یہ مضمون اس غلط سماجی تصور پر تنقید کرتا ہے کہ دولت، شہرت اور اثر و رسوخ کو ہی ’اللہ کا فضل‘ سمجھ لیا گیا ہے۔
مصنف کے نزدیک اللہ کا حقیقی فضل ان لوگوں پر ہوتا ہے جو رزقِ حلال کماتے، دیانت داری سے زندگی گزارتے اور اخلاقی اصولوں پر قائم رہتے ہیں، نہ کہ ناجائز ذرائع سے کامیابی حاصل کرنے والوں پر۔
یہ لطیفہ ہم میں سے اکثر نے کئی بار سنا ہوگا، مگر اس کی ظرافت کے پردے میں ایک گہرا سبق اور ایک بڑی عبرت پوشیدہ ہے، جسے دیکھنے کے لیے صرف آنکھیں نہیں، بصیرت بھی درکار ہے۔
آج ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم جھوٹ، فریب، دھوکے اور ظلم کی بنیاد پر دولت کماتے ہیں، پھر اسی دولت کو بے جھجک ’اللہ کا فضل‘ قرار دیتے ہیں۔
ہم منافقت اور چاپلوسی کو ہنر سمجھتے ہیں، لوگوں کا حق مارتے ہیں، ناجائز ذرائع سے مال جمع کرتے ہیں، اور پھر اسی پر خدا کا شکر ادا کرتے نہیں تھکتے۔
حیرت ہے کہ یہ سب کرتے ہوئے نہ دل میں خوفِ خدا پیدا ہوتا ہے اور نہ یہ احساس جاگتا ہے کہ شاید یہ دولت نعمت نہیں، آزمائش ہو۔
مادّی ترقی کی دوڑ نے ہمیں اتنا مصروف کر دیا ہے کہ رک کر اپنے ضمیر سے سوال کرنے کی فرصت بھی باقی نہیں رہی۔
اس کے باوجود معاشرے میں دین داری کی کچھ رمق، اخلاص کی کچھ خوشبو اور ایمان کی کچھ حدّت اب بھی موجود ہے۔
یہی امید کی کرن ہے۔