فیفا ورلڈ کپ 2026 مالیاتی طور پر تاریخ کا کامیاب ترین ایونٹ ثابت ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیں
اگرچہ ریفری کے فیصلوں، سیاسی مداخلت اور ٹکٹوں کی قیمتوں پر تنقید جاری ہے، لیکن عالمی فٹبال فیڈریشن ’فیفا‘ کی آمدن میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، جس نے کھیلوں کی صنعت میں نئے معیار قائم کیے ہیں۔
تجارتی ڈھانچے میں انقلابی تبدیلی
یہ پہلا ورلڈ کپ ہے جس کی میزبانی امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔
ٹورنامنٹ میں ٹیموں کی تعداد 32 سے بڑھا کر 48 کر دی گئی ہے، جبکہ میچوں کی تعداد 64 سے بڑھ کر 104 ہو گئی ہے، جس سے براڈکاسٹنگ اور اسپانسرشپ کی مارکیٹ وسیع ہوئی ہے۔
آمدنی کے نئے ریکارڈ
’ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلی جنس‘ کے مطابق یہ 28 برس میں سب سے بڑی تجارتی تنظیم نو ہے۔
فیفا کو اس سال تقریباً 9 ارب ڈالر کی آمدنی متوقع ہے، جس میں سے 3.9 ارب ڈالر صرف ٹیلی ویژن نشریات کے حقوق سے حاصل ہوں گے۔
ٹکٹوں اور میزبانی سے منافع
ورلڈ کپ 2026 کے لیے ٹکٹوں اور مہمان نوازی کے شعبے سے 3.1 ارب ڈالر آمدنی متوقع ہے۔
امریکی مارکیٹ کی قوتِ خرید اور 16 شہروں میں میزبانی کے ماڈل نے فیفا کو قطر ورلڈ کپ 2022 کے مقابلے میں کہیں زیادہ منافع کمانے کا موقع فراہم کیا ہے۔
فیفا ورلڈ کپ 2026: ریکارڈ آمدن
سیاسی مداخلت اور شدید تنازعات کے باوجود فٹبال انڈسٹری میں نیا مالیاتی ریکارڈ قائم
سیاسی مداخلت اور تنازعات
ٹورنامنٹ کے دوران اس وقت تنازع پیدا ہوا جب امریکی کھلاڑی فولارین بالوگن پر ریڈ کارڈ کے باوجود فیفا نے انہیں کھیلنے کی اجازت دی۔
اطلاعات ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جیانی انفانتینو سے گفتگو کے بعد یہ فیصلہ بدلا گیا، جس پر یورپی قانون سازوں نے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
ٹیموں کی انعامی رقم میں اضافہ
فیفا نے 48 ٹیموں کے لیے کل انعامی رقم میں 15 فیصد اضافہ کر کے اسے 871 ملین ڈالر کر دیا ہے۔
اب ہر ٹیم کو تیاری کے لیے 2.5 ملین اور کوالیفائی کرنے پر 10 ملین ڈالر مل رہے ہیں، یعنی ہر ٹیم کو کم از کم 12.5 ملین ڈالر کی ضمانت ہے۔
میزبان شہروں کی معیشت
’بینک آف امریکہ‘ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جون کے وسط میں میزبان شہروں میں کریڈٹ کارڈ کے اخراجات میں 6.3 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
غیر مقامی زائرین کے اخراجات میں 16.7 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جو مقامی معیشتوں کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔
انفانتینو کا مضبوط اثر و رسوخ
فیفا کے سربراہ جیانی انفانتینو بھی اس ایونٹ میں اپنی پوزیشن مستحکم رکھے ہوئے ہیں۔
ایشیائی اور افریقی فٹ بال فیڈریشنز، جن کے پاس 211 میں سے 101 ووٹ ہیں، نے 2027 کے صدارتی انتخابات کے لیے ان کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا ہے، جو ان کی سیاسی گرفت ظاہر کرتا ہے۔
ٹکٹوں کی قیمتوں کا بدلتا نظام
ورلڈکپ ٹکٹوں کی قیمتیں گروپ میچز کے لیے 60 ڈالر سے فائنل کے لیے 6,730 ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔
فیفا نے ’ویری ایبل پرائسنگ‘ کا ماڈل اپنایا ہے، جس کے تحت طلب کے مطابق قیمتوں میں تبدیلی کی جاتی ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ فیفا ورلڈ کپ 2026 مالی کامیابیوں کے اعتبار سے بے مثال ہے، تاہم سیاسی دباؤ اور کھیل کے اصولوں پر اثر انداز ہونے والی خبریں فیفا کی شفافیت کے لیے چیلنج بنی ہوئی ہیں۔
مستقبل میں فیفا کا تجارتی ماڈل تو کامیاب رہے گا، مگر اسے غیر جانبدارانہ ساکھ بحال رکھنے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