براہ راست نشریات

جاہلانہ رسمیں: مسلم معاشرے میں توہمات کا منبع

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایمان اور توکل

اسلام کسی دن، مہینے، یا جگہ کو منحوس قرار دینے کی نفی کرتا ہے، نفع و نقصان کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے

مفتی تنظیم عالم قاسمی

حیدرآباد دکن

معاشرے میں ماہِ صفر، نئی دلہن، بیوہ، مکان اور کاروبار سے متعلق متعدد توہمات پائے جاتے ہیں۔
مضمون واضح کرتا ہے کہ یہ تصورات اسلامی عقیدۂ توحید کے منافی اور بعض اوقات بے گناہ انسانوں پر ظلم کا سبب بنتے ہیں۔
ان سے نجات کا راستہ مضبوط ایمان، دینی شعور، جائز تدابیر اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسا ہے۔

اسلام سے پہلے عرب معاشرہ طرح طرح کی بے بنیاد روایات، بدشگونیوں اور توہمات میں جکڑا ہوا تھا۔ 

لوگ سفر سے پہلے پرندہ اڑاتے، اگر وہ دائیں طرف جاتا تو سفر کو مبارک اور بائیں طرف جاتا تو منحوس سمجھ کر ارادہ ملتوی کر دیتے۔ 

اُلّو کی آواز کو گھر کی تباہی، بعض دنوں کو مصیبت اور ماہِ صفر کو نحوست کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ 

یہ خیالات نسل در نسل منتقل ہوتے رہے، یہاں تک کہ لوگ انہیں اپنی زندگی اور عقیدے کا لازمی حصہ سمجھنے لگے۔

ان تمام توہمات کی بنیادی وجہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حاکمیت پر کامل یقین کا نہ ہونا تھا۔

مزید پڑھیں

 جب انسان ایک اللہ کو نفع و نقصان، زندگی و موت اور خیر و شر کا حقیقی مالک نہیں سمجھتا تو وہ مختلف چیزوں، تاریخوں، آوازوں اور واقعات سے امیدیں اور اندیشے وابستہ کر لیتا ہے۔ 

اسے انسان پر موروثی رسم و رواج دل و دماغ پر اس قدر غالب آ جاتے ہیں کہ وہ حق بات سننے اور اپنی معاشرتی روایات کا جائزہ لینے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتا۔

 رسول اکرمﷺ نے بعثت کے بعد سب سے پہلے توحید کی دعوت دی۔

 آپﷺ نے انسانوں کو سمجھایا کہ عبادت، دعا اور سجدے کے لائق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، جو زمین و آسمان اور پوری کائنات کی خالق و مالک ہے۔ 

545641

عزت و ذلت، خوشی و غم اور نفع و نقصان اسی کے اختیار میں ہیں۔ 

اس کے حکم کے بغیر کائنات کا کوئی ذرہ حرکت نہیں کر سکتا۔ 

جب انسان کے دل میں توحید کا یہ یقین مضبوط ہو جاتا ہے تو وہ توہمات، بدشگونی اور فرسودہ رسوم کی غلامی سے آزاد ہو جاتا ہے۔

جو لوگ کبھی بے شمار اوہام میں مبتلا تھے، ایمان لانے کے بعد توحید کے ایسے علم بردار بنے کہ شدید آزمائشوں میں بھی غیر اللہ کے سامنے نہیں جھکے۔ 

انہیں اذیتیں دی گئیں، مصائب کی بھٹیوں سے گزارا گیا اور جانوں کی قربانیاں پیش کرنا پڑیں، لیکن انہوں نے ایمان کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ 

یہ تبدیلی اس حقیقت کی روشن دلیل تھی کہ مضبوط ایمان انسان کو ہر طرح کے خوف، وہم اور باطل عقیدے سے نجات دلا دیتا ہے۔

