حقیقی توکل اسباب چھوڑ دینے کا نہیں، بلکہ جائز تدابیر اختیار کرکے نتائج اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنے کا نام ہے
مولانا محمد اسماعیل
جدہ
توکّل انسان کو محنت اور منصوبہ بندی سے نہیں روکتا، بلکہ کوشش کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر اعتماد کرنا سکھاتا ہے۔ قرآن، سیرتِ نبویﷺ اور صحابۂ کرامؓ کی زندگیاں ثابت کرتی ہیں کہ احتیاط، مشاورت، تجارت اور حصولِ رزق حقیقی توکّل کا حصہ ہیں۔
توکّل عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی کسی معاملے کو کسی کے سپرد کرنے اور اس پر مکمل اعتماد رکھنے کے ہیں۔
اسلامی اصطلاح میں توکّل دل کی اس کیفیت کا نام ہے جس میں انسان اپنی پوری صلاحیت کے مطابق جائز تدابیر اختیار کرتا ہے، مگر کامیابی اور ناکامی کا حتمی فیصلہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیتا ہے۔
گویا مومن کے ہاتھ کام میں مصروف رہتے ہیں، لیکن اس کا دل اپنے پروردگار پر بھروسا رکھتا ہے۔
توکّل کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اسباب اور وسائل ترک کرکے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہے۔ اسی طرح صرف اپنی عقل، طاقت، دولت یا منصوبہ بندی پر بھروسا کرکے مسبب الاسباب کو فراموش کردینا بھی توکّل نہیں۔
✦ اہم نکات ⌄
- توکّل جائز تدابیر اختیار کرکے نتیجہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنے کا نام ہے۔
- محنت، مشاورت، احتیاط اور منصوبہ بندی توکّل کے منافی نہیں۔
- صرف اسباب پر بھروسا کرنا اور مسبب الاسباب کو بھول جانا درست نہیں۔
- قرآن اور سیرتِ نبوی ﷺ عمل کے ساتھ اللہ پر اعتماد کی تعلیم دیتے ہیں۔
- صحابۂ کرامؓ نے عبادت کے ساتھ تجارت، محنت اور حصولِ رزق کو اختیار کیا۔
- حقیقی توکّل انسان کو بے عملی اور اسباب پرستی، دونوں سے محفوظ رکھتا ہے۔
حقیقی توکّل ان دونوں انتہاؤں کے درمیان متوازن راستہ ہے:
انسان شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے پوری کوشش کرے اور یہ یقین رکھے کہ اسباب میں اثر پیدا کرنا صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔
مزید پڑھیں
مفتی محمد شفیعؒ نے نہایت واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ اسباب اور تدابیر کو ترک کردینا توکّل نہیں، بلکہ قریبی اور میسر اسباب کو چھوڑ بیٹھنا انبیائے کرامؑ کی سنت اور قرآن کی تعلیمات کے خلاف ہے۔
قرآن مجید بھی رسول اللہﷺ کو صحابۂ کرامؓ سے مشورہ کرنے اور فیصلہ کرلینے کے بعد اللہ پر بھروسا کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مشاورت، منصوبہ بندی اور احتیاط توکّل
کے منافی نہیں بلکہ اس کا حصہ ہیں۔
نمازِ خوف کے احکام میں حالتِ جنگ کے دوران ہتھیار ساتھ رکھنے اور دشمن سے ہوشیار رہنے کی تاکید کی گئی۔
اگر تدبیر اختیار کرنا توکّل کے خلاف ہوتا تو جنگ جیسے نازک موقع پر احتیاط کا حکم نہ دیا جاتا۔
اسی طرح ہجرت کے موقع پر رسول اللہﷺ نے راستے کا انتخاب کیا، غارِ ثور میں قیام فرمایا اور سفر کے تمام ضروری انتظامات کیے۔
یہ اقدامات بتاتے ہیں کہ اللہ پر کامل یقین کے ساتھ عملی تدبیر اختیار کرنا ہی انبیاء کا طریقہ ہے۔
حضرت یوسفؑ کی زندگی بھی اس حقیقت کی روشن مثال ہے۔
مصر میں 7 خوش حالی کے برسوں کے بعد آنے والے قحط کا علم ہوا تو آپؑ نے غلہ محفوظ کرنے اور وسائل منظم کرنے کا منصوبہ بنایا۔
اس تدبیر کے نتیجے میں ہزاروں انسان بھوک اور تباہی سے محفوظ رہے۔
اس واقعے سے ثابت ہوتا ہے کہ مستقبل کی منصوبہ بندی، وسائل کی حفاظت اور بحران سے پہلے تیاری کرنا توکّل کے خلاف نہیں۔
زکوٰۃ کا معاملہ بھی یہی سبق دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ میں برکت کا وعدہ فرمایا ہے، مگر زکوٰۃ ادا کرنے کے بعد باقی مال کو بے کار رکھنا دانش مندی نہیں۔
اسے جائز تجارت یا کسی مفید کام میں لگایا جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس میں برکت عطا فرمائے گا۔ بندہ کوشش کرتا ہے، لیکن نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں سمجھتا ہے۔
◈ فیکٹ باکس ⌄
صحابۂ کرامؓ نے بھی عبادت کے ساتھ محنت اور تجارت کو اختیار کیا۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ خلافت کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد بھی اپنے اہلِ خانہ کی کفالت کے لیے بازار جانے لگے۔
حضرت عثمانؓ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ اور دیگر جلیل القدر صحابہؓ تجارت اور مختلف پیشوں سے وابستہ رہے۔
انہوں نے کبھی محنت اور حصولِ رزق کو توکّل کے منافی نہیں سمجھا۔
رسول اللہﷺ نے اس شخص کو بہتر قرار دیا جو اپنی پیٹھ پر لکڑیوں کا گٹھا اٹھا کر لائے اور اسے فروخت کرکے عزت کے ساتھ روزی کمائے، بہ نسبت اس کے جو لوگوں کے سامنے دستِ سوال دراز کرے۔
پرندوں کی مثال بھی یہی بتاتی ہے:
وہ صبح خالی پیٹ اپنے گھونسلوں سے نکلتے ہیں اور شام کو رزق لے کر لوٹتے ہیں۔
انہیں رزق اللہ دیتا ہے، مگر وہ اس کی تلاش میں نکلتے ضرور ہیں۔
! یہ کیوں اہم ہے؟ ⌄
اسلام انسان کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ وہ اپنی عقل، صلاحیت، وقت اور دستیاب وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھائے، جائز طریقے سے محنت کرے اور کامیابی کے لیے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے۔
توکّل کا درست مفہوم انسان کو ناکامی کے خوف سے آزاد، مشکل حالات میں ثابت قدم اور کامیابی کے وقت غرور سے محفوظ رکھتا ہے۔ یہی توازن ایک مومن کو باعمل، ذمہ دار اور پُرامید بناتا ہے۔
اسلام رہبانیت، بے عملی اور دوسروں پر بوجھ بننے کا دین نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل، صلاحیت اور وسائل عطا کیے ہیں، ان سے کام لینا نعمتِ الٰہی کا شکر ہے۔
ہماری پسماندگی اسلام یا توکّل کا نتیجہ نہیں، بلکہ دینی اصولوں سے دوری اور دنیاوی ترقی کے جائز اسباب سے غفلت کا نتیجہ ہے۔
حقیقی توکّل کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان ایمان کے ساتھ عملِ صالح اور جائز تدابیر اختیار کرے، اپنی ذمہ داری پوری کرے اور نتیجہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کردے۔
یہی وہ متوازن راستہ ہے جو انسان کو بے عملی سے بھی بچاتا ہے اور اسباب کی پرستش سے بھی۔ ہاتھ کام میں ہوں، دل اللہ کے ساتھ ہو—یہی حقیقتِ توکّل ہے۔