براہ راست نشریات

ورلڈ کپ 2026: عرب ٹیموں کی ریکارڈ کمائی، 115 ملین ڈالر

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ورلڈ کپ 2026 عرب ٹیموں کی انعامی رقم

فیفا ورلڈ کپ 2026 عرب ممالک کے لیے صرف کھیل کا نہیں بلکہ معاشی کامیابی کا بھی ٹورنامنٹ ثابت ہوا۔
8 عرب ٹیموں نے مجموعی طور پر 115 ملین ڈالر کی ریکارڈ انعامی رقم حاصل کی، جو قطر 2022 کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہے۔
مراکش 21.5 ملین ڈالر کے ساتھ سرفہرست رہا، مصر نے 17.5 ملین ڈالر کے ساتھ اپنی تاریخ کی بہترین کمائی کی، جبکہ الجزائر نے 13.5 ملین ڈالر حاصل کئے۔

Overseas Post | اسپورٹس اکنامی

ورلڈ کپ 2026 عرب دنیا کے لیے صرف فٹبال کا میلہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک ایسا ٹورنامنٹ بھی ثابت ہوا جس نے میدانِ کھیل کی کامیابی کو براہِ راست معاشی طاقت میں بدل دیا۔ 

8 عرب ٹیموں نے مجموعی طور پر 115 ملین ڈالر کی ریکارڈ انعامی رقم حاصل کی، جو 4 سال قبل قطر ورلڈ کپ 2022 کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہے۔

اس مرتبہ کامیابی صرف گول کرنے والوں کی نہیں تھی، بلکہ ان قومی فیڈریشنز کی بھی تھی جنہوں نے ہر اگلے مرحلے کے ساتھ لاکھوں ڈالر کی اضافی آمدنی اپنے نام کی۔ 

جدید ورلڈ کپ میں ہر جیت صرف اسکور بورڈ نہیں بدلتی بلکہ مالی توازن بھی تبدیل کر دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

عرب ٹیموں کی کارکردگی، کمائی میں بھی نظر آئی

مراکش، مصر اور الجزائر نے گروپ مرحلہ عبور کرکے ناک آؤٹ راؤنڈ تک رسائی حاصل کی، جس کا براہِ راست فائدہ انعامی رقم کی صورت میں ملا۔ 

اس کے برعکس سعودی عرب، قطر، اردن، تیونس اور عراق ابتدائی مرحلے ہی میں باہر ہوگئے، اس لیے انہیں بنیادی شرکت کی رقم سے آگے کوئی

 مالی فائدہ حاصل نہ ہوسکا۔

اعداد و شمار کے مطابق عرب ٹیموں نے مجموعی طور پر 115 ملین ڈالر کمائے، جو فیفا کے 871 ملین ڈالر کے انعامی فنڈ کا تقریباً 13.2 فیصد بنتا ہے۔ 

یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ عالمی فٹبال میں عرب ممالک کی موجودگی اب صرف عددی نہیں بلکہ مالی اعتبار سے بھی مؤثر ہوتی جا رہی ہے۔

ChatGPT Image 30 يونيو 2026، 12 35 27 م

مراکش پھر عرب دنیا کا نمبر ون

ورلڈ کپ 2022 میں تاریخ رقم کرنے کے بعد مراکش نے 2026 میں بھی اپنی برتری برقرار رکھی۔ کوارٹر فائنل تک رسائی نے اسے 21.5 ملین ڈالر دلوائے، جو تمام عرب ٹیموں میں سب سے زیادہ ہیں۔

اس رقم میں تیاریوں، شرکت اور ہر مرحلے میں کامیابی کے ساتھ ملنے والی اضافی انعامی رقم شامل ہے، جس نے ایک مرتبہ پھر مراکش کو عرب فٹبال کی معاشی اور فنی قیادت کے مقام پر لا کھڑا کیا۔

مصر نے صرف تاریخ نہیں بدلی، آمدنی بھی بڑھا دی

مصری ٹیم نے پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی حاصل کی اور اگرچہ راؤنڈ آف 16 میں ارجنٹینا کے ہاتھوں باہر ہوگئی، لیکن اس کی مالی کامیابی غیر معمولی رہی۔

مصر نے 17.5 ملین ڈالر حاصل کیے، جو روس 2018 کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہیں۔ 

یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بہتر نتائج اب قومی فیڈریشنز کے لیے مضبوط مالی وسائل بھی پیدا کرتے ہیں۔

خصوصی رپورٹ
صرف آپ کے لیے، کلک کریں

الجزائر نے بھی فائدہ اٹھایا

الجزائر نے راؤنڈ آف 32 تک رسائی حاصل کرکے 13.5 ملین ڈالر کمائے اور عرب ٹیموں میں تیسری بڑی انعامی رقم اپنے نام کی۔

پانچ ٹیمیں بنیادی انعام تک محدود رہیں

سعودی عرب، قطر، اردن، تیونس اور عراق کو فیفا کی جانب سے تیاریوں اور شرکت کی مد میں 12.5، 12.5 ملین ڈالر ملے۔

اگرچہ سعودی عرب نے دو اور قطر نے ایک پوائنٹ حاصل کیا، لیکن ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ نہ بنانے کے باعث ان کی آمدنی میں کوئی اضافہ نہ ہوسکا۔ 

اردن اپنے پہلے ورلڈ کپ، عراق 40 سال بعد واپسی اور تیونس اپنی مایوس کن مہم کے باوجود بنیادی انعامی رقم تک محدود رہے۔

صرف کھیل نہیں، ایک معاشی ماڈل بھی

ورلڈ کپ 2026 نے یہ بھی واضح کردیا کہ عالمی فٹبال اب محض کھیل نہیں بلکہ ایک بڑی معاشی صنعت ہے، جہاں ہر اگلا مرحلہ کروڑوں ڈالر کی اضافی آمدنی کا دروازہ کھولتا ہے۔

AI
فیفا ورلڈ کپ 2026
0
ملین ڈالر

ورلڈ کپ میں شریک عرب ٹیموں کی مجموعی انعامی آمدنی

آٹھ عرب ٹیموں نے عالمی فٹبال کے سب سے بڑے ایونٹ سے مجموعی طور پر 115 ملین ڈالر حاصل کیے

مراکش مراکش
01
سب سے زیادہ
21.5 ملین ڈالر
مصر مصر
02
دوسرا نمبر
17.5 ملین ڈالر
الجزائر الجزائر
03
تیسرا نمبر
13.5 ملین ڈالر
سعودی عرب سعودی عرب
04
12.5 ملین
12.5 ملین ڈالر
قطر قطر
05
12.5 ملین
12.5 ملین ڈالر
اردن اردن
06
12.5 ملین
12.5 ملین ڈالر
تیونس تیونس
07
12.5 ملین
12.5 ملین ڈالر
عراق عراق
08
12.5 ملین
12.5 ملین ڈالر
💰
115 ملین ڈالر عرب ٹیموں کی مجموعی آمدنی
🌍
8 عرب ٹیمیں ورلڈ کپ میں شریک ممالک
🏆
871 ملین ڈالر فیفا کا مجموعی انعامی فنڈ
📈
ریکارڈ اضافہ گزشتہ ورلڈ کپ کے مقابلے میں

عرب ممالک نے حالیہ برسوں میں فٹبال اکیڈمیوں، انفراسٹرکچر، مقامی لیگوں اور نوجوان کھلاڑیوں پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے، اور اس ورلڈ کپ کے نتائج اس حکمتِ عملی کے ثمرات کی جھلک بھی پیش کرتے ہیں۔

پاکستان کے لیے کیا سبق ہے؟

اگرچہ پاکستان ورلڈ کپ کا حصہ نہیں، لیکن عرب ممالک کا تجربہ ایک اہم حقیقت سامنے لاتا ہے: 

کھیلوں پر سرمایہ کاری صرف تمغوں یا عالمی شہرت کے لیے نہیں ہوتی بلکہ یہ معیشت، نوجوانوں کی ترقی، کھیلوں کی صنعت، میڈیا حقوق اور بین الاقوامی برانڈ ویلیو میں بھی اضافہ کرتی ہے۔

اسی لیے آج ورلڈ کپ میں ایک کامیاب مہم صرف کھیل کا کارنامہ نہیں بلکہ کروڑوں ڈالر کی معاشی کامیابی بھی سمجھی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ ورلڈ کپ 2026 کی فاتح ٹیم کو 50 ملین ڈالر کی انعامی رقم ملے گی، جبکہ رنر اپ کو 33 ملین ڈالر، تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیم کو 29 ملین ڈالر اور چوتھے نمبر پر آنے والی ٹیم کو 27 ملین ڈالر ملیں گے۔ 

فیفا نے اس ایڈیشن کے لیے مجموعی طور پر 871 ملین ڈالر کی ریکارڈ مالی تقسیم کی منظوری دی ہے، جو ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے بڑی انعامی رقم ہے۔

اصل ذرائع و حوالہ جات ورلڈ کپ 2026، انعامی رقم اور ٹیموں کی کارکردگی سے متعلق معتبر ذرائع 8 معتبر ذرائع