افسوس کہ آج بھی ہمارے معاشرے میں بہت سے توہمات موجود ہیں۔ 

بعض علاقوں میں ماہِ صفر کے دوران شادی، سفر، کاروبار یا کسی نئے کام کے آغاز سے صرف اس لیے گریز کیا جاتا ہے کہ اس مہینے کو منحوس اور بے برکت سمجھا جاتا ہے۔ 

یہ خیال بھی پایا جاتا ہے کہ صفر میں شروع کیا جانے والا کام مکمل نہیں ہوتا۔ 

خصوصاً تیرھویں صفر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس رات بکثرت مصیبتیں نازل ہوتی ہیں اور اسے ’تیرہ تیزی‘ کا نام دیا جاتا ہے۔

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کوئی مہینہ، دن، تاریخ یا لمحہ بذاتِ خود منحوس نہیں ہوتا۔ وقت، زمانہ اور تمام مہینے اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہیں۔ 

ماہِ صفر بھی اسی کا پیدا کیا ہوا ہے، لہٰذا اسے مستقل طور پر نحوست اور نقصان کا سرچشمہ سمجھنا اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور حکمت کے متعلق بدگمانی پیدا کرتا ہے۔ 

زندگی میں پیش آنے والے واقعات کو کسی دن یا مہینے سے جوڑنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی مشیت پر یقین رکھنا اور حقیقی اسباب کا جائزہ لینا چاہیے۔

خصوصی رپورٹ
صرف آپ کے لیے، کلک کریں

توہم پرستی کی ایک تکلیف دہ صورت انسانوں کو منحوس قرار دینا ہے۔ 

اگر کسی گھر میں نئی دلہن کی آمد کے بعد کوئی شخص بیمار ہو جائے، کسی کا انتقال ہو جائے یا کاروباری نقصان پیش آ جائے تو بعض لوگ ان واقعات کو اس لڑکی سے جوڑ دیتے ہیں۔ 

اسے منحوس کہا جاتا ہے اور کبھی یہی بے بنیاد الزام ازدواجی زندگی کو طلاق تک پہنچا دیتا ہے۔ 

اگر کسی عورت کے شوہر کا انتقال ہو جائے تو اس کی دوسری شادی بھی اس تصور کے تحت مشکل بنا دی جاتی ہے کہ وہ جس گھر میں جائے گی وہاں مصیبت لے کر آئے گی۔

یہ رویہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہونے کے ساتھ ایک بے گناہ عورت پر کھلا ہوا ظلم بھی ہے۔ موت، بیماری اور نقصان کے فیصلے اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔ 

کسی دلہن، بیوہ یا دوسرے انسان کو ایسے واقعات کا ذمہ دار ٹھہرانا، جن پر اس کا کوئی اختیار نہیں، اس کی عزت اور زندگی تباہ کرنے کے مترادف ہے۔

اسی طرح نئے مکان میں کسی کی بیماری یا وفات کے بعد مکان کو منحوس قرار دے دیا جاتا ہے۔ 

کبھی کہا جاتا ہے کہ اس پر جنات یا شیطان کا سایہ ہے، لہٰذا اسے فروخت کر دینا چاہیے۔

 کاروبار میں ابتدائی نقصان ہو تو اسے بھی نامبارک سمجھ کر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ 

حقیقت یہ ہے کہ مکان یا کاروبار میں بذاتِ خود نحوست نہیں ہوتی۔ کاروباری نقصان کے معاشی اور انتظامی اسباب ہو سکتے ہیں، جبکہ بیماری اور موت اللہ تعالیٰ کے نظامِ تقدیر کے مطابق آتی ہیں۔

545641 1

ایک مومن جائز اسباب اختیار کرتا، احتیاط برتتا اور اپنی کوتاہیوں کی اصلاح کرتا ہے، لیکن کسی چیز کو نفع و نقصان کا مستقل مالک نہیں سمجھتا۔ 

بیماری کے بارے میں بھی اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ کسی مرض میں اللہ تعالیٰ سے الگ کوئی خودمختار طاقت نہیں۔ 

تاہم اس کا مطلب احتیاط اور علاج کو چھوڑ دینا نہیں، کیونکہ بیماریوں سے بچاؤ، مناسب احتیاط اور مستند علاج بھی اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ اسباب میں شامل ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

