براہ راست نشریات

اللہ تعالیٰ کا فضل ہے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
اللہ کا فضل

صادق رضا مصباحی

ممبئی

یہ مضمون اس غلط سماجی تصور پر تنقید کرتا ہے کہ دولت، شہرت اور اثر و رسوخ کو ہی ’اللہ کا فضل‘ سمجھ لیا گیا ہے۔
مصنف کے نزدیک اللہ کا حقیقی فضل ان لوگوں پر ہوتا ہے جو رزقِ حلال کماتے، دیانت داری سے زندگی گزارتے اور اخلاقی اصولوں پر قائم رہتے ہیں، نہ کہ ناجائز ذرائع سے کامیابی حاصل کرنے والوں پر۔

ایک دولت مند تاجر نے اپنے خزانے کے دروازے پر فخر سے لکھوا رکھا تھا:

هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّي
یہ میرے رب کے فضل سے ہے

رات کے اندھیرے میں ایک چور آیا، سارا خزانہ سمیٹ کر لے گیا مگر جاتے جاتے اسی دیوار پر ایک اور جملہ لکھ گیا:

إِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصَّابِرِينَ
بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

قدریں بدل
چکی ہیں
اسی تبدیلی کا
نتیجہ ہے کہ
ہمیں’اچھے‘ انسان
پر اللہ کا فضل
نظر نہیں آتا
’بڑے‘ انسان پر
نظر آتا ہے

یہ لطیفہ ہم میں سے اکثر نے کئی بار سنا ہوگا، مگر اس کی ظرافت کے پردے میں ایک گہرا سبق اور ایک بڑی عبرت پوشیدہ ہے، جسے دیکھنے کے لیے صرف آنکھیں نہیں، بصیرت بھی درکار ہے۔
آج ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم جھوٹ، فریب، دھوکے اور ظلم کی بنیاد پر دولت کماتے ہیں، پھر اسی دولت کو بے جھجک ’اللہ کا فضل‘ قرار دیتے ہیں۔
ہم منافقت اور چاپلوسی کو ہنر سمجھتے ہیں، لوگوں کا حق مارتے ہیں، ناجائز ذرائع سے مال جمع کرتے ہیں، اور پھر اسی پر خدا کا شکر ادا کرتے نہیں تھکتے۔
حیرت ہے کہ یہ سب کرتے ہوئے نہ دل میں خوفِ خدا پیدا ہوتا ہے اور نہ یہ احساس جاگتا ہے کہ شاید یہ دولت نعمت نہیں، آزمائش ہو۔
مادّی ترقی کی دوڑ نے ہمیں اتنا مصروف کر دیا ہے کہ رک کر اپنے ضمیر سے سوال کرنے کی فرصت بھی باقی نہیں رہی۔
اس کے باوجود معاشرے میں دین داری کی کچھ رمق، اخلاص کی کچھ خوشبو اور ایمان کی کچھ حدّت اب بھی موجود ہے۔
یہی امید کی کرن ہے۔

اگرچہ ہماری مذہبیت شعور سے زیادہ روایت کی اسیر بن چکی ہے، مگر اس کی جڑیں ابھی پوری طرح خشک نہیں ہوئیں۔

المیہ یہ نہیں کہ لوگ ’اللہ کے فضل‘ کا ذکر کرتے ہیں، المیہ یہ ہے کہ اس فضل کا معیار بدل چکا ہے۔

مزید پڑھیں

آخر کیا ہر وہ دولت، جو ناجائز ذرائع سے کمائی گئی ہو، اللہ کے فضل کی مستحق ہو سکتی ہے؟ 

کیا دوسروں کے حقوق غصب کر کے حاصل کی گئی کامیابی بھی خدا کی عنایت کہلائے گی؟ 

کیا چاپلوسی، موقع پرستی اور مفاد پرستی کے ذریعے حاصل ہونے والی شہرت بھی فضلِ الٰہی ہے؟

بدقسمتی سے آج ہمارے معاشرے میں جواب اکثر ’ہاں‘ میں دیا جاتا ہے۔

ہم جس شخص کے پاس دولت دیکھتے ہیں، جس کے تعلقات بااثر لوگوں سے ہوتے ہیں، جس کے گرد شہرت کا ہالہ ہوتا ہے، فوراً کہتے ہیں: 

