قرآن و سنت کی روشنی میں صفر المظفر کی حقیقت اور سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی غلط فہمیوں کا جائزہ
محمد نجیب قاسمی
انڈیا
ماہِ صفر کو منحوس سمجھنا زمانۂ جاہلیت کا عقیدہ ہے، جسے اسلام نے واضح طور پر رد کر دیا۔
قرآن و سنت کی روشنی میں نہ کوئی مہینہ منحوس ہے اور نہ کوئی دن، بلکہ خیر و شر کا تعلق انسان کے اعمال سے ہے۔
مضمون میں صفر سے متعلق عام غلط فہمیوں، آخری بدھ کی حقیقت، سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غیر مستند دینی معلومات اور تحقیق کی شرعی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
اسلامی سال کا دوسرا مہینہ صفر المظفر ہے، جو محرم الحرام کے بعد اور ربیع الاول سے قبل آتا ہے۔
شریعتِ اسلامیہ کی نظر میں یہ بھی دیگر مہینوں کی طرح ایک معمول کا مہینہ ہے۔
اس کے لیے نہ کوئی مخصوص عبادت مقرر کی گئی ہے اور نہ ہی اسے نحوست، آفات یا مصیبتوں کا مہینہ قرار دیا گیا ہے۔
بدقسمتی سے آج بھی بعض لوگ زمانۂ جاہلیت کے باطل تصورات کو دینی تعلیمات سمجھ بیٹھتے ہیں، حالانکہ قرآنِ کریم اور احادیثِ نبویﷺ میں اس عقیدے کی کوئی بنیاد موجود نہیں۔
عہدِ جاہلیت میں عربوں کا عقیدہ تھا کہ ماہِ صفر منحوس ہے، اس لیے وہ اس مہینے میں سفر، شادی اور دیگر اہم معاملات سے اجتناب کرتے تھے۔
مزید پڑھیں
اسلام نے آکر ان تمام توہمات کا خاتمہ کیا اور واضح کردیا کہ خیر و شر کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، کسی مہینے، دن یا وقت کے ہاتھ میں نہیں۔
اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے اس غلط عقیدے کی صراحت کے ساتھ تردید فرمائی۔
صحیح بخاری میں روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
صفر ’کو منحوس سمجھنا‘ بے حقیقت بات ہے۔ (بخاری)
یہ مختصر فرمان اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ ماہِ صفر میں نحوست کا عقیدہ اسلام کی تعلیم نہیں بلکہ جاہلیت کی باقیات میں سے ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ نحوست کسی مہینے یا تاریخ میں نہیں، بلکہ انسان کے اعمال میں ہوتی ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے، اس کے لیے ہر دن، ہر ساعت اور ہر مہینہ خیر و برکت کا ذریعہ بن جاتا ہے، جبکہ نافرمانی اختیار کرنے والا اپنی بداعمالیوں کے سبب خود اپنے لیے محرومی اور نقصان کا راستہ ہموار کرتا ہے۔
نمازِ فجر کا وقت اس حقیقت کی بہترین مثال ہے۔
ایک ہی وقت میں کچھ لوگ اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوتے ہیں اور کچھ غفلت میں پڑے رہتے ہیں۔
وقت تو ایک ہی تھا، مگر ایک کے لیے وہ رحمت و برکت کا ذریعہ بنا اور دوسرے کے لیے محرومی کا سبب۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ برکت یا نحوست وقت میں نہیں بلکہ انسان کے اپنے عمل میں ہوتی ہے۔
اسی مضمون کو حدیثِ قدسی میں نہایت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
آدم کی اولاد زمانے کو برا بھلا کہتی ہے، حالانکہ زمانہ میرے اختیار میں ہے، رات اور دن کی گردش میں کرتا ہوں۔ (بخاری)
یعنی زمانہ بذاتِ خود نہ کسی کو نقصان پہنچاتا ہے اور نہ فائدہ دیتا ہے، بلکہ ہر واقعہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور حکمت کے مطابق پیش آتا ہے۔
بدقسمتی سے ہر سال ماہِ صفر کے آغاز کے ساتھ سوشل میڈیا پر ایسے پیغامات گردش کرنے لگتے ہیں جن میں اسے مصیبتوں کا مہینہ قرار دیا جاتا ہے، مخصوص وظائف، دعائیں اور رسومات بیان کی جاتی ہیں یا شادی، سفر اور کاروبار سے منع کیا جاتا ہے، حالانکہ ان دعوؤں کی نہ قرآن میں کوئی اصل ہے، نہ سنت میں اور نہ ہی امت کے معتبر علماء نے انہیں تسلیم کیا ہے۔