تم جہاں کہیں بھی ہو، موت تمہیں آ کر رہے گی، خواہ تم مضبوط قلعوں میں ہو۔ 

اگر انہیں کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، اور اگر کوئی برائی پہنچتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ آپ کی وجہ سے ہے۔ 

کہہ دیجیے: سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ (سورۃ النساء: 78)

حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان زمانے کو برا کہہ کر مجھے اذیت دیتا ہے، حالانکہ زمانے کا انتظام میرے اختیار میں ہے اور میں ہی رات اور دن کو بدلتا ہوں۔ (صحیح بخاری)

لہٰذا مسلمان کو زمانے، مہینوں اور اپنے گرد و پیش کو برا کہنے کے بجائے اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنا چاہیے۔ 

ہر مصیبت کو لازماً اللہ کی ناراضی نہیں سمجھنا چاہیے؛ کیونکہ کبھی مشکلات انسان کی آزمائش، گناہوں کی معافی اور درجات کی بلندی کا ذریعہ بھی بنتی ہیں۔ 

مومن حالات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیتا ہے، اپنی غلطیوں کی اصلاح کرتا ہے اور نتیجہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیتا ہے۔

آپ بھی لکھیں
آپ کی تحریر شائع کر کے ہمیں خوشی ہوگی
✍️
📄

والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کو مضبوط دینی شعور اور توحید کی تعلیم دیں۔ 

اگر کسی تعلیمی ماحول میں بچوں کو دوسرے مذاہب کی عبادات یا ایسی مذہبی رسومات میں شریک ہونے پر مجبور کیا جائے جو اسلامی عقیدے سے متصادم ہوں تو والدین کو حکمت اور باوقار انداز میں اپنے بچوں کے ایمان کی حفاظت کرنی چاہیے۔ 

دوسری تہذیبوں کے احترام اور ان کی مذہبی عبادات اختیار کرنے کے درمیان واضح فرق ہے۔

اسی طرح بیماری کے علاج کے لیے ایسے افراد سے رجوع کرنا درست نہیں جو مشرکانہ منتر، اشلوک یا غیر اسلامی اعمال کو علاج کا حصہ بناتے ہوں۔ 

اسلام مستند طبی علاج سے منع نہیں کرتا، بلکہ علاج اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ 

طبی اسباب کے ساتھ قرآن و حدیث سے ثابت دعائیں اور مسنون اذکار پڑھے جا سکتے ہیں، لیکن علاج کے نام پر عقیدۂ توحید سے سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔

ہمارے معاشرے میں پھیلے ہوئے بیشتر توہمات ایمان کی کمزوری، دینی علم کی کمی اور موروثی رسوم کی اندھی پیروی کا نتیجہ ہیں۔ 

اگر ہم اپنے گھروں میں رحمت و برکت، زندگی میں اطمینان اور آخرت میں کامیابی چاہتے ہیں تو ہمیں اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط کرنا ہوگا۔ 

توحید کو صرف زبان کے اقرار تک محدود رکھنے کے بجائے اپنے فیصلوں اور عملی زندگی میں بھی اس کا اظہار کرنا ہوگا۔

مومن کسی مہینے، دن، انسان، مکان یا کاروبار کو منحوس نہیں سمجھتا۔ 

وہ جائز تدابیر اختیار کرتا اور پھر اللہ تعالیٰ پر بھروسا رکھتا ہے۔ اسے یقین ہوتا ہے کہ اللہ کے حکم کے بغیر دنیا کی کوئی طاقت نہ نقصان پہنچا سکتی ہے اور نہ کوئی مصیبت دور کر سکتی ہے۔ 

یہی پختہ یقین انسان کو توہمات کی تاریکی سے نکال کر ایمان، اطمینان اور حقیقی آزادی کی روشنی عطا کرتا ہے۔

فکر و نفس کی تربیت، دین و دنیا کی رہنمائی، کلک کریں

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے