براہ راست نشریات

شدید گرمی کا جدید حل: انسانوں کے لیے ریفریجریٹر تیار

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
جاپان میں تیار کردہ انسانوں کے لیے ریفریجریٹر کولنگ کیبن
بڑے ریفریجریٹر سے مشابہ اس مشین کو ’Do Hiemon Box‘ کا نام دیا گیا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

جاپان میں بڑھتی ہوئی گرمی اور ہیٹ اسٹروک کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک کمپنی نے انسانوں کو ٹھنڈا رکھنے والا منفرد کولنگ کیبن متعارف کرایا ہے۔

مزید پڑھیں

بڑے ریفریجریٹر سے مشابہ اس مشین کو ’Do Hiemon Box‘ کا نام دیا گیا ہے اور اس کی ابتدائی قیمت 1.5 ملین ین، یعنی تقریباً 9 ہزار 238 امریکی ڈالر رکھی گئی ہے۔

یہ ڈیوائس جاپانی کمپنی SDRS نے تیار کی ہے، جو کولنگ سسٹمز بنانے کی ماہر ہے اور صنعتی آلات فراہم کرنے والی کمپنی Trusco Nakayama اس کی تشہیر اور فروخت کی ذمہ داری سنبھال رہی ہے۔

کمپنی اسے ’انسانوں کے لیے ریفریجریٹر‘ قرار دیتی ہے، تاہم یہ دراصل ایک انفرادی کولنگ کیبن ہے، جس میں بیٹھ کر شدید گرمی، تھکن اور جسمانی حرارت سے عارضی راحت حاصل کی جاسکتی ہے۔

🧊🤖 جدید مشین سے متعلق اہم معلومات
🚪 جاپانی کولنگ مشین کا نام “Do Hiemon Box” ہے، جسے انسانوں کے لیے انفرادی کولنگ کیبن کے طور پر تیار کیا گیا ہے۔
🇯🇵 اس جدید مشین کو جاپانی کمپنی SDRS نے تیار کیا ہے، جو کولنگ سسٹمز اور وینڈنگ مشینوں میں مہارت رکھتی ہے۔
🌡️ مشین کے اندرونی حصے کا درجہ حرارت تقریباً 15 ڈگری سینٹی گریڈ برقرار رہتا ہے۔
❄️ نشست پر بیٹھنے کے بعد 5 ڈگری سینٹی گریڈ کی ٹھنڈی ہوا سر، گردن، کندھوں اور کمر کی طرف خارج ہوتی ہے۔
⏱️ کمپنی کے مطابق صرف پانچ منٹ میں صارف کو جسمانی حرارت میں واضح کمی محسوس ہوسکتی ہے۔
🩺 تقریباً 10 منٹ کے استعمال سے گرمی کی تھکن اور ہیٹ اسٹریس کی ابتدائی علامات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
🛑 حفاظتی نظام کے تحت مشین 20 منٹ بعد خودکار طور پر بند ہوجاتی ہے تاکہ ضرورت سے زیادہ ٹھنڈک سے بچا جاسکے۔
🎛️ صارف کی ضرورت کے مطابق مشین میں ایئر فلو اور کولنگ کے تین مختلف موڈز دیے گئے ہیں۔
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی بجلی کی کھپت روایتی مقامی ایئر کنڈیشنرز کے مقابلے میں تقریباً نصف ہے۔
🛞 مشین کو کسی مستقل تنصیب کی ضرورت نہیں، جبکہ پہیوں کی وجہ سے اسے آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاسکتا ہے۔
🏭 یہ کولنگ یونٹ تعمیراتی مقامات، فیکٹریوں، گوداموں اور بیرونی تقریبات میں کام کرنے والے محنت کشوں کے لیے خصوصی طور پر مفید سمجھا جا رہا ہے۔
💰 مشین کے معیاری ماڈل کی قیمت 1.5 ملین ین، تقریباً 9,238 ڈالر سے شروع ہوتی ہے، جبکہ ٹیکس الگ ہوگا۔

انسانی ریفریجریٹر کیسے کام کرتا ہے؟

اس کولنگ یونٹ کے اندر کا درجہ حرارت تقریباً 15 ڈگری سینٹی گریڈ برقرار رکھا جاتا ہے۔ اندر موجود نشست پر بیٹھتے ہی 5 ڈگری سینٹی گریڈ کی ٹھنڈی ہوا سر، گردن، کندھوں اور کمر کی جانب خارج ہوتی ہے۔

کمپنی کے مطابق صرف 5 منٹ کے استعمال سے جسم کو نمایاں ٹھنڈک محسوس ہونا شروع ہوجاتی ہے، جبکہ 10 منٹ تک کیبن میں بیٹھنے سے گرمی کے باعث پیدا ہونے والی تھکن اور ہیٹ اسٹریس کی علامات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

حفاظتی اقدامات کے تحت یہ مشین 20 منٹ بعد خودکار طور پر بند ہوجاتی ہے، تاکہ صارف ضرورت سے زیادہ ٹھنڈک کا شکار نہ ہو۔

🧊 یہ ریفریجریٹر کیوں اہم ہے؟
🌡️ جاپان میں گرمی کی شدت اور طویل ہیٹ ویوز بڑھنے کے باعث ایسے فوری کولنگ نظام ہیٹ اسٹروک اور شدید جسمانی تھکن سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
👷 تعمیراتی کارکنوں، فیکٹری ملازمین اور گوداموں میں کام کرنے والے افراد کو اکثر شدید گرمی میں طویل وقت گزارنا پڑتا ہے، اس لیے یہ کیبن انہیں چند منٹ میں محفوظ اور مؤثر ٹھنڈک فراہم کرسکتا ہے۔
کمپنی کے مطابق اس کی بجلی کی کھپت روایتی مقامی ایئر کنڈیشنرز کے مقابلے میں تقریباً آدھی ہے، جس سے اداروں کو توانائی اور اخراجات کی بچت میں مدد مل سکتی ہے۔
🩺 پانچ سے دس منٹ کا مختصر استعمال جسمانی درجہ حرارت کم کرنے اور ہیٹ اسٹریس کی ابتدائی علامات میں راحت دینے کے لیے مفید ہوسکتا ہے، خصوصاً ایسے مقامات پر جہاں فوری طبی سہولت دستیاب نہ ہو۔
🏭 اس یونٹ کو کسی مستقل تنصیب کی ضرورت نہیں اور پہیوں کی مدد سے اسے مختلف جگہوں پر منتقل کیا جاسکتا ہے، اس لیے یہ فیکٹریوں، گوداموں اور آؤٹ ڈور ایونٹس کے لیے عملی حل بن سکتا ہے۔
🛡️ بیس منٹ بعد خودکار بندش کا نظام ضرورت سے زیادہ ٹھنڈک سے بچاتا ہے، جس سے یہ ایجاد صرف منفرد ہی نہیں بلکہ صارف کی حفاظت کو مدنظر رکھنے والی ٹیکنالوجی بھی بنتی ہے۔
🚉 مستقبل میں ایسے کولنگ کیبن ریلوے اسٹیشنز، کھیلوں کے میدانوں، عوامی تقریبات اور مصروف شہری مقامات پر نصب ہوکر گرمی سے فوری ریلیف پوائنٹس کی شکل اختیار کرسکتے ہیں۔
🔮 یہ ایجاد اس بات کی مثال ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے جاپانی کمپنیاں روایتی ایئر کنڈیشننگ سے آگے بڑھ کر انفرادی اور کم توانائی والے حل تیار کر رہی ہیں۔

فیکٹریوں اور تعمیراتی مقامات کے لیے مفید

یہ کولنگ کیبن بنیادی طور پر تعمیراتی مقامات، فیکٹریوں، گوداموں اور بیرونی تقریبات میں کام کرنے والے افراد کے لیے تیار کیا گیا ہے، جہاں شدید گرمی میں مسلسل کام کرنا مشکل اور خطرناک ہوسکتا ہے۔

ڈیوائس میں ہوا اور کولنگ کے 3 مختلف موڈز موجود ہیں۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی بجلی کی کھپت روایتی مقامی ایئر کنڈیشنرز کے مقابلے میں تقریباً نصف ہے۔

اسے چلانے کے لیے کسی خصوصی تنصیب کی ضرورت نہیں۔ پہیوں کی مدد سے اسے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاسکتا ہے، جبکہ یہ انڈور اور آؤٹ ڈور دونوں مقامات پر استعمال ہوسکتی ہے۔

قیمت عام صارف کی پہنچ سے باہر

’Do Hiemon Box‘ اس وقت جاپان میں صنعتی آلات کے ڈسٹری بیوٹرز کے ذریعے فروخت کیا جارہا ہے۔ اس کے معیاری ماڈل کی قیمت 1.5 ملین ین ہے، جس میں ٹیکس شامل نہیں۔

جاپان میں انفرادی کولنگ کیبن متعارف

شدید گرمی اور ہیٹ اسٹروک سے نمٹنے کے لیے انسانوں کا ریفریجریٹر تیار

جاپانی کمپنی نے فیکٹریوں اور تعمیراتی مقامات کے ملازمین کو ہیٹ اسٹریس سے بچانے کے لیے ایک جدید انفرادی کولنگ یونٹ تیار کیا ہے۔

1.5

بھاری لاگت اور قیمت 💰

اس جدید کولنگ باکس کی ابتدائی قیمت 1.5 ملین جاپانی ین (تقریباً 9238 امریکی ڈالر) مقرر کی گئی ہے جو صنعتی اداروں کے لیے ہے۔

15

اندرونی کولنگ سسٹم ❄️

کیبن کے اندر کا درجہ حرارت 15 ڈگری سینٹی گریڈ برقرار رہتا ہے، جبکہ سر اور کمر پر 5 ڈگری سینٹی گریڈ کی ٹھنڈی ہوا پڑتی ہے۔

10

فوری راحت کا دورانیہ ⏱️

صرف 5 منٹ میں جسم ٹھنڈا ہونا شروع ہو جاتا ہے اور 10 منٹ بیٹھنے سے گرمی کے باعث پیدا ہونے والی تھکن اور ہیٹ اسٹریس دور ہو جاتی ہے۔

20

حفاظتی شٹ ڈاؤن نظام 🚨

صارف کو ضرورت سے زیادہ ٹھنڈک اور ہائپوتھرمیا کے خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے یہ مشین 20 منٹ بعد خودکار طور پر بند ہو جاتی ہے۔

فی الحال یہ مشین گھریلو صارفین کے بجائے کاروباری اور صنعتی اداروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔

تاہم جاپان میں گرمی کی شدت بڑھنے کے باعث امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ مستقبل میں ایسے کولنگ کیبن ریلوے اسٹیشنز، عوامی مقامات، فیکٹریوں اور بڑے اجتماعات میں عام نظر آسکتے ہیں۔

ہم سے جڑے رہیں