپنے دوروں کو اسکول کی چھٹیوں، ملازمت سے ملنے والی رخصت، رمضان المبارک یا اپنی مالی استطاعت کے مطابق تقسیم کرسکیں گے۔ 

وہ ایک طویل سفر کے بجائے سال میں دو یا اس سے زیادہ مختصر دورے بھی کرسکتے ہیں۔

یہ سہولت ان تاجروں اور کاروباری افراد کے لیے بھی فائدہ مند ہوسکتی ہے جو سال میں متعدد مرتبہ سعودی عرب آتے ہیں اور اپنے دورے کے دوران عمرہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔

تاہم یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ملٹی پل انٹری ویزا کا مطلب یہ نہیں کہ بعد کے تمام دورے بغیر کسی خرچ کے ہوں گے۔ 

ہر مرتبہ نیا سروس پیکیج خریدنا ضروری ہوگا، جبکہ فضائی ٹکٹ، رہائش، انشورنس اور دیگر ضروری اخراجات بھی اپنی جگہ موجود رہیں گے۔

لہٰذا اس ویزے کا بنیادی فائدہ ہر سفر کے اخراجات کا خاتمہ نہیں، بلکہ زیادہ لچک اور بار بار ویزا حاصل کرنے کی کارروائی میں کمی ہے۔

ممکنہ اگلا منظرنامہ
نئے مختصر پیکیجز عمرہ آپریٹرز ایک سال میں دو یا تین مختصر دوروں پر مشتمل پیکیج متعارف کراسکتے ہیں۔
رمضان اور تعطیلات کی خصوصی پیشکشیں رمضان المبارک، اسکول کی چھٹیوں اور کم رش والے مہینوں کے لیے الگ پروگرام سامنے آسکتے ہیں۔
مزید ڈیجیٹل سہولتیں ’’نسک‘‘ میں باقی ماندہ قیام، پیکیج، عمرہ پرمٹ اور داخلے کی اہلیت ایک جگہ دکھانے کی سہولت بہتر بنائی جاسکتی ہے۔
سال بھر زائرین کی بہتر تقسیم متعدد دوروں کی سہولت سے معتمرین کی آمد صرف مخصوص مہینوں تک محدود رہنے کے بجائے پورے سال تقسیم ہوسکتی ہے۔

اس اقدام کے بعد پاکستانی عمرہ آپریٹرز بھی مختصر اور متعدد دوروں پر مشتمل نئے پیکیج متعارف کراسکتے ہیں۔ 

ان میں رمضان المبارک، اسکول کی تعطیلات اور مخصوص مذہبی مواقع کے لیے الگ سفری پروگرام شامل ہوسکتے ہیں۔ 

سفری ویزے سے مکمل ڈیجیٹل عمرہ سفر تک

نیا ویزا اس وسیع تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت سعودی عرب عمرہ زائرین کے سفر کو ابتدائی منصوبہ بندی سے لے کر مملکت سے روانگی تک ڈیجیٹل نظام سے جوڑ رہا ہے۔

ویزا، سروس پیکیج، عمرہ پرمٹ، داخلے اور روانگی کا ریکارڈ اور باقی ماندہ قیام—یہ تمام مراحل اب ایک دوسرے سے منسلک ہوں گے۔

اس فیصلے کی اہمیت صرف متعدد مرتبہ داخلے کی اجازت نہیں، بلکہ یہ معتمر کو سفر کی زیادہ آزادی دیتے ہوئے ہر دورے کو ایک منظم، محفوظ اور قابل نگرانی نظام کے تحت لاتا ہے۔

مختصراً، یہ پورے ایک سال کا عمرہ ویزا ہے، لیکن کھلی اور غیر مشروط رہائش کی اجازت نہیں۔ مجموعی قیام صرف 90 دن ہوگا، ہر سفر کے لیے نیا منظور شدہ پیکیج اور عمرہ پرمٹ درکار ہوگا، جبکہ حج سیزن کے دوران اس پر داخلہ ممکن نہیں ہوگا۔

جو معتمر ان شرائط کو ابتدا ہی سے سمجھ کر سفر کی منصوبہ بندی کرے گا، وہ نئی سہولت سے بہتر فائدہ اٹھا سکے گا اور بکنگ یا سفر کے دوران ممکنہ مشکلات سے بھی محفوظ رہے گا۔

🕋
اصل سرکاری ماخذ
1 سرکاری ذریعہ