صفر المظفر کے بارے میں ایک اور غلط فہمی یہ بھی پائی جاتی ہے کہ اس مہینے کے آخری بدھ کو خوشی کی تقریبات منعقد کی جائیں یا مٹھائیاں تقسیم کی جائیں۔
بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس دن رسول اللہﷺ صحت یاب ہوئے تھے، حالانکہ مستند تاریخی روایات اس کی تائید نہیں کرتیں۔
اسی طرح یہ تصور بھی غلط ہے کہ صفر کے ابتدائی تیرہ دن منحوس ہوتے ہیں یا اس دوران شادی اور نئے کام کا آغاز نہیں کرنا چاہیے۔
سیرتِ نبویﷺ اور اسلامی تاریخ میں ایسی کوئی تعلیم موجود نہیں، بلکہ متعدد اہم واقعات اسی مہینے میں پیش آئے ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ ایسے پیغامات کو پڑھے بغیر، تحقیق کیے بغیر اور ان کی صحت جانچے بغیر دوسروں تک پہنچا دیتے ہیں، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے۔
آپﷺ کا ارشاد ہے:
جس نے میری طرف ایسی بات منسوب کی جو میں نے نہیں کہی، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔ (بخاری)
اور ایک دوسری حدیث میں فرمایا:
آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے بیان کرتا پھرے۔ (مسلم)
آج سوشل میڈیا علم کی اشاعت کا مؤثر ذریعہ ہے، لیکن اسی کے ذریعے بے شمار جھوٹے اور غیر مستند دینی پیغامات بھی پھیلائے جاتے ہیں۔
کبھی کہا جاتا ہے کہ فلاں دعا اتنے افراد کو بھیجنے سے ہر مشکل حل ہو جائے گی، کبھی کسی پیغام کو آگے نہ بھیجنے پر محرومی کی وعید سنائی جاتی ہے، اور کبھی جنت کی بشارتیں بانٹی جاتی ہیں۔
ایسے تمام پیغامات کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ یہ عموماً جھوٹ اور فریب پر مبنی ہوتے ہیں۔
قرآنِ کریم نے ہر خبر کی تحقیق کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:
اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو۔ (سورۃ الحجرات: 6)
اسلامی تاریخ بھی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جھوٹی خبروں نے امت کو ہمیشہ نقصان پہنچایا۔ غزوۂ اُحد میں رسول اللہ ﷺ کی شہادت کی جھوٹی خبر نے مسلمانوں کے حوصلے متزلزل کر دیے، جبکہ واقعۂ افک میں حضرت عائشہؓ پر لگائے گئے بہتان نے پورے معاشرے کو اضطراب میں مبتلا کر دیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ان کی براءت نازل فرمائی۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
ان میں سے ہر شخص پر اتنا ہی گناہ ہے جتنا اس نے کمایا، اور جس نے اس بہتان میں سب سے بڑا کردار ادا کیا، اس کے لیے بڑا عذاب ہے۔ (سورۃ النور: 11)
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
انسان جو بات بھی زبان سے نکالتا ہے، اس کے پاس ایک نگہبان فرشتہ اسے فوراً لکھ لیتا ہے۔ (سورۃ ق: 18)
حقیقت یہ ہے کہ صفر المظفر نہ نحوست کا مہینہ ہے اور نہ ہی آفات و مصائب کے نزول کا زمانہ۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ دوسرے مہینوں کی طرح خیر، برکت اور نیکیوں کے مواقع سے بھرپور مہینہ ہے۔
انسان کی کامیابی یا ناکامی کا تعلق کسی مہینے سے نہیں بلکہ اس کے ایمان، کردار اور اعمال سے ہے۔
لہٰذا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے عقائد کو قرآن و سنت کے مطابق رکھے، غیر مستند روایات سے اجتناب کرے، تحقیق کے بغیر کسی دینی پیغام کو آگے نہ بڑھائے اور سوشل میڈیا کو علم، خیر اور دعوتِ دین کا ذریعہ بنائے۔
اگر صفر کے متعلق کوئی غیر مستند یا توہمات پر مبنی پیغام موصول ہو تو اسے آگے بھیجنے کے بجائے حذف کر دیا جائے، کیونکہ یہی دین کی حفاظت، سنت کی پیروی اور ایک ذمہ دار مسلمان کا شیوہ ہے۔