’اللہ نے بڑا فضل کیا ہے۔‘ 

پھر اسی کے سامنے جھکنے میں، اس کی خوشامد کرنے میں اور اس کی مجلس کا حصہ بننے میں اپنی عزت محسوس کرتے ہیں۔

اس کے برعکس وہ لوگ، جو سچے، دیانت دار، بااخلاق اور اللہ کے مخلص بندے ہوتے ہیں، اکثر دولت و شہرت کی بلندیوں تک نہیں پہنچ پاتے۔ 

ChatGPT Image 13 يوليو 2026، 10 45 04 م

اس لیے نہیں کہ ان میں صلاحیت کی کمی ہوتی ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ وہ راستے اختیار نہیں کرتے جو دنیا میں جلد کامیابی دلاتے ہیں۔ 

ان کے پاس چاپلوسی کا ہنر نہیں، مفاد پرستی کا فن نہیں، اور ضمیر بیچنے کی مہارت نہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ اللہ کا حقیقی فضل کس پر ہے؟

کیا اس شخص پر، جو ہر قیمت پر دولت سمیٹ لے؟ 

یا اس انسان پر، جو رزقِ حلال کمائے، سچ بولے، وعدہ نبھائے، اپنے اہلِ خانہ اور پڑوسیوں کا حق ادا کرے، اور کسی کمزور کا حق نہ مارے؟

جواب ہر صاحبِ عقل جانتا ہے، مگر ہماری سماجی قدریں اس جواب کے برعکس کھڑی دکھائی دیتی ہیں۔

خصوصی رپورٹ
صرف آپ کے لیے، کلک کریں

آج ہم نے ’بڑا آدمی‘ اور ’اچھا آدمی‘ ایک دوسرے کا مترادف سمجھنا چھوڑ دیا ہے۔ 

ہمارے نزدیک بڑا وہ ہے جس کے پاس دولت ہے، شہرت ہے، اثر و رسوخ ہے، چاہے اس کے کردار میں کتنی ہی خرابیاں کیوں نہ ہوں۔ 

جبکہ اچھا انسان، جو دیانت اور تقویٰ کے ساتھ زندگی گزارتا ہے، ہماری نگاہ میں اکثر گمنام رہ جاتا ہے۔

یہی اقدار کی سب سے بڑی شکست ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اللہ کا فضل دولت کی فراوانی کا نام نہیں، بلکہ دل کی پاکیزگی، رزق کی حلالی، کردار کی سچائی اور زندگی کی دیانت داری کا نام ہے۔ 

اللہ کا فضل اس شخص پر ہے جو ظلم سے بچے، حق ادا کرے، حلال کمائے، اور اپنی کامیابی کو دوسروں کے استحصال کی بنیاد نہ بنائے۔

ChatGPT Image 13 يوليو 2026، 10 39 32 م

اس لیے معاشرے کی سب سے بڑی ضرورت صرف معاشی اصلاح نہیں، بلکہ فکری اصلاح ہے۔ ہمیں لوگوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ فضلِ الٰہی کا حقیقی مفہوم کیا ہے، اور کن لوگوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارا دور صرف اقدار کے زوال کا نہیں، بلکہ الفاظ کی بے حرمتی کا دور بھی ہے۔ 

لفظ اپنے اصل معنی کھو رہے ہیں، ان کا اغوا کیا جا رہا ہے، اور انہیں مفادات کے مطابق نئے مفہوم پہنائے جا رہے ہیں۔

ایسے میں ضروری ہے کہ ہم خوش نما نعروں، بلند بانگ دعوؤں، بھاری بھرکم الفاظ اور چمکتی ہوئی کامیابیوں کے سحر میں گرفتار ہونے کے بجائے، کردار کی روشنی میں انسانوں کو پرکھیں۔

کیونکہ اللہ کا فضل ہمیشہ ’بڑے‘ لوگوں پر نہیں ہوتا، بلکہ ’اچھے‘ لوگوں پر ہوتا ہے۔

آپ بھی لکھیں
آپ کی تحریر شائع کر کے ہمیں خوشی ہوگی
✍️
📄

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے