معاشرہ باہر سے نہیں، گھر کے اندر سے بکھرتا ہے—اور اس کی اصلاح بھی وہیں سے شروع ہوتی ہے
مولانا محمد جہان یعقوب
کراچی
معاشرتی بگاڑ کا ذمہ دار صرف نظام یا حکومت کو قرار نہیں دیا جاسکتا۔
والدین کی مصروفیت، اولاد سے بڑھتے فاصلے، موبائل اور انٹرنیٹ کا بے قابو استعمال اور دینی و خاندانی اقدار سے دوری نے گھروں کی اجتماعیت کو متاثر کیا ہے۔
اصلاح کے لیے دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے ہر فرد کو اپنی ذمے داری کا جائزہ لینا ہوگا۔
اپنے گردوپیش کے حالات دیکھ کر زبان گنگ، دل و دماغ سُن اور ذہن میں ایک ہی سوال مسلسل کلبلاتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نوبت یہاں تک کیسے پہنچ گئی؟
مادر پدر آزادی کی آگ دن بہ دن تیز کیوں ہوتی جارہی ہے؟
رشتوں کا احترام و تقدس، جو مشرقی معاشرے کا طرۂ امتیاز تھا، کیوں رخصت ہوتا جارہا ہے؟ انسانیت بہیمیت کی پگڈنڈیوں پر کیوں دوڑ رہی ہے اور انسان و حیوان کے درمیان فرق کیوں مٹتا جارہا ہے؟
طاقت ور یہ کیوں سمجھ بیٹھا ہے کہ وہ ناقابلِ تسخیر ہے، جو چاہے کرسکتا ہے اور اسے پوچھنے والا کوئی نہیں؟
بالادست کی بالادستی کا نوحہ اپنی جگہ، مگر زیردستوں نے بھی کیوں طے کرلیا ہے کہ بالادست کی ہر جائز و ناجائز بات ماننے ہی میں عافیت ہے؟
انہیں اُس سب سے بڑے بالادست کی نافرمانی کرتے ہوئے کچھ خیال کیوں نہیں آتا، جس سے بڑھ کر کوئی طاقت نہیں؟
مزید پڑھیں
جدھر دیکھیے، المیے بکھرے پڑے ہیں۔
کوئی مال و زر کی چمک کے سامنے اندھا ہوچکا ہے، کسی کو اقتدار کا زعم ہے اور کسی کو اپنے اثر و رسوخ کا گھمنڈ۔
ہر شخص دنیا کی اس عارضی چکاچوند کو دائمی سمجھ بیٹھا ہے، حالاں کہ یہ اَن مٹ حقیقت ہے کہ ساتھ کچھ نہیں جائے گا، سب کچھ یہیں رہ جائے گا:
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائے گا، جب لاد چلے گا بنجارا
عرش والے کے اپنے اصول ہیں۔
اُس کے ہاں غریب و امیر کی کوئی تفریق نہیں۔
اُس کا تحمل بہت طویل، اُس کی ڈھیل بہت لمبی اور اُس کی رسی بڑی دراز ہے۔
لیکن جب وہ رسی کھینچتا ہے تو خدائی کے دعوے داروں کی عقل بھی ٹھکانے آجاتی ہے۔
پھر وہ منتیں کرنے، صفائیاں پیش کرنے اور خدائی پکڑ سے نکلنے کے جتن کرنے لگتے ہیں۔
اہم نکات
- معاشرتی اصلاح کا آغاز فرد اور خاندان سے ہوتا ہے۔
- والدین اور اولاد کے درمیان وقت، گفتگو اور اعتماد کا رشتہ کمزور پڑ رہا ہے۔
- موبائل، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے گھریلو اجتماعیت کو شدید متاثر کیا ہے۔
- اولاد کی نگرانی کو نجی زندگی میں مداخلت سمجھنا تربیتی غفلت میں اضافہ کرتا ہے۔
- بچوں اور نوجوانوں کی اخلاقی تربیت والدین کی بنیادی ذمے داری ہے۔
- حکومت، خاندان، علما، تعلیمی اداروں اور میڈیا کو اصلاح کے لیے مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔
ربِ موسیٰ و ہارون پر ایمان کے اعلانات ہونے لگتے ہیں، مگر پھر کہہ دیا جاتا ہے:
بس، بہت ہوچکی! اور رسی کھینچ لی جاتی ہے۔
خود کو سجدے کروانے والے فراعنۂ وقت جب پیوندِ خاک ہوتے ہیں تو ان پر رونے والا بھی کوئی نہیں ہوتا۔
جو لوگ ان کے جبر و قہر سے بچنے کے لیے ان کے آگے پیچھے پھرتے تھے، وہ بھی کہتے ہیں: چلو، اچھا ہوا، خس کم، جہاں پاک!
یہ حالات ہم سب کے لیے تازیانۂ عبرت ہیں۔
ہمیں اپنی آنکھیں کھولنی چاہییں۔
سماج سے شکوے شکایات بجا اور نظام کی خرابیوں پر تنقید بھی درست، مگر ہمیں اپنی کمزوریوں کا اعتراف اور ان کی اصلاح کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔
معاشرہ افراد اور خاندانوں سے بنتا ہے، جب خاندان اپنی بنیادی ذمے داریاں فراموش کردیں تو معاشرتی بگاڑ پر محض نوحہ خوانی سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
اولاد کی تربیت کے معاملے میں ہمارے معاشرے میں جس مجرمانہ تساہل اور مہلک تغافل سے کام لیا جارہا ہے، وہ افسوس ناک ہے۔
والدین کے پاس اولاد کے لیے وقت نہیں اور اولاد کے پاس والدین کے ساتھ بیٹھنے کی فرصت نہیں۔
گھر کا مفہوم صرف اتنا رہ گیا ہے کہ وہاں رات گزار لی جائے۔
اس کے علاوہ کون کہاں ہے، کیا کررہا ہے، کس کی صحبت میں ہے اور اس کی سرگرمیاں کیا ہیں، اس جانب کسی کی توجہ نہیں۔
جو اوقات کبھی گھر کی اجتماعیت کے لیے مخصوص تھے، جن میں اہلِ خانہ مل بیٹھتے، اپنے مسائل بانٹتے اور ایک دوسرے سے گفتگو کرتے تھے، وہ میڈیا کی نذر ہوچکے ہیں۔
پہلے ٹیلی وژن گھر کی اجتماعیت میں حائل ہوا، اب موبائل، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے اسے تقریباً نگل لیا ہے۔
ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے افراد بظاہر قریب، مگر حقیقت میں اپنی اپنی الگ دنیا میں گم ہیں۔
کسی کی تربیت کے لیے اس کی نگرانی کو اب پرائیویسی میں مداخلت سمجھا جاتا ہے، حالاں کہ جس اسلام اور نبیِ مہربانﷺ کے ہم نام لیوا ہیں، اُنﷺ کی واضح تعلیم یہ ہے کہ والدین کو اولاد کی تربیت سے لمحہ بھر کے لیے بھی غافل نہیں ہونا چاہیے۔
کبھی تربیت کو اولاد کے حق میں بہترین تحفہ اور کبھی گھر کے بڑوں کو اپنی رعایا کا نگہبان قرار دے کر ہمارا دین ہمیں اس نازک ذمے داری کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
اسلامی تعلیمات سے دوری، مغرب سے بے جا مرعوبیت اور اندھی تقلید نے ہماری غفلت میں اضافہ کیا ہے۔
جب والدین نے اولاد کی تربیت کی ذمے داری سے ہاتھ کھینچا تو شیطانی عناصر نے میڈیا کے محاذ سے اس خلا کو پُر کرنا شروع کردیا۔
بچوں کو کارٹون اور فکشن، جب کہ نوجوانوں کو ڈراموں اور فلموں کے ذریعے اپنی تہذیب، معاشرت، دینی تعلیمات اور اقدار سے بے گانہ کیا گیا۔
رہی سہی کسر موبائل کے لیٹ نائٹ پیکیجز اور انٹرنیٹ نے پوری کردی۔
یہ کیوں اہم ہے؟
معاشرتی زوال اچانک رونما نہیں ہوتا؛ یہ خاندان کے اندر گفتگو ختم ہونے، تربیت کمزور پڑنے اور افراد کے اپنی ذمے داریوں سے غافل ہونے سے شروع ہوتا ہے۔ اگر والدین، تعلیمی ادارے، میڈیا اور ریاست بروقت اپنا کردار ادا نہ کریں تو اخلاقی بگاڑ آنے والی نسلوں کے رویّوں کا مستقل حصہ بن سکتا ہے۔
ہمیں نوجوانوں کی بروقت شادیوں کو رواج دینا ہوگا تاکہ وہ جذبات کی رو میں بہہ نہ جائیں۔ نکاح کو مشکل اور گناہ کے راستوں کو آسان بنانے والا معاشرہ اخلاقی سلامتی کی ضمانت نہیں دے سکتا۔
اگر ہم جائز راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کرکے بڑھتی بے راہ روی پر صرف افسوس کرتے رہیں تو یہ مسئلے کا حل نہیں، بلکہ اپنی ذمے داریوں سے فرار ہے۔
بچیوں کی شادی کی کم از کم عمر میں اضافے کے لیے قانون سازی کرنے والوں کے پاس کیا رِستے ہوئے معاشرتی ناسوروں کا بھی کوئی حل ہے؟
قانون سازی اپنی جگہ، مگر معاشرتی حقائق، نوجوان نسل کی ضروریات اور اخلاقی تحفظ کے تقاضوں کو نظرانداز کرکے کسی پائیدار اصلاح کی امید نہیں کی جاسکتی۔
معاشرے کی اصلاح صرف حکومت، عدالت، علما یا اساتذہ کی ذمے داری نہیں؛ والدین، خاندان، تعلیمی اداروں، میڈیا اور ریاست—سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
دوسروں سے سوال کرنے سے پہلے ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے: کیا ہم نے اپنی اولاد کو وقت دیا، ان کی سرگرمیوں اور ذہنی کیفیت کو سمجھا اور اپنے گھروں میں محبت، مکالمے، نگرانی اور تربیت کا ماحول قائم کیا؟
سماج سے شکایت ضرور کیجیے، نظام کی خرابیوں پر آواز بھی اٹھائیے، مگر آئینے میں اپنا چہرہ دیکھنا نہ بھولیے۔
معاشرہ ہم ہی سے بنتا ہے، اگر اس کے بگاڑ میں ہمارا کوئی حصہ ہے تو اس کی اصلاح میں بھی ہمیں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا!