نیند محض آرام نہیں بلکہ جسمانی بحالی، ذہنی سکون اور اسلامی طرزِ زندگی کا اہم حصہ ہے
ڈاکٹر محمد لئیق اللہ خان
جدہ
نیند اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانی اور انسانی صحت کی بنیادی ضرورت ہے۔
مناسب نیند جسم و دماغ کو آرام، توانائی اور تازگی فراہم کرتی ہے، جب کہ اس کی مسلسل کمی ذہنی دباؤ، چڑچڑاپن، کمزور یادداشت اور فیصلہ سازی میں دشواری کا سبب بن سکتی ہے۔
قرآن و سنت رات کو بروقت سونے، پاکیزگی اختیار کرنے، مسنون دعائیں پڑھنے اور دائیں کروٹ لیٹنے کی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
نیند اللہ تبارک و تعالیٰ کی عظیم نشانیوں اور انمول نعمتوں میں سے ایک ہے۔
اس سے جسم اور دماغ کو سکون ملتا ہے، تھکن دور ہوتی ہے اور انسان تازہ دم ہوجاتا ہے۔
مناسب نیند جسمانی و ذہنی صحت برقرار رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔
جو لوگ مسلسل اپنی نیند پوری نہیں کرپاتے، انہیں تھکن، بے چینی، ذہنی دباؤ اور مختلف طبی مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔
قرآنِ کریم میں نیند کو اللہ تعالیٰ کی نشانی اور باعثِ سکون قرار دیا گیا ہے۔
سورۃ الروم کی آیت نمبر 23 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اور اس کی نشانیوں میں سے تمہارا رات اور دن کو سونا اور تمہارا اس کے فضل کو تلاش کرنا ہے۔ یقیناً اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو غور سے سنتے ہیں۔
مزید پڑھیں
علامہ ابن کثیرؒ اس آیت کا مفہوم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ رات اور دن کے وقت سونا اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے۔
نیند سے انسان کو آرام ملتا، تھکن دور ہوتی اور جسم و ذہن کو سکون حاصل ہوتا ہے۔
اس کے مقابلے میں دن کے وقت رزق کی تلاش اور ضروریاتِ زندگی کے حصول کے لیے محنت اور بھاگ دوڑ کی جاتی ہے۔
انسان مسلسل محنت نہیں کرسکتا۔
چند گھنٹے کام کرنے کے بعد اسے آرام کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
خالقِ حکیم نے انسان کے اندر صرف تھکن کا احساس اور آرام کی خواہش ہی پیدا نہیں کی بلکہ نیند کا ایسا فطری نظام بھی ودیعت فرمایا ہے جو کئی گھنٹے بیدار رہنے کے بعد اسے آرام پر مجبور کردیتا ہے۔
✦ اہم نکات کھولیں
- قرآنِ کریم نے نیند کو اللہ تعالیٰ کی نشانی اور باعثِ سکون قرار دیا ہے۔
- مناسب نیند جسمانی توانائی اور ذہنی کارکردگی بحال کرتی ہے۔
- نیند کی مسلسل کمی توجہ، یادداشت اور فیصلہ سازی کو متاثر کرسکتی ہے۔
- نیند کے دوران جسم اور دماغ میں بحالی اور مرمت کے اہم عمل جاری رہتے ہیں۔
- رسول اللہ ﷺ دائیں کروٹ لیٹتے اور دایاں ہاتھ رخسار کے نیچے رکھتے تھے۔
- سونے سے پہلے وضو، مسواک، ذکر اور مسنون دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہیے۔
- مسلسل بے خوابی کی صورت میں مستند معالج سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
سورۃ النباء کی آیت نمبر 9 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اور ہم نے تمہاری نیند کو باعثِ سکون بنایا۔
نیند کیسے آتی ہے؟
انسان ایک طویل عرصے سے نیند کی حقیقت اور اس کے اسباب جاننے کی کوشش کررہا ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق دماغ، اعصابی نظام، جسم کی حیاتیاتی گھڑی اور مختلف کیمیائی مادے نیند اور بیداری کے نظام کو منظم کرتے ہیں۔
دماغ میں موجود صنوبری غدہ میلاٹونن نامی ہارمون پیدا کرتا ہے۔
تاریکی بڑھنے کے ساتھ میلاٹونن کی مقدار بڑھتی ہے اور جسم کو نیند کی تیاری کا اشارہ ملتا ہے۔
اسی طرح دن بھر کی جسمانی اور ذہنی سرگرمی کے نتیجے میں نیند کا قدرتی دباؤ بڑھتا جاتا ہے۔
دماغ کے مخصوص حصے بھی نیند اور بیداری کے اوقات کو کنٹرول کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔
نیند کی کمی کے نقصانات
نیند پوری نہ ہونے سے انسان کی جسمانی توانائی، ذہنی کارکردگی اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔
مسلسل بے خوابی یا کم نیند کی صورت میں بے چینی، تناؤ، چڑچڑاپن اور توجہ کی کمی پیدا ہوسکتی ہے۔
☾ فیکٹ باکس تفصیل دیکھیں
نیند کی شدید کمی کے نتیجے میں سوچنے اور چیزوں کو یاد رکھنے کی صلاحیت کمزور پڑ سکتی ہے۔
انسان کو درست فیصلے کرنے، روزمرہ ذمہ داریاں نبھانے اور کام پر توجہ مرکوز رکھنے میں دشواری پیش آسکتی ہے۔
گاڑی چلاتے یا مشینری استعمال کرتے وقت نیند کی کمی حادثات کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
نیند کے دوران جسم میں تبدیلیاں
نیند کے دوران انسانی جسم مکمل طور پر غیر فعال نہیں ہوتا بلکہ اس میں بحالی اور مرمت کے کئی اہم عمل جاری رہتے ہیں۔
نبض اور تنفس کی رفتار نسبتاً دھیمی ہوجاتی ہے، بلڈ پریشر کم ہوتا ہے، جسمانی درجۂ حرارت میں معمولی کمی آتی ہے اور عضلات کو آرام ملتا ہے۔
اسی دوران دماغ دن بھر حاصل ہونے والی معلومات اور یادداشتوں کو منظم کرتا ہے۔
جسم کے مختلف نظام توانائی بحال کرتے اور متاثرہ خلیوں کی مرمت میں حصہ لیتے ہیں۔
یوں نیند صرف تھکن دور کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ جسمانی اور ذہنی صحت کی حفاظت کرنے والا قدرتی نظام بھی ہے۔
قرآن و سنت کی رہنمائی
قرآن و سنت میں نیند اور آرام سے متعلق متوازن رہنمائی ملتی ہے۔
رات کو جلد سونے اور صبح سویرے بیدار ہونے کی عادت اپنانی چاہیے۔
دوپہر کے وقت مختصر قیلولہ بھی تازگی اور توانائی کی بحالی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
! یہ کیوں اہم ہے؟ جانیں
تیز رفتار زندگی، کام کے بڑھتے ہوئے دباؤ، موبائل فون کے مسلسل استعمال اور بے ترتیب معمولات نے مناسب نیند کو شدید متاثر کیا ہے۔ نیند کی کمی صرف تھکن کا سبب نہیں بنتی بلکہ یہ توجہ، یادداشت، جذباتی توازن اور روزمرہ کارکردگی پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
قرآنِ کریم نیند کو اللہ تعالیٰ کی نشانی اور باعثِ سکون قرار دیتا ہے، جب کہ سنتِ نبوی ﷺ سونے کے وقت پاکیزگی، ذکر، دعا اور دائیں کروٹ لیٹنے کی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ یہ تعلیمات انسان کو جسمانی آرام کے ساتھ روحانی سکون اور منظم زندگی کی طرف لے جاتی ہیں۔
بستر ایسا ہونا چاہیے جو جسم کو مناسب سہارا دے۔
سونے سے قبل مسواک اور وضو کا اہتمام، اللہ تعالیٰ کا ذکر اور مسنون دعاؤں کی تلاوت روحانی سکون کا باعث بنتی ہے۔
خواب آور ادویات کا غیر ضروری استعمال نہیں کرنا چاہیے، اگر نیند کا مسئلہ مسلسل برقرار رہے تو مستند معالج سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
سونے کا مسنون طریقہ
رسولِ کریمﷺ کا ہر عمل ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔
آپ ﷺ دائیں کروٹ لیٹتے اور دائیں ہاتھ کی ہتھیلی دائیں رخسار کے نیچے رکھتے تھے۔
آپﷺ پیٹ کے بل لیٹنے کو پسند نہیں فرماتے تھے۔
دائیں کروٹ سونا مسنون عمل ہے، جس میں جسمانی آرام کے ساتھ اتباعِ سنت کی سعادت بھی حاصل ہوتی ہے۔
طویل وقت تک ایک ہی حالت میں لیٹے رہنے کے بجائے حسبِ ضرورت کروٹ تبدیل کرتے رہنا چاہیے۔
قرآنِ کریم میں اصحابِ کہف کے متعلق سورۃ الکہف کی آیت نمبر 18 میں فرمایا گیا ہے:
اور ہم انہیں دائیں اور بائیں کروٹ دلواتے رہتے تھے۔
✓ عملی رہنمائی طریقہ دیکھیں
جدید طبی علم کے مطابق بھی مسلسل ایک حالت میں لیٹے رہنے سے جسم کے مخصوص حصوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے اور زخم پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
اسی لیے فالج، طویل بے ہوشی یا کومے میں مبتلا مریضوں کی وقفے وقفے سے کروٹ تبدیل کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔
حاصلِ کلام
نیند اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانی، انمول نعمت اور انسانی صحت کی بنیادی ضرورت ہے۔
یہ جسم کو آرام، دماغ کو سکون اور انسان کو نئی توانائی فراہم کرتی ہے۔
قرآنِ کریم نے اسے باعثِ سکون قرار دیا، جب کہ رسول اللہﷺ نے سونے کے ایسے آداب سکھائے جن میں جسمانی راحت، روحانی پاکیزگی اور متوازن زندگی کی حکمت پوشیدہ ہے